آسکر کی فروخت روکنے کی کوشش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی عدالت میں خاموش فلموں کی ادکارہ میری پکفرڈ کو ملنے والے دو آسکرایوارڈز کی فروخت روکنے کے لیے مقدمہ پیش کیا گیا ہے۔ موشن پکچرز اکیڈمی آف آرٹس اینڈ سائنس کا کہنا ہے کہ اسے دس ڈالر میں یہ مجسمےخریدنے کا حق حاصل ہے۔ اکیڈمی کا کہنا ہے کہ جس کے پاس یہ دونوں ایوارڈز موجود ہیں اس نے جولائی میں ان کی قیمت پانچ پانچ لاکھ ڈالر لگائی ہے۔اکیڈمی کے وکیل ڈیوڈ ڈبلیو کوینٹو کا کہنا ہے کہ یہ ٹرافی ایک پر وقار اعزاز کے بجائے تجارت کی چیز بن گئی ہے۔ پکفرڈ کو 1930 میں بطور بہترین اداکارہ کا اکیڈمی ایوارڈ جبکہ 1975 میں اعزازی طور پر آسکر ایوارڈ دیا گیا تھا۔ اکیڈمی کے مطابق 1979 میں پکفرڈ کی موت کے بعد یہ ایوارڈ ان کے شوہر اور اداکار چارلس راجر کے پاس چلے گئے۔1986 میں راجر کو بھی اکیڈمی سے ایوارڈ ملا اور جب ان کی موت ہوئی تو یہ تینوں ایوارڈز ان کی دوسری بیوی بیورلی کو ملے ۔ بیورلی کی موت کے بعد ان کے تمام اثاثے جن میں یہ ایوارڈز بھی شامل تھے ان کے ورثاء کو ملے جو ایوارڈز فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اکیڈمی کا کہنا ہے کہ 1950 میں بنائے گئے اکیڈمی کے قانون کے مطابق ایوارڈ جیتنے والے تمام لوگوں کو ایک معاہدے پر دستخط کرنےہوتے ہیں جس کے تحت اگر کبھی وہ یہ ایوارڈ فروخت کریں گے تو انہیں خریدنے کا پہلا حق اکیڈمی کو ہوگا اور اکیڈمی اس کی قیمت دس ڈالر فی ایوارڈ دےگی۔ | اسی بارے میں جعلی آسکر ایوارڈ، نیلامی رک گئی05 August, 2006 | فن فنکار آسکرز:’دی ڈیپارٹڈ‘ بہترین فلم26 February, 2007 | فن فنکار آسکر کاؤنٹ ڈاؤن شروع23 February, 2005 | فن فنکار ’رنگ دے بسنتی‘ آسکرکیلیئے نامزد25 September, 2006 | فن فنکار آسکر نامزدگی پر خوش ستارے01 February, 2006 | فن فنکار سب کی نگاہیں اب آسکر پر22 February, 2004 | فن فنکار کیاجولیا روبرٹس اس بار بھی راج کریں گی؟12 January, 2004 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||