ڈیوڈ کوگود لینا پھر خطرے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاپ گلوکارہ میڈونا کا ملاوی سے تعلق رکھنے والے بچے ڈیوڈ بانڈہ کو گود لینے کا عمل پھر خطرے سے دوچار ہے کیونکہ اس معاملے سے منسلک ایک اہلکار کو برطانیہ جانے کی اجازت نہیں مل سکی۔ سماجی کارکن پینسٹون کیلمبی کو ملاوی کی عدالت کے حکم پر دو مرتبہ لندن میں پاپ گلوکارہ کےگھر جانا تھا جہاں انہوں نے ڈیوڈ کی دیکھ بھال پر ایک رپورٹ تیار کرنا تھی۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ ملاوی کی حکومت نے انہیں لندن جانے سے روک دیا ہے۔ پینسٹون نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ملاوی حکومت کے اس فیصلے سے میڈونا کا ڈیوڈ کوگود لینے کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ پینسٹون کے لندن جانے پر پابندی کے سلسلے میں فوری طور پر ملاوی کی حکومت کا ردِ عمل معلوم نہیں ہو سکا، تاہم یہ اطلاعات ہیں کہ شاید اب کوئی دوسرا اہلکار لندن جائے۔ پینسٹون ملاوی میں بچوں کی بہبود سے متعلق خدمات کے محکمے میں ڈائریکٹر ہیں اور انہیں ملاوی ہائی کورٹ کے حکم پر یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ اس بچے کی بہبود کی نگرانی کریں جسے گلوکارہ میڈونا نے گود لیا ہے۔ انہیں یہ حکم بھی دیا گیا تھا کہ وہ کم از کم دو مرتبہ وزارت اور عدالت دونوں جگہ اپنی رپورٹ پیش کریں۔ انہوں نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ہو سکتا ہے کہ میڈونا کا ملاوی کے بچے کو گود لینے کا عمل متاثر ہو جائے اور پاپ گلوکارہ کو لے پالک بچے ڈیوڈ کو واپس اس کے گاؤں بھیجنا پڑے۔
جسٹسن ڈیزونزی نے جو حقوقِ انسانی کے مقدمات کے وکیل ہیں، میڈونا کے ڈیوڈ کو گود لینے کے معاملے کو چیلنج کیا تھا، کہتے ہیں کہ پینسٹون کیلمبی کے لندن جا کر ڈیوڈ کو نہ دیکھ سکنے کے باعث میڈونا کا بچہ گود لینے کا پورے کا پورے عمل ہی ختم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا:’ملاوی کی عدالت نے پینسٹون کی تقرری کی تھی اور بچے کے بارے میں رپورٹ کے لیے وہ کسی اور کی بات نہیں سنے گی۔‘ میڈونا کو اٹھارہ ماہ کے لیے ڈیوڈ کی عبوری حقِ ملکیت کی اجازت دی گئی اس عمل کی حتمی منظوری صرف اسی صورت ممکن ہوگی جب میڈونا یہ ثابت کر دیں کہ ڈیوڈ بانڈہ کی پرورش اور دیکھ بھال درست انداز میں کی جا رہی ہے۔ جب میڈونا کا ڈیوڈ کو گود لینے کا مسئلہ عدالت میں پہنچا تھا تو عدالت نے یہ حکم بھی دیا تھا کہ بچے کی دیکھ بھال اور اس سے متعلق جو بھی اہلکار لندن جائے گا اس کے اخراجات بھی میڈونا کو برداشت کرنے ہوں گے۔ ملاوی کے اخبارات کے مطابق خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزیر کیٹ کیئنجا نے پینسٹون پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے حکومتی منظوری کے بغیر ہی میڈونا سے اخراجات اور جہاز کا ٹکٹ حاصل کیا تھا۔ تاہم پینسٹون نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ |
اسی بارے میں میڈونا: بچہ افریقہ سے لندن پہنچ گیا17 October, 2006 | فن فنکار ’بچے کوگود لینے پر ہنگامہ، حیرت ہے‘25 October, 2006 | فن فنکار میڈونا: ویزکلارک کی حمایت10 January, 2004 | فن فنکار ’بش اور صدام ایک جیسے ہیں‘19 June, 2004 | فن فنکار میڈونا دیوارگریہ کی زیارت پر19 September, 2004 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||