امرتا شیر گِل کی سوانح عمری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نامور مصورہ امرتا شیر گِل پر ایک نئی کتاب شائع ہوئی ہے جس میں ان کی بر صغیر کی ماڈرن آرٹ کی تحریک میں اہمیت پر دوبارہ زور دیا گیا ہے۔ یہ کتاب دلی کی آرٹ ہسٹورین یشودرہ ڈالمیا نے لکھی ہے۔ امرتا شیر گل کا تقسیم ہند سے پہلے انیس سو اکتالیس میں لاہور میں انتقال ہو گیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر صرف اٹھائیس سال تھی لیکن انہوں نے اپنی مختصر زندگی اپنے فن کے نام کر کے دو سو کے قریب پینٹگز بنالی تھیں۔ امرتا شیر گِل کی زندگی ان کے کام کی طرح دلچسپ رہی۔ ان کے باپ سکھ تھے جبکہ ان کی ماں کا ہنگری سے تعلق تھا۔ امرتا نے آرٹ کی تعلیم پیرس کے ’اکول دے بوز آغتز‘ سے حاصل کی لیکن بقول یشودرہ ڈالمیا ’ان کو پتہ تھا کہ ان کو بھارت لوٹنا ہے کیونکہ ان کے کام کا گہرا تعلق اس سر زمین سے تھا۔‘ امرتا شیر گِل نے یورپ میں نہ رہنا چاہا لیکن انہوں نے شادی ہندوستان میں نہیں کی۔ انہوں نے اپنے خالہ زاد بھائی ڈاکٹر وِکٹر ایگن سے شادی کی اور وہ دونوں بھارت میں رہے۔ ڈاکٹر ایگن امرتا کے انتقال کے بعد بھی بھارت میں ہی رہے، امرتہ کے انتقال کے تقریباً بیس سال بعد پھر شادی کی اور چند سال پہلے ہی انتقال ہوا ہے۔ یاشودرہ ڈالمیا نے یہ کتاب پنگوین انڈیا کے لیئے چار سال پہلے شروع کی تھی۔ اپنی ریسرچ میں انہیں امرتا کے سینکڑوں خطوط ملے ، لیکن امرتا کو جاننے والے افراد زیادہ تر اس دنیا سے جا چکے تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں بیحد افسوس ہے کہ وہ امرتا کے شوہر وکٹر ایگن سے نہیں مل سکیں جن کا انیس سو پچانوے میں انتقال ہوا ’کاش یہ کتاب ہم لوگ کئی سال پہلے شروع کر دیتے۔‘ یشودرہ ڈالمیا خود آرٹ ہسٹورین ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ امرتا شیر گِل کا بر صغیر کے ماڈرن آرٹ کی تحریک میں اہم کردار تھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ امرتا شیر گل اور ٹیگور دونوں ہی بنگال سکول کے مخالف تھے اور ’ان دونوں نے اپنے کام میں مشرق اور مغرب کا ملاپ کر کے ماڈرن آرٹ کی تحریک کو ایک راستہ دکھایا۔ انڈیا میں حسین، سوزا اور رضی جیسے پروگریسو آرٹسٹ خود کہتے ہیں کہ انہیں امرتا شیر گِل سے بہت کچھ ملا ہے ۔‘ امرتا شیر گِل اپنے کام میں روایتی مغربی میڈیم یعنی آئل آن کینوس استعمال کرتی تھیں لیکن ان کی کوشش یہ تھی کہ ان کا کام برصغیر کے مزاج اور رنگوں کی عکاسی کرے۔ کتاب میں یشودرہ ڈالمیا نے امرتا شیر گِل کے کام میں مختلف علاقائی اور فنی اثرات کی بھی نشاندہی کی ہے۔ مثلاً وہ کہتی ہیں کہ امرتا شیر گِل کی معروف ’ٹرلوجی‘ میں اجنتا اور الورا کے قدیم غار میں بنی پینٹنگز کی جھلک ہے جن سے امرتہ بہت متاثر ہوئی تھیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ امرتا شیر گِل کی آخری اور نا مکمل پینٹنگ سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ مصورہ کا کام ایک نیا رُخ اختیار کرنے والا تھا۔ ’یہ ان کی بالکونی سے بنائی گئی پینٹنگ ہے اور اس سے لگتا ہے جیسے ان کے کام میں ایک دوسری شروعات ہونے والی تھی۔ پہلے وہ گاؤں کو دکھاتی تھیں لیکن اس میں یہ لگتا ہے جیسے یہ گاؤں اب شہر میں ہے۔‘ یشودرہ ڈالمیا کا خیال ہے کہ لاہور کا منفرد ماحول امرتا شیر گِل پر اثر انداز ہوتا جا رہا تھا اور وہ شہری زندگی کی عکاسی کرنے کی طرف جا رہی تھیں۔ امرتا شیر گل پر اس کتاب میں ان کی ذاتی اور فنی زندگی دونوں کی دلکش فوٹو شامل ہیں۔ بر صغیر کی اس مصورہ کی کہانی بیسویں صدی کے ایک انتہائی یادگار دور کی کہانی بھی ہے۔ یشودرہ ڈالمیا اب سرحد کے دونوں پار ماڈرن آرٹ پر ایک کتاب پر کام کر رہی ہیں جس میں لاہور نیشنل کالج آف آرٹس کی سلیمہ ہاشمی ان کے ساتھ شریک ہیں۔ |
اسی بارے میں بنگالی فن پاروں کی پاکستان میں نمائش30 April, 2004 | فن فنکار ۔۔۔کتنی برساتوں کے بعد 30 August, 2005 | فن فنکار لاہور میں ایشیائی آرٹ کی نمائش23 February, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||