ڈیانا کیس پھر توجہ کا مرکز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شہزادی ڈیانا اور دودی الفائد کے جان لیوا کار حادثے کی رات ان کی تصاویر اتارنے والے تین فوٹوگرافروں پر دوبارہ مقدمہ چلایا جائےگا۔ فرانس میں اپیل کی اعلیٰ عدالت نے ان تینوں فوٹوگرافروں کے کیس پر نظر ثانی کا حکم دیا ہے۔ نومبر 2003 میں نچلی عدالت نے ان فوٹوگرافروں کو شخصی آزادی کے قانون کی خلاف ورزی کے مقدمے سے بری کر دیا تھا۔ اِنہیں گزشتہ برس ستمبر میں اپیل کے ایک اور مقدمے سے بھی بری کر دیا گیا تھا۔ فوٹوگرافروں نے ڈیانا اور دودی کے رٹز ہوٹل سے نکلنے پر ان کا پیچھا کیا تھا اور ان کی تصاویر بنائی تھیں اور اسی دوران راستے میں ان کی کار حادثے کا شکار ہو گئی تھی۔ گزشتہ برس ستمبر میں پیرس کی اپیل کورٹ نے کہا تھا پبلک ہائی وے پر کار کو ’ذاتی مقام یا پرائیویٹ جگہ‘ نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم بدھ کو اپیل کی اعلیٰ عدالت نے پیرس کورٹ سے کہا ہے کہ وہ اپنے فیصلے کے اس نکتے پر دوبارہ غور کرے کیونکہ کار کو کسی شخص کا نجی مقام یا جگہ نہ ماننا غلطی ہے۔ نچلی عدالتوں نے کہا تھا کہ رٹز ہوٹل سے نکلنے کے بعد ڈیانا اور دودی کی تصاویر اتارنا شخصی آزادی کی خلاف ورزی نہیں ہے کیونکہ ان دونوں کو بھی علم تھا کہ ان کی تصاویر لینے کی کوشش کی جائے گی۔ اب یہ کیس واپس پیرس کی اپیل کورٹ بھیجا جائے گا جہاں ججوں کا ایک نیا پینل دونوں فریقوں کے دلائل سنے گا۔ اگر ان تینوں فوٹوگرافروں پر الزام ثابت ہو گیا تو انہیں ایک سال کی قید ہو سکتی ہے۔ اس حادثے کی اصل وجوہات کا پتہ لگانے کی تحقیقات 2002 میں بند کر دی گئیں تھیں ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||