BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 October, 2006, 14:25 GMT 19:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بچے کوگود لینے پر ہنگامہ، حیرت ہے‘
میڈونا
بچے کےگود لینے سے متعلق تحریری اور زبانی اجازت حاصل ہے: میڈونا
مشہور پاپ گلوکارہ میڈونا نے کہا ہے کہ انہیں ملاوی کے بچے کو گود لینے کے معاملے پر میڈیا کے شور مچانے پر حیرت ہوئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اوپرا وِنفری کے ٹی وی شو میں انہوں نے بچے کو گود لینے کے حوالے سے اپنے پہلے انٹرویو میں میڈیا پر اس معاملے کو متنازعہ بنانے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ کام قانون کے دائرے میں رہ کر کیا ہے۔ ان کا یہ انٹرویو امریکی ٹی وی پر نشر ہوگا۔

ملاوی کی ایک عدالت کی جانب سے میڈونا کو ڈیوڈ بانڈا نامی بچے کی عارضی تحویل کے احکامات جاری کیے جانے کے بعد بچہ ان کے پاس برطانیہ آگیا تھا۔

ٹی وی شو کی ریکارڈنگ میں موجود ایک خاتون شیرل لیوس نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ میڈونا کا کہنا تھا کہ انہیں اس قسم کی خبروں پر بڑی حیرت ہوئی ہے جن کے مطابق بچے کے والد نے کہا ہے کہ وہ بچے کو مستقل طور پر دینے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔

شیرل لیوس کے مطابق میڈونا نے کہا کہ وہ بچے کے والد سے ملیں اور ان کی ان سے بالکل صاف بات ہوئی تھی اور انہیں اس سلسلے میں تحریری اور زبانی اجازت حاصل ہے لیکن اب میڈیا بچے کے باپ کو استعمال کر رہا ہے۔

میڈونا کے جنوبی افریقہ کے ملک ملاوی سے ایک بچے کو گود لینےکی خبروں نے دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں نمایاں اہمیت حاصل کی ہے۔

ملاوی میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی مشترکہ کمیٹی نے اس کارروائی کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 میڈونا کے جنوبی افریقہ کے ملک ملاوی سے ایک بچے کو گود لینےکی خبروں نے دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں نمایاں اہمیت حاصل کی ہے

کمیٹی کا موقف ہے کہ ملاوی کے قوانین کے تحت غیر ملکی افراد ملاوی آکر بچے کو گود نہیں لے سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس عمل کے لیئے خاندان کو ملاوی میں رہنا ہوتا ہے اور خاندان کے جائزے میں کم سے کم ڈیڑھ سال کی مدت لگنی چاہیے۔

بچے کے والد مسٹر بانڈا نے ’ٹائم‘ رسالے کو بتایاکہ وہ بچے کو گود لینے کی اس لڑائی میں حصہ نہیں لیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب جبکہ بچہ پہلے ہی ان کے پاس سے جا چکا ہے تو وہ اسے دوبارہ حاصل نہیں کرنا چاہتے۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو یہ بچے کے مستقبل کے لیئے تباہ کن ہوگا۔

تاہم اس سے قبل انہوں نے خبررساں ادارے ’اے پی‘ کو بتایا تھا کہ ابتدائی طور پر ان کی سوچ محض یہی تھی کہ میڈونا ان کے بچے کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھیں گی۔ ’میں نے ایسا کبھی نہیں کہا کہ گود لینے کا مطلب یہ ہے کہ ڈیوڈ اب میرا بچہ نہیں ہوگا۔ اگر میں نے ایسا کہا ہوتا تو میں کبھی بھی بچے کو گود لینے کی اجازت نہیں دیتا‘۔

میڈونا اپنی فلاحی تنظیم ’رائزنگ ملاوی‘ کے ذریعے چھ یتیم بچوں کی کفالت کرتی ہیں اور وہ ملاوی کے دارالحکومت کے باہر ایک گاؤں میں چالیس ہزار بچوں کے لیئے ایک یتیم خانہ بھی بنوا رہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد