BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 September, 2006, 09:38 GMT 14:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شبانہ اعظمی کی ہمہ جہت شخصیت

شبانہ پہلی بھارتی شہری ہیں جنہیں یہ اعزاز دیا جائے گا
نامور بالی وڈ اور تھیٹر اداکارہ ، سیاستداں اور رضاکار شبانہ اعظمی کو اس سال ’انٹرنیشنل گاندھی ایوارڈ‘ کے لیئے منتخب کیا گیا ہے۔ شبانہ پہلی بھارتی شہری ہیں جنہیں یہ اعزاز دیا جائے گا۔

شبانہ نے ایک تھیٹر فنکار کے طور پر اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ اس کے بعد آرٹ فلموں میں کام کیا۔ چند کمرشل فلمیں بھی کیں لیکن انہوں نے خود کو جگمگاتی دنیا تک محدود نہیں رکھا بلکہ وہ غرباء خصوصًا کچی آبادیوں میں رہنے والوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیئے بیس سال پہلے کھڑی ہوئیں ایک طویل لڑائی لڑی اور آج ان کی کوششوں نے بے گھر افراد کو گھر دلانے میں کامیابی حاصل کر لی۔

بی بی سی نے شبانہ سے ان کے اس طویل سفر ، ایوارڈ ملنے کی خوشی اور زندگی کے پچپن سال مکمل ہونے پر گفتگو کی۔

شبانہ انٹرنیشنل گاندھی ایوارڈ کے لیئے منتخب ہونے پر بہت خوش ہیں ان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ ایوارڈ ہاؤس آف لارڈز میں چھبیس اکتوبر کو دیا جائے گا۔ ان کی نظر میں اس ایوارڈ کا ملنا ان کے لیئے باعث فخر ہے کیونکہ اس سے قبل جنہیں یہ ایوارڈ دیا گیا وہ بہت ہی مشہور ہستیاں تھیں۔

شبانہ کا کہنا ہے کہ ہاؤس آف لارڈز میں ہمیشہ ایوارڈ لینے والی شخصیت تقریر نہیں کرتی ہے لیکن انہیں اس مرتبہ دونوں ہاؤس کے سامنے تقریر کرنے کا اعزاز دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق گاندھی پیس فاؤنڈیشن اس سال سو سالہ تقریب منا رہی ہے اور ’وہ چاہتے ہیں کہ میں یہ تقریر کروں جو اپنے آپ میں تاریخ ہے اور اس کے لیئے میں بہت خوش ہوں۔‘

زندگی مثبت کام کے لیئے
 یہ زندگی کچھ مثبت کام کرنے کے لئے ہے اس لیئے میں نے فلمیں بھی ایسی ہی منتخب کیں جن میں کوئی نہ کوئی سماجی پیغام ہوتا تھا۔
شبانہ

شبانہ کو یہ اعزازی ایوارڈ کیوں دیا جا رہا ہے اس پر شبانہ کا کہنا تھا کہ بیس سال قبل انہوں نے نوارا حق سمیتی نامی تنظیم کے بینر تلے جھونپڑا باسیوں کے حقوق کی لڑائی شروع کی تھی۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ زندگی کچھ مثبت کام کرنے کے لئے ہے اس لئے وہ فلمیں بھی ایسی ہی منتخب کرتی تھیں جس میں کوئی نہ کوئی سماجی پیغام ہوتا تھا۔

جھونپڑا باسیوں کے حق کے لئے انہوں نے کئی مرتبہ بھوک ہڑتال بھی کی اور دھرنے دیئے۔ ان کی محنت رنگ لائی اور اب ان کی تنظیم نوارا حق سمیتی نے ممبئی کے ایک علاقہ چاندیولی میں پوری کالونی بسائی ہے۔ تیرہ ہزار خاندان کے اسی ہزار لوگوں کو اسی ماہ تیس ستمبر میں مکانات دیئے جائیں گے۔

شبانہ کے مطابق یہ کالونی بھارت ہی نہیں پورے ایشیاء میں سب سے بڑی کالونی ہو گی۔ شبانہ خوش ہیں کہ ان کا یہ خواب پورا ہوا ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہی نہیں تھا کہ بیس برسوں کی ان کی محنت رنگ لائے گی۔ اپنی اس کامیابی کا سہرا وہ اپنے والد اور نامور شاعر کیفی اعظمی کی تعلیمات کو دیتی ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ ’جب آپ تبدیلی کے لیئے کام کر رہے ہیں تو یہ مت سوچیں کہ اس کا پھل آپ کو اسی زندگی میں مل جائے ہو سکتا ہے کہ وہ انکُر بعد میں پھوٹے جو کسی اور کی زندگی کو شاداب کرے ‘۔

شبانہ
شبانہ اعظمی اور جاوید اختر

شبانہ اعظمی نے ابھی فلم امراؤ جان ادا مکمل کی ہے جس میں انہوں نے وہ رول ادا کیا ہے جو ان کی والدہ شوکت کیفی نے فلمساز مظفر علی کی فلم میں کیا تھا۔ شبانہ اس کے بعد جاوید اختر اور ہنی ایرانی کے بیٹے فرحان اختر کی فلم ہنی مون ٹراویلس کا کام مکمل کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ انگریزی فلم دی کانٹسٹ میں کام کر رہی ہیں۔ شبانہ نے بتایا کہ حال ہی میں انہوں نے بی بی سی کی فلم ’بنگلہ ٹاؤن بینکویٹ‘ مکمل کی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ اپنی والدہ کی لکھی کتاب ’یادوں کی رہ گزر ‘ کو ڈرامہ کی شکل دے رہی ہیں۔ اس ڈرامہ کو وہ لندن میں انتیس اکتوبر سے پیش کریں گی۔ شوکت کیفی نے اپنے شاعرشوہر کیفی اعظمی کی یادوں کو کتاب کی شکل دی ہے۔ اس کتاب کی ڈرامائی شکل میں جاوید اختر کیفی کا کردار نبھائیں گے۔
محنت رنگ لائی
ان کی محنت رنگ لائی اور ان کی تنظیم نوارا حق سمیتی نے ممبئی کے ایک علاقہ چاندیولی میں پوری کالونی بسائی ہے۔تیرہ ہزار خاندان کے اسی ہزار لوگوں کو اسی ماہ تیس ستمبر میں مکانات دیئے جائیں گے۔

یادوں کی رہگزر نامی یہ ڈرامہ لندن کے علاوہ چار نومبر ایک ماہ تک امریکہ میں بھی ہو گا۔

شبانہ اتنا وقت کس طرح نکال لیتی ہیں اس کے لیئے شبانہ کا کہنا تھا ’میں زندگی میں کبھی خالی بیٹھنا پسند نہیں کرتی ہوں‘۔ دوسرے بھر پور لیکن با مقصد زندگی جینے کی لگن ہی ان سے سب کچھ کراوتی ہے‘

شبانہ آخری دم تک اداکاری کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سماجی تبدیلی کے لئے فلمیں بہت اچھا ذریعہ ہیں اور اسی لئے وہ اسے چھوڑنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی ہیں۔

اسی بارے میں
ہم تمہارے رہیں گے سدا
26 August, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد