’لو گرو‘ سے ہندو گروپ ناراض | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں مقیم ہندؤں نے ہالی ووڈ کی ایک مزاحیہ فلم کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ہے۔ احتجاجیوں کا الزام ہے کہ اس فلم کی نمائش سے پوری دنیا کے لاکھوں ہندؤں کے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی۔ اس سلسلے میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد نے انٹرنیٹ کے ذریعے فلم ’لو گرو‘ کے خلاف ایک درخواست پر دستخط کیے ہیں۔ اس فلم کے اہم کردار میں مائک میئرز ہیں اور یہ جمعہ کو ریلیز ہو رہی ہے۔ بعض ہندو گروپ اس فلم کو پروڈیوس کرنے والی کمپنی پیراماؤنٹ پکچرز کے بائیکاٹ کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں۔ دوسری جانب پیراماؤنٹ پکچرز کا کہنا ہے کہ اس فلم میں کسی ایک مذہب کو لے کر کوئی بات نہيں کہی گئی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ فلم کا کردار’ لو گرو ‘مکمل طور پر ایک افسانوی یقین کو ماننے والا ہے۔ اس فلم میں میئرز نےگرو پٹکا کا کردار ادا کیا ہے جس کی پرورش بھارت کے ایک آشرم میں بعض گروؤں نے کی ہے۔ فلم میں یہ گرو مقبولیت حاصل کرنے کے لیے امریکہ کا رخ کرتا ہے اور کینیڈا کی ہاکی ٹیم کے ایک کھلاڑی کی ذاتی زندگی کی پریشانیوں کو دور کرنے میں مدد کرتا ہے۔ امریکہ میں مقیم بعض ہندؤوں کا کہنا ہے کہ مغرب میں ہندو مذہب کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں اور ’لو گرو‘ جیسی مزاحیہ فلمیں نوجوانوں کو گمراہ کر سکتی ہیں اور انہيں مذہب کی مختلف تصویر دکھا سکتی ہیں۔ امریکہ میں ’ سناتن سوسائٹی‘ سے تعلق رکھنے والی بھاؤنا شندے کا کہنا ہے کہ ’جہاں لوگوں کے عقیدے کی بات ہو تو لوگوں کو محتاط رہنا چاہیے‘۔ وہ اس بات پر ناراض ہیں کہ فلم کا اہم کردار ہندوؤں کے مقدس زعفرانی رنگ کا کپڑا پہنتا ہے اور مقدس مالا لے کر چلتا ہے۔ فلم کے ہیرو مائک میئرز نے بھی ان الزامات کی تردید کی ہے جبکہ پیراماؤنٹ پکچرز نے روحانی ٹیچر دیپک چوپڑا کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ’یہ احتجاج صرف ڈھائی منٹ کے ٹریلر کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے‘۔ دیپک چوپڑا کا کہنا ہے کہ ’ریلیز سے قبل ہی اس قسم کا احتجاج اپنے آپ میں ہی مذہبی پروپیگنڈہ ہے‘۔
بھاونا شندے ان دلائل سے خوش نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’ ہم سب جانتے ہیں کہ جب کسی کو ساڑی پہنے اور ماتھے پر بندی لگائے دکھایا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ اس کا تعلق ہندؤ مذہب سے ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’گرو‘ ، ’آشرم ‘ اور ’کرما‘ جیسے الفاظ کا استعمال ہندو مذہب سے جڑتا ہے۔ جب سے اس فلم کا ٹریلر نشر ہونا شروع ہوا ہے امریکہ میں مقیم دو ہندو گروپس نے یہ شکایت درج کی ہے کہ ان سے فلم کو پہلے دکھائے جانے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن انہیں کبھی فلم دکھائی نہيں گئی۔ احتجاجیوں نے ہندوستان کے فلم سنسر بورڈ کو بھی اس سلسلے میں خط بھیجا ہے۔ جبکہ برطانیہ ميں پیراماؤنٹ پکچرز نے کہا ہے کہ اگست میں ریلیز سے قبل اس فلم کی نمائش ہندؤں کے لیے کی جائے گی۔ | اسی بارے میں ویب سائٹ نے ’فتنہ‘ ہٹا لی29 March, 2008 | فن فنکار ’فتنہ‘ کے اجراء کی مذمت اور احتجاج29 March, 2008 | فن فنکار ’داستانِ محبت‘ کی نمائش پر پابندی22 February, 2008 | فن فنکار کلیسا میں فلمبندی پر احتجاج16 August, 2005 | فن فنکار فلم سنز کیخلاف عیسائی مظاہرے05 March, 2005 | فن فنکار عیسائی بالی وُڈ سے ناراض21 February, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||