کلیسا میں فلمبندی پر احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
رومن کیتھولک فرقے سے تعلق رکھنے والی ایک راہبہ امریکی مصنف ڈین براؤن کے مشہور ناول ’دا ڈاونچی کوڈ‘ پر بننے والی فلم کی لنکن گرجا گھر میں فلمبندی کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔ میری مائیکل نامی یہ راہبہ فلمبندی میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے احتجاجاً اس گرجا گھر کے باہر بارہ گھنٹے سے محوِ دعا ہے۔ اکسٹھ سالہ راہبہ کا کہنا ہے کہ یہ فلم کیتھولک عقیدہ سے متصادم ہے اور وہ اپنے احتجاج سےفلم کے اداکاروں اور عملے پر پڑنے والے اثرات کی پرواہ نہیں کرتی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ میرے نزدیک یہ اہم ہے کہ خدا کیا سوچے گا نہ کہ یہ کہ فلم کا عملہ کیا سوچتا ہے۔ جب میں روز ِحشر خدا سے ملوں گی تو کہہ سکوں گی کہ میں نے احتجاج کرنے کی بھر پور کوشش کی تھی‘۔ فلم کے پروڈیوسروں کو ویسٹ منسٹر ایبے میں فلمبندی کی اجازت نہ ملنے کے بعد لنکن گرجا گھر کے ڈین پادری ایلک نائٹ نے اس کلیسا میں فلمبندی کی اجازت دی تھی۔ فلم کےپروڈیوسروں نے گرجا کو ایک لاکھ پاؤنڈ عطیہ بھی دیا ہے۔ ویسٹ منسٹر ایبے میں فلمبندی کی اجازت اس لیے نہیں دی گئی تھی کیونکہ ناول میں کہا گیا ہے کہ اس گرجا گھر میں حضرت عیسٰی کی زندگی کا راز پنہاں ہے۔ ’دا ڈاونچی کوڈ‘ میں مرکزی کردار ہالی وڈ کے آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار ٹام ہینکس ادا کر رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||