ہم تمہارے رہیں گے سدا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راج کپور گولڈن ایج کے ڈایریکٹرز میں عمر میں سب سے چھوٹے تھےاور محض 24 سال کی ہی عمر میں اُنہوں نے ’آگ‘ فلم کے ساتھ آر کے فلمز کا آغاز کیا۔ یہ فلم نہ صرف بے حد کامیاب رہی بلکہ اِس فلم سے پریم ناتھ جیسے ایکٹر کو اِنڈسٹری میں بریک ملا۔ راج کپور، گرو دت کی ہی طرح نہ صرف ایک عمدہ ڈایریکٹر تھے بلکہ ایک بہت ہی کامیاب ایکٹر بھی- اُنہوں نے اپنی زیادہ تر فلمیں ایکٹنگ سے کمائے ہوئے پیسوں سے فنانس کیں۔ 1950 کی دہائی میں تین ایکٹر کامیابی کی اُن بلندیوں کو چھو رہے تھے جہاں شائد آج تک امیتابھہ بچن جیسے کامیاب اداکار بھی نہ پہنچ سکےہیں اور وہ تھے دلیپ کمار، دیو آنند اور راج کپور۔ لیکن اِن میں سے راج کپور ہی ہیں جن کے جیتے جی ہمیشہ لوگ اُن کی ڈایریکٹ کی ہوئی فلموں کا اِنتظار کرتے رہے۔
راج کپور کی ’آگ‘ نے پورے ہندوستان کے نوجوانوں میں اِس نئے چہرے کو پھر سے پردہ پہ دیکھنے کی چاہت اِور بھی بڑھا دی جسے اُنہوں نے ’آگ‘ میں دیکھا تھا۔ ’برسات‘ کے ساتھ وہ ٹیم بھی بنی جو راج کپور اور آر کے پروڈکشنز کی کامیابی میں بہت اہم ثابت ہوئی۔ اور اِس ٹیم کے اہم ممبر تھے کے عباس، مکیش، شنکر اور جے کشن، شیلیندر اور حسرت جےپوری۔
شیلیندر ایک سوشلسٹ شاعر تھے اور فلموں کے لیے لکھنا کئی بار ٹھکرا چکے تھے لیکن راج کپور کے ساتھ دوستی کا ہی نتیجہ ہے کہ شیلیندر کے گیت فلموں کے ذریعے عام لوگوں تک پہنچے۔ سوشلزم کا یہ سبق شیلیندر نے راج کپور سے ہی سیکھا۔ راج کپور کے یہ سب دوست ان کے والد پرتھوی راج کپور کے پرتھوی تھیٹرز میں ملے تھے- راج کپور نے فلموں میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ پرتھوی تھیٹرز میں کافی ڈراموں میں بھی اداکاری کی۔ دراصل اُن کی ایکٹنگ کی دھوم پرتھوی تھیٹرز سے ہی مچ گئی تھی جہاں بابو راو پینٹر جیسے بڑی فلم ناقد نے اُنہیں نوٹس کیا۔ ’برسات‘ سےراج کپور کی زندگی میں ایک اور شروعات بھی ہوئی۔ اُن کی نرگس کے ساتھ ایک کامیاب سکرین جوڑی بنی۔ اور اِسی دوران راج کپور نرگس کے کافی قریب آگئے جس وجہ سے دونوں نرگس اور راج کپور کو کئی سال تک کافی ذہنی تناؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ راج کپور پہلے سے ہی کرشنا کپور سے شادی شدہ تھے اور یہ تناؤ کچھ اِس قدر بڑھ گیا کہ راج کپور کے کہنے پر نرگس نے کے آصف کی ’مغل اعظم‘ میں انار کلی کے رول سے اِنکار کر دیا تھا۔ ’برسات‘،’شری چار سو بیس‘ اور ’آوارہ‘ سبھی رومینٹک میلوڈرامہ تھے جو راج کپور اور نرگس پہ فلمائے گئے- اِسی دوران راج کپور نے بمبئی کے قریب چیمبور میں آر کے سٹوڈیوز کی بنیاد ڈالی۔ اِس سٹوڈیو کی ابھی دیواریں ہی بنی تھی کہ یہاں راج کپور نے ’آوارہ‘ فلم کے ڈریم سیکیونس کو شوٹ کیا۔ گانا تھا ’گھر آیا میرا پردیسی‘ جسے راج کپور نے ایک تجربے کے طور پر اپنی فلم میں شامل کیا لیکن یہ گانا بے حد مقبول ہوا اور یہیں سے ہندوستانی فلموں میں ڈریم سیکیونس گانوں کا رواج شروع ہوگیا۔ راج کپور ایک ٹرینڈ سیٹر تھے اور محبوب خان کی ’انداز‘ کے سیٹ پر اُنہیں ایک لڑکی دکھائی دی جس کو محبوب خان کی فلم میں کافی عرصے سے کوئی بریک نہیں مل رہا تھا اور یہ تھی نمی۔
راج کپور نے اُنہیں ’برسات‘ فلم کے لیے سائن کر لیا- اِس کے بعد نمی نے محبوب خان کے لیے بھی فلم ’آن‘ میں کام کیا۔ راج کپور نے پہلی بار 1935 میں بحیثیت چائیلڈ آرٹسٹ ’اِنقلاب‘ نام کی فلم میں کیمرے کا سامنا کیا- یہ تب کی بات ہے جب اُن کے والد مشہور سٹیج اور سکرین ایکٹر پر تھوی راج کپور کلکتہ کے نیو تھیٹرز کے لیے کام کیا کرتے تھے- اُنہوں نے اِنڈسٹری میں بطور کیدار شرما کے تھیرڈ اسِسٹینٹ کام شروع کیا۔ کیدار شرما نے ہی اُنہیں1948 میں اپنی فلم ’نیل کمل‘ میں ہیرو لیا۔ 1948 میں راج کپور کی بحیثیت ہیرو چار فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں سے تین مدھوبالا کے ساتھ تھیں۔ مدھوبالا کی عمر اِس وقت صرف 13 سال تھی۔ ’آگ‘ راج کپور نے اپنے تجربات کو سامنے رکھ کر بنائی تھی- یہ فلم سب سے پہلے شملا میں ریلیز ہوئی- اِس فلم سے وابستہ زیادہ تر لوگ عمر میں تیس سال سے بھی کم تھے اور خود راج کپور کی عمر صرف 24 سال تھی۔ اس فلم میں نرگس اور راج کپور کے کئی رومینٹک مناظر کو کئی سال بغد مرارجی دیسائی کے اعتراض پر سینسر کیا گیا۔ یہ فلم اگر ڈسٹربیوٹر بابو لال مہتانے نہ خریدی ہوتی تو شائد راج کپور کا فلمی کیریر کچھ اور ہوتا۔ ’آگ‘ کے بعد آئی ’برسات‘۔ یہ میوزک ڈَایریکٹر شنکر جے کشن کی پہلی فلم تھی اور اس کی کہانی رامنند ساگر نے لکھی تھی۔ راج کپور نے اِس کے بعد دلیپ کمار کو ’انداز‘ کی ہی طرح کی کئی فلمیں تجویز کیں لیکن دلیپ کمار نے ہمیشہ اُن کے آفر کو ٹھکرا دیا۔ یہاں تک کہ ’سنگم‘ فلم میں بھی راج کپور نے دلیپ کمار کو کاسٹ کرنے کی کوشش کی لیکن یہ رول دلیپ کمار کے ہی ایک ’کلون‘ راجندر کمار نے کیا۔ ’برسات‘ فلم کے دوران ہی وہ نرگس کے کافی قریب آگئے تھے جس کی وجہ سے فلم کی شوٹنگ میں بھی نرگس کی والدہ جڈن بائی کی وجہ سے کئی دشواریاں پیدا ہوئیں۔ اِنہی دنوں مشرقی بنگال سے آئے ہوئے کیمرامین رادھو کرماکر نے آر کے پروڈکشنس میں کام شروع کیااِور تبھی اُن کے ہاتھ لگا کے عباس کا محبوب خان کے لیے لکھا گیا سکرپٹ۔ یہ فلم ’آوارہ‘ کا سکرپٹ تھا ’آوارہ‘ بہت بڑی ہٹ ثابت ہوئی اور اِس فلم نے راج کپور کو چارلی چیپلن سے مماثلت رکھتی ہوئی ایک نئی شخصیت دے دی۔ اِسی پرسونا کو اُنہوں نے ’شری 420‘ اور ’جس دیش میں گنگا بہتی ہے‘ جیسی فلموں کے لیے اِستحمال کیا۔ اِسی دوران اِن کی تین اور فلمیں ریلیز ہوییں جو تھی ’بوٹ پالش‘، ’اب دلی دور نہیں‘ اور ’جاگتے رہو‘۔ تینوں فلمیں زیادہ کامیاب نہ رہیں۔ ’اب دلی دور نہیں‘ اُن کے کیریر کی سب سے کمزور فلم تھی۔ ناکامی کے اِس مختصر دور کے بارے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اِسی دور میں نرگس اور راج کپورعلیحدہ ہوگئے تھے اور نرگس نے سنیل دت کے ساتھ شادی کر لی۔ یہ دور راج کپور کے لیے کافی مشکل تھا جو آخر کار ’جس دیش میں گنگا بہتی ہے‘ کے ساتھ ختم ہوا- اِس فلم میں اُنہوں نے ساوتھ اِنڈیا کی ایک مشہور اداکارا پدمنی کو ہیروین لیا۔ اُن کی اگلی فلم ’سنگم‘ میں بھی راج کپور نے ساوتھ کی اداکارا ویجنتی مالا کو کاسٹ کیا۔ یہ فلم ’انداز‘ سے کافی ملتی جُلتی تھی اور باکس آفس پہ بڑی ہٹ رہی۔ لیکن اِس فلم کے لیے پہلے دلیپ کمار کو راجندر کمار کا رول آفر کیا گیا۔ اگر دلیپ کمار نے یہ آفر تسلیم کر لیا ہوتا تو شائد ’سنگم‘ ایک اُتنی ہی بڑی اور یاد گار فلم ثابت ہوتی جتنی کہ ’انداز‘- لیکن دلیپ کمار کا فیصلہ شائد غلط نہ تھا کیوں کہ ’سنگم‘ میں وہ راج کپور کے ساتھ پردے پر نظر تو آتے مگر کیسے یہ تو بحیثیت ڈایریکٹرخود راج کپور کے ہی ہاتھ میں تھا۔ ویسے بھی دلیپ کمار کو جوبھی ثابت کرنا تھا وہ ’انداز‘ فلم میں کر چکے تھے۔ ’جس دیش میں گنگا بہتی ہے‘ اور ’سنگم‘ کی شوٹنگ کے دوران راج کپور کا نام اُن کی ہیروئینوں سے پھر جوڑا گیا اور بات یہاں تک پہنچی کہ اِن فلموں کے مکمل ہوتے ہی پدمنی اور وے جینتی مالا کی اُن کے گھر والوں نے شادی کرا دی۔ ’سنگم‘ کے بعد اُنہوں نے اپنی زندگی پر ایک فلم بنائی جس کا سکرپٹ خاص اُن کے لیے کے عباس نے لکھا تھا۔ یہ تھی ’میرا نام جوکر‘۔ راج کپور کو اِس بات کی کافی تشویش رہی کہ یہ فلم ایک بہت ہی بڑی فلاپ ثابت ہوئی۔ آج کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ یہ فلم وقت سے پہلے بنی اور آج اِسے ایک کلاسیک کا درجہ حاصل ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ فلم بہت ہی کمزور ہے جس میں وہ علامتی انداز بھی نظر نہیں آتا جس کے لیے راج کپور مشہور تھے۔ اِس فلاپ کے بعد اُنہوں نے اپنے بیٹے کے ساتھ ایک رومینٹک کامیڈی ’بابی‘ بنائی جو بہت بڑی ہٹ ثابت ہوئی- اِسی فلم میں اُنہوں نے ڈمپل کپاڈیہ کو بریک دیا۔ راج کپور ایک بار پھر ایک ٹرینڈ سیٹر ثابت ہوئے- اِس فلم نے ٹین ایج رومانسس کا نیا سلسلہ فلم اِنڈسٹری میں شروع کردیا۔ خاس کر اِس فارمولا کا اِستحمال تب کیا جانے لگا جب کسی اداکار کو اپنے بیٹے یا بیٹی کو فلموں میں اِنٹریڈیوس کرنا ہوتا- اِس اعتبار سے "رَاکی"، لو سٹوری"، "پریم قیدی" جیسی فلموں کی کہانی راج کپور کی بنای فلم "بابی" سے ہی شروع ہوتی ہے- "بابی" کے بحد آی "ستییم شوم سندرم"- اِس فلم راج کپور نے "آگ" کی ہی طرح سندرتا پر بات کرنا چاہی- پر یہ فلم کچھ زیادہ ہی نصیحت آمیز تھی- اِس کے بحد راج کپور نے اِسی طرز پر "پریم روگ" بنای جو کافی بہترفلم تھی اور ہٹ بھی رہی- اس فلم کا سنگیت خاص طور پہ مقبول ہوا- "پریم روگ" کے بحد آی راج کپور کی آخری فلم، "رام تیری گنگا میلی"- کچھ فلم کرٹکس اِس فلم کی تحریف اِس لیے کرتے ہے کہ اِس فلم کے بحد حکومت ہند نے گنگا ندی کو صاف کرنے کی مہم شروع کی- گنگا ندی خواہ صاف ہوئی ہو یا نہیں لیکن یہ فلم بہت ہی کا میاب رہی- اِس فلم کے کچھ مناظر پر اعتراض بھی ہوئے لیکن راج کپور کو کون روک سکتا تھا-اس فلم میں راج کپور نے ایک سفید لباس میں منداکنی کو پانی کے جھرنے کے نیچے کھڑا کر دیا- ایسا ہی سین وہ پدمنی کے ساتھ فلم ’جس دیش میں گنگا بہتی ہے‘ میں کر چکے تھے لیکن وہ بلیک اینڈ وائٹ فلم تھی- یہ سین اِس فلم کی کامیابی کی ایک اہم وجہ بنی۔ فلم کی کہانی اور سنگیت دونوں اچھے تھے لیکن فلم کے ہیرو راج کپور کے سب سے چھوٹے بیٹے لوگوں کو زیادہ پسند نہ آئے۔ ’حنا‘ راج کپور کی اگلی فلم تھی لیکن اِس کا ذمہ وہ اپنے بڑے بیٹے رندھیر کپور کو سونپ چکے تھے- ویسے بھی زیبا بختیار کے ساتھ بنائی گئی آر کے پروڈکشنس کی اِس فلم سے اُمید کم ہی تھی لیکن یہ فلم بھی کافی چلی۔ راج کپور اِس فلم کے ریلیز ہونے سے پہلے ہی چل بسے- راج کپور کو بیماری کی حالت میں 1988 کو دادا صاحب پھالکے اِیوارڈ لینے کے لیے دلی پہنچےتھے- جب راج کپور یہ ایوارڈ لینے کے لیے نہ اُٹھ پائے تو اِس دور کےہندوستان کے صدر آر وینکٹ رمن خُود اُن کو ایوارڈ دینےڈائس سے اُترے۔ یہاں سے اُن کو سیدھا ہسپتال لے جایا گیا جہاں مختصر بیماری کے بحد 2 جون 1988 کو اُن کا اِنتقال ہوا- 1950 کی دہائی سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والے راج کپور اِس دور کے واحد ایسے ایکٹر ڈَیریکٹر تھے جو 1980 کی دہائی تک بہترین فلمیں بناتے رہے۔ کامیابی کی جن بلندیوں کو وہ پہنچ پائے وہاں تک صرف اُن کے ’انداز‘ کے ساتھی دلیپ کمار ہی پہنچ پائے۔ راج کپور کے کیریر پر ٹی وی پر نشر ہونے والے پروگرام اکثر اِن کی فلم ’میرا نام جوکر‘ کے اُس گیت کے ساتھ ختم ہوتے ہیں جو مکیش نے اپنی آواز میں گایا تھا۔ کل کھیل میں ہم ہو نہ ہو |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||