جعلی آسکر ایوارڈ، نیلامی رک گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک جعلی آسکر ایوارڈ کے مجسمے کی انٹرنیٹ پر ہونے والی نیلامی روک دی گئی جس کی متوقع قیمت ایک لاکھ ڈالر تھی۔ مجسمے کے متعلق کہا گیا تھا کہ یہ 1944 میں بننے والی بنگ کروزبی کی فلم گوئنگ مائی وے کے ڈائریکٹر لیو میک کیری کو دیا گیا تھا۔ اس بات کا انکشاف تب ہوا جب میک کیری کی بیٹی نے کہا کہ اس کے والد کو ملنے والے تینوں ایوارڈز اس کے پاس ابھی تک موجود ہیں۔ چنانچہ اس معاملے پر تحقیق شروع ہو گئی۔ تحقیق پر پتا چلا کہ نقلی مجسمہ بہت ہی مہارت سے بنایا گیا تھا۔اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مجسمے کے اوپر کے آدھے حصے کا وزن چار سو پچاس گرام تھا جو اصلی آسکر کے مجسمے سے زیادہ تھا۔شکاگو کی میسٹرو آشکن کمپنی کے انتظام کے تحت جب نیلامی شروع کی گئی تو بولی پچیس ہزار ڈالر تک ہی پہنچی تھی کہ مجسمے کے جعلی ہونے کا انکشاف ہو گیا۔ اکیڈمی نے آسکر ایوارڈز کو بیچنے کے لئے بہت سخت اصول بنا رکھے ہیں مگر یہ 1951 سے پہلے کے ایوارڈز پر لاگو نہیں ہوتے۔اگزیکٹو ایڈمنسٹریٹر رک روبرٹسن کا کہنا ہے کہ کچھ ایسے شواہد ملے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ بیچنے والے کو اس کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا۔ رابرٹسن نے یہ بھی کہا کہ وہ اصل مجرم تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے جس نے یہ جعلی مجسمہ بنایا ہے۔ | اسی بارے میں نشےمیں ڈرائیونگ، گبسن کی معافی30 July, 2006 | فن فنکار پائریٹس کم وقت میں 30 کروڑ منافع 25 July, 2006 | فن فنکار ’کریش‘ بہترین فِلم قرار پائی 06 March, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||