’ڈیانا کا ڈرائیور نشے میں تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی ولی عہد کی سابق اہلیہ ڈیانا پرنسس آف ویلز کے کار ڈرائیور کے خون کے نمونوں کے ڈی این اے ٹیسٹ سے ثابت ہوا ہے کہ اس جان لیوا حادثے کی رات ڈیانا کا ڈرائیور شراب کے نشے میں تھا۔ بی بی سی کی ایک دستاویزی فلم کے مطابق پوسٹ مارٹم کے وقت خون کے جو ٹیسٹ کیے گئے تھے وہ بالکل درست تھے اور ان کے مطابق جائے وقوعہ کے وقت ہینری پال نے فرانس میں ڈرائیوروں کے لیے مقرر کردہ شراب کی حد سے تین گنا زیادہ شراب پی رکھی تھی۔ ڈیانا کی موت کے بعد کئی قیاس آرائیوں اور نظریات نے جنم لیا جن میں ڈیانا کی موت کو ایک سازش کا نتیجہ قرار دیا گیا تھا۔ ایسے ہی ایک نظریے میں کہا گیا تھا کہ ہینری کے پوسٹ مارٹم کے وقت خون کے جو نمونے لیے گئے تھے وہ دراصل کسی اور کے خون کے نمونے تھے۔ کہنے والوں نے یہ بھی کہا کہ خون کے نمونوں کو جان بوجھ کر تبدیل کیا گیا تھا تاکہ ڈیانا کو ’ہلاک کرنے کی سازش‘ کا پردہ نہ چاک ہوسکے۔ تاہم اب ان نظریات کو بے بنیاد قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ نئے شواہد اس حادثے کی تحقیقات کرنے والے لندن کے سابق پولیس چیف جان سٹیونز کی حتمی رپورٹ شائع ہونے سے چند ہی روز قبل پہلے سامنے آئے ہیں۔ توقع ہے کہ رپورٹ میں یہ اخذ کیا جائے گا کہ ڈیانا کی موت ایک حادثہ تھی۔ تاہم بی بی سی کے ایک سروے کے مطابق برطانیہ میں ہر دس افراد میں سے تین یا زیادہ کا خیال ہے کہ ڈیانا کی موت کسی حادثہ کا نتیجہ نہیں تھی۔ خون کے نمونوں کے ڈی این اے ٹیسٹ فرانس میں گزشتہ برس کیے گئے تھے۔ 36 سالہ ڈیانا کی کار اگست 1997 میں حادثے کا شکار ہوئی تھی۔ کار میں ڈیانا کے 42 سالہ ساتھی دودی الفائد بھی موجود تھے۔ حادثے کے نتیجے میں ڈرائیور سمیت تینوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
فرانس کی تاریخ میں کسی بھی حادثے کے لیے کی گئیں یہ سب سے جامع اور وسیع تحقیقات ہیں۔ ابتدا میں فرانسیسی تحقیقات میں اخذ کیا گیا تھا کہ یہ کار کا حادثہ ڈیانا کے ساتھی دودی الفائد کے ڈرائیور کے زیادہ شراب پینے کے باعث پیش آیا تھا تاہم قیاس آرائیوں نے عوام کے شکوک و شبہات کو ہوا دی۔ سابق شاہی نامہ نگار نوئل بوتھم کا کہنا ہے کہ ڈیانا نے خطرہ محسوس کرلیا تھا۔ ’اپنی زندگی کے آخری سالوں کے دوران ڈیانا اپنی موت سے خوفزدہ تھی۔ حادثے کے وقت تک انہیں یقین تھا کہ کوئی ہے جو ان کی جان لینا چاہتا ہے‘۔ دودی الفائد کے والد حمد الفائد کا کہنا ہے کہ حادثے کی رات سے قبل دونوں نے انہیں بتایا تھا کہ وہ شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اور ڈیانا نے یہ بھی بتایا تھا کہ وہ امید سے ہیں‘۔ محمد الفائد کا خیال ہے کہ یہی وہ وجہ تھی جس کی بنیاد پر برطانوی اداروں نے شہزادی کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ تاہم شہزادی کا طبی معائنہ کرنے والی کنسلٹنٹ ڈاکٹر للی ہوا نے تصدیق کی تھی کہ وہ حاملہ نہیں ہیں۔ حادثے کے بعد انگلینڈ میں ڈیانا کے پوسٹ مارٹم میں بھی یہی اخذ کیا گیا تھا۔ توقع ہے کے میٹروپولیٹن پولیس کی تحقیق بھی فرانسیسی تحقیق کے نتائج سے متفق ہوگی۔ فرانسیسی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ مارٹائن مونٹیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈیانا کا ڈرائیور شراب اور کچھ دیگر ادویات کے نشے میں تھا جبکہ پاپاراتزی بھی ان کی گاڑی کی تیز رفتاری کا باعث بنی۔ | اسی بارے میں ڈیانا کیس پھر توجہ کا مرکز14 April, 2005 | آس پاس شہزادی ڈیانا کی تصویروں کی نمائش22 November, 2005 | آس پاس چارلز اور کمیلا کی شادی ہو گئی09 April, 2005 | آس پاس شہزادہ چارلز شادی کر رہے ہیں10 February, 2005 | آس پاس ’ماں کا کام جاری رکھوں گا‘17 September, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||