BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 June, 2007, 11:57 GMT 16:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیانا کے آخری لمحات ٹی وی پر
شہزادی ڈیانا
شہزادوں کا خیال ہے کہ یہ مناظر دکھانے سے ان کی ماں کی یادوں کی ’شدید ناقدری‘ ہوگی
شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری کے اعتراضات کو نظر انداز کرتے ہوئے برطانوی ٹی وی چینل ’چینل فور‘ نے کہا ہے کہ وہ شہزادی ڈیانا کے کار کے حادثے کی تصاویر اپنے ایک پروگرام میں دکھائے گا۔

شہزادوں کی غیر سرکاری سیکریٹری نے چینل فور کو ایک خط میں لکھا کہ شہزادوں کا خیال ہے کہ ان مناظر کے دکھانے سے ان کی ماں کی یادوں کی ’شدید ناقدری‘ ہوگی۔

اس کے جواب میں چینل فور نے کہا ہے کہ انہوں نے شہزادوں کے جذبات اور اپنے ناظرین کے احساسات کا موازنہ کرنے کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنی بدھ کی نشریات میں مذکورہ مناظر دکھائے گا۔

یہ تصاویر ایک فرانسیسی فوٹو گرافر نے اگست انیس سو ستانوے میں اس وقت لی تھیں جب شہزادی ڈیانا پیرس میں کار کے حادثے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔

شہزادوں کی سیکریٹری جیمی لاؤتھر پنکرٹن نے گزشتہ جمعہ کو چینل فور کے تاریخ، سائنس اور مذہب کے شعبے کے انچارج ہمیش مائکورا کو اس سلسے میں ایک خط لکھا تھا۔

شاہی ترجمان کے مطابق خط شہزادہ ولیم (دائیں) کے کہنے پر لکھا گیا

انہوں نے لکھا تھا ’اگر پیرس کی اس سرنگ میں مرنے والی خاتون آپ کی یا میری والدہ ہوتیں تو کیا آپ چاہتے کہ یہ مناظر پوری قوم کو دکھائے جائیں؟ کیا قوم ایسے مناظر دیکھنا چاہے گی؟‘

سیکریٹری نے جن مناظر کا خاص طور پر ذکر کیا ان میں وہ تصاویر شامل ہیں جن میں ڈیانا کو تباہ شدہ کار کے اندر پھنسے ہوئے اور ایک ایمرجنسی اہلکار کو انہیں طبعی امداد دیتے دکھایا گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ ان تصاویر میں شہزادی ڈیانا کا چہرہ نظر نہیں آتا لیکن ان میں انکی زندگی کے آخری دردناک لمحات بہرحال دکھائی دیتے ہیں۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار برائے شاہی امور نکولس وِچل نے اس بارے میں کہا ہے کہ انکے خیال میں یہ خط شہزادہ ولیم کے کہنے پر بھجوایا گیا ہے۔

اس بارے میں کنزویٹو پارٹی کےسربراہ ڈیوڈ کیمرون کہا کہ چینل فور کو خود سے ایک سوال کرنا چاہیے ’ کیا ہم یہ پروگرام اس لیے نشر کر رہے ہیں کہ عوام کو واقعی اس کی ضرورت ہے یا ہم ایسا محض اپنی تسکین کے لیے کر رہے ہیں۔‘

ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ چینل فور کو خود سے ایک سوال کرنا چاہیے

تام لبرل ڈیمو کریٹ پارٹی کے کلچر اور میڈیا کے نمائندہ رکن پارلیمان ڈون فوسٹر اس بحث میں چینل فور کا ساتھ دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’ چینل فور کو شہزادوں کی درخواست پر انکار کرنے کا حق حاصل ہے۔اگرچہ شہزادی ڈیانہ کے بارے میں کوئی بھی پروگرام دکھانے سے شاہی خاندان کے کچھ افراد کو ذہنی کوفت ہو سکتی ہے لیکن لوگ شہزادی کے کار حادثے کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، خاص طور یہ پروگرام لوگوں کی توجہ کا مرکز ہوگا کیونکہ اس میں وہ مناظر دکھائے جا رہے ہیں جو لوگوں نے اس سے پہلے نہیں دیکھے۔‘

چینل فور کے سربراہ نے کہا ہے کہ ان کا مقصد شہزادوں کو پریشان کرنا نہیں لیکن ’ہم نہیں سمجھتے کہ پروگرام دکھانے کے فیصلے سے ہم شہزادی ڈیانا کی یادوں سے کھیلنا چاہتے ہیں۔‘

چینل فور کے ہمیش مائکورا، جنہوں نے مذکورہ پروگرام بنانے کی منظوری دی تھی، نے کہا کہ یہ فلم شہزادی ڈیانا کی یادوں کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہے۔ ’ہم نے اس فلم میں جو لکیر عبور نہیں کی وہ یہ ہے کہ ہم نے شہزادی کا زخمی یا مردہ جسم نہیں دکھایا ہے۔‘

شاہی امور کے ایک ادارے کلیرنس ہاؤس کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ شہزادوں کا خیال تھا کہ چینل فور کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرنا ان کا حق تھا۔

گزشتہ ہفتے جب سے مذکورہ فلم پر بحث شروع ہوئی ہے ذرائع ابلاغ کے نگران ادارے ’آفکوم‘ کو اس سلسلے میں سترہ شکایات موصول ہوئی ہیں، لیکن یہ ادارہ کسی بھی پروگرام پر کوئی اقدامات صرف اس صورت میں لے سکتا ہے جب پروگرام نشر ہو چکا ہو۔

ڈیاناجیوری کا حکم
الفاعد قتل سازش کے ثبوت پیش کریں:جیوری
ڈیانہڈیانا موت کی تحقیق
سرکاری تفتیش جیوری کرے: عدالت
ڈرائیور، نشہ، حادثہ
ڈیانا کی موت سازش کا نتیجہ نہیں تھی: رپورٹ
ڈیانا: حادثہ یا قتل؟
ڈیانا کے کار حادثے کے نئے شواہد سامنے آئے ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد