میڈونا کا صلیب کا سین کاٹ دیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ٹی وی ’ این بی سی‘ نے اپنی نشریات میں پاپ سنگر میڈونا کے شو کو دکھانے کے لیے شو کا وہ حصہ حذف کر دیا ہے جس میں میڈونا ایک ’ کراس‘ کے اوپر چڑھ کر کھڑی ہیں۔این بی سی پر یہ شو اگلے ماہ دکھایا جائے گا۔ امریکی اور یورپین چرچ کے گروپوں نے اس شو کی کافی مذمت کی ہے۔ مگر میڈونا کا موقف ہے کہ یہ عیسائیوں کی مخالفت میں نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس سے بےحرمتی اور بےعزتی کا کوئی پہلو نکلتا ہے، یہ تو صرف ایڈز کی امدادی فنڈ اکٹھا کرنے کی ایک مہم ہے۔ میڈونا نے مزید کہا کہ’یہ تو میرا طریقہ کار ہے جس سے میں لوگوں کو ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ترغیب دے رہی ہوں۔ مجھے خود پر یقین ہے اور اگر اس وقت حضرت عیسی بھی زندہ ہوتے تو وہ بھی یہی طریقہ اختیار کرتے‘۔ امریکی مذہبی گروپوں نے اس کمرشل کے تعاون کار کو بائیکاٹ کی دھمکی دی ہے۔ این بی سی کے نمائندے نے کسی بھی بیان سے یہ کہہ کر گریز کیا کہ براڈکاسٹر ایڈیٹوریل فیصلوں پر بحث کرنے کے مجاز نہیں۔ میڈونا کے لیے وارنر برادرز ریکارڈز میں میڈونا کے نمائندے لز روزنبرگ نے روئٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ میڈونا اسے ٹی وی پر دکھانا چاہتی ہے مگر این بی سی نہیں چاہتا اس لیے آپ میڈونا کو صلیب پر چڑھے ہوئے نہیں دیکھیں گے کیو نکہ یہ شو میں سے حذف کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے یہ نتیجہ کیسے اخذ کیا ہے ، میں نہیں جاتا‘۔ جرمنی میں اس شو کا جائزہ اس پہلو سے لیا گیا ہے کہ کسی قانونی چارہ جوئی کی ضرورت تو نہیں ہے۔ ہالینڈ میں ایک پادری نے اس کنسرٹ کو روکنے کے لیے بم کی دھمکی دی، بعد میں اس پادری کو گرفتا کر لیا گیا۔ شو کے اس متنازع حصے میں یہ پاپ سنگر کانٹوں کا تاج پہنے شیشے کی ایک بہت بڑی صلیب سے نیچے اترتی ہے۔ ویڈیو سکرین پر دنیا میں بڑھتی غربت کے بہت سے مناظر دکھائے جاتے ہیں۔ اور ساتھ ہی ایڈز سے مرنے والوں کے بد حال بچوں کو دکھایا جاتا ہے۔ امریکی میگزین ’بل بورڈ‘ کے مطابق کسی بھی خاتون آرٹسٹ کا یہ بہت بڑا شو تھا جس میں انہوں نے سب سے زیادہ فنڈز اکٹھے کیے ہیں۔ | اسی بارے میں میڈونا: بچہ افریقہ سے لندن پہنچ گیا17 October, 2006 | فن فنکار بیوی سے ’زیادتی‘ نہیں کی: میکارٹنی19 October, 2006 | فن فنکار پوپ پال: کارٹونوں سے خراج تحسین17 October, 2006 | فن فنکار کِڈمن، خیر سگالی کے لئے کوسوو میں15 October, 2006 | فن فنکار امیتابھ کے لیئے فرانسیسی اعزاز13 October, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||