بینیگل: دادا صاحب پھالکے ایوارڈ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت ہند نے انڈین سنیما میں خدمات کے صلے میں نامور فلمساز شیام بینیگل کو دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا ہے۔ بہتر سالہ فلمساز بینگل کا شمار انیس سو ستر کی دہائی کے حقیقی سنیما کے خالقوں میں کیا جاتا ہے۔ دادا صاحب پھالکے ایوارڈ انڈین سنیما کے خالق دادا صاحب کی سوویں سالگرہ کے موقع پر حکومت ہند نے شروع کیا تھا۔ بینیگل یہ ایوارڈ حاصل کرنے والے اڑتیسویں شخص ہیں۔ 1969 میں شروع کیا گیا یہ ایوارڈ سب سے پہلے اداکارہ دیویکا رانی کو دیا گیا اس کے بعد دلیپ کمار، راجکپور، نوشاد، مجروح سلطان پوری، آشا بھوسلے، رشی کیش مکھرجی اور دیو آنند جیسے کئی فنکاروں کو اس ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔ بینیگل کے طویل فلمی کیرئر میں ان کی بنائی فلموں کی تعداد چاہے بہت زیادہ نہ ہو لیکن ان کی بنائی چند فلموں کا شمار کامیاب فلموں کی فہرست میں ضرور کیا جا سکتا ہے۔ متوازی سنیما کے طور پر انہوں نے یکے بعد دیگرے چار فلمیں ایسی دیں جس نے بینیگل کو ڈھیر سارے ایوارڈ دلائے اور انہیں ممتاز فلمسازوں کی فہرست میں لا کر کھڑا کر دیا۔ان کی فلمیں انکور، منتھن، نشانت اور بھومیکا ہندستانی سماج میں عورتوں کے مسائل، مزدوروں اور زمینداروں کے رشتوں اور سماج کے سلگتے مسائل پر مبنی فلمیں تھیں۔ بینیگل نے اپنی پہلی فلم ’انکور‘ انیس سو تہتر میں بنائی تھی اور اس میں انہوں نے شبانہ اعظمی کو متعارف کرایا تھا۔ اس کے علاوہ بینگل نے فلمی دنیا کو نصیرالدین شاہ، اوم پوری، سمیتا پاٹل اور کل بھوشن کھربندہ جیسے فنکار دیے جن کا شمار ہندی سنیما کے بہترین اداکاروں میں ہوتا ہے۔
شبانہ اعظمی نے شیام بینیگل کو ایوارڈ دیے جانےپر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے لیے خوشی کا موقع ہے۔ ویسے تو بینیگل کو کئی ایوارڈ ملے لیکن دادا صاحب پھالکے ایوارڈ کی اپنی اہمیت ہے۔ البتہ ایک بات اہم ہے کہ بینیگل کواگر یہ ایوارڈ ملا ہے تو اس حقیقی اور متوازی سنیما کو نوازا گیا جس کے تحت انہوں نے اپنی فلمیں بنائی ہیں۔‘ شبانہ اعظمی کا کہنا تھا کہ ’ اس دور میں جب کہ سنیما محض تفریح کا ذریعہ بنا ہے اس میں انہوں نے سماج کے سلگتے اور خواتین کے مسائل کو پردے پر خوبصورتی کے ساتھ لانے کی ہمت کی جس میں وہ کامیاب بھی ہوئے۔‘ شیام بینیگل نے ان چار فلموں کے بعد ششی کپور کے ساتھ فلم ’جنون‘ بنائی۔اٹھارہ سو ستاون کے پس منظر میں جنون نے انتہائی محبت کی ایک کہانی پیش کی تھی۔ اس کے بعد ان کی فلم ’ کل یگ‘ آئی جو پیچیدہ انسانی رشتوں کی کہانی تھی، لیکن انیس سو اسی کی دہائی کے بعد متوازی یا حقیقی سنیما کا دور ختم ہو گیا اور بینیگل نے کمرشیل سنیما سے سمجھوتہ کرنے کے بجائے خود کو ٹی وی سیرئیلز تک محدود کر لیا، البتہ سن دو ہزار ایک میں انہوں نے کرشمہ کپور کے ساتھ فلم ’زبیدہ‘ بنائی۔ یہ فلم ایک نڈر بیباک چلبلی عورت کی کہانی تھی جو اپنے طور پر اپنی زندگی جینے کی خواہش رکھتی ہے۔ یہ فلم باکس آفس پر کچھ زیادہ کامیاب نہیں ہو سکی۔ بینیگل نے متوزای سنیما اور ٹی وی سیریل کے علاوہ چند یادگار دستاویزی فلمیں بھی بنائی ہیں جن میں ’چائلڈ آف دی سٹریٹ‘ اور ’ستیہ جیت رے‘ شامل ہیں۔ بینیگل نے کافی تحقیق کے بعد دو ہزار پانچ میں نیتا جی سبھاش چندر بوس پر فلم بنائی جو تنازعہ کا شکار ہو گئی۔اب بینگل گوتم بدھ پر فلم بنانے کی تیاریوں میں ہیں۔ |
اسی بارے میں دلیپ کمار کو پھالکےایوارڈ 28 April, 2007 | فن فنکار ہم تمہارے رہیں گے سدا26 August, 2006 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||