BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 April, 2005, 07:10 GMT 12:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیانا کیس پھر توجہ کا مرکز
ڈیانا اور دودی الفائد
ڈیانا اور دودی الفائد کی تصاویر کبھی شائع نہیں ہوئیں
شہزادی ڈیانا اور دودی الفائد کے جان لیوا کار حادثے کی رات ان کی تصاویر اتارنے والے تین فوٹوگرافروں پر دوبارہ مقدمہ چلایا جائےگا۔

فرانس میں اپیل کی اعلیٰ عدالت نے ان تینوں فوٹوگرافروں کے کیس پر نظر ثانی کا حکم دیا ہے۔

نومبر 2003 میں نچلی عدالت نے ان فوٹوگرافروں کو شخصی آزادی کے قانون کی خلاف ورزی کے مقدمے سے بری کر دیا تھا۔

اِنہیں گزشتہ برس ستمبر میں اپیل کے ایک اور مقدمے سے بھی بری کر دیا گیا تھا۔

فوٹوگرافروں نے ڈیانا اور دودی کے رٹز ہوٹل سے نکلنے پر ان کا پیچھا کیا تھا اور ان کی تصاویر بنائی تھیں اور اسی دوران راستے میں ان کی کار حادثے کا شکار ہو گئی تھی۔

گزشتہ برس ستمبر میں پیرس کی اپیل کورٹ نے کہا تھا پبلک ہائی وے پر کار کو ’ذاتی مقام یا پرائیویٹ جگہ‘ نہیں کہا جا سکتا۔

تاہم بدھ کو اپیل کی اعلیٰ عدالت نے پیرس کورٹ سے کہا ہے کہ وہ اپنے فیصلے کے اس نکتے پر دوبارہ غور کرے کیونکہ کار کو کسی شخص کا نجی مقام یا جگہ نہ ماننا غلطی ہے۔

نچلی عدالتوں نے کہا تھا کہ رٹز ہوٹل سے نکلنے کے بعد ڈیانا اور دودی کی تصاویر اتارنا شخصی آزادی کی خلاف ورزی نہیں ہے کیونکہ ان دونوں کو بھی علم تھا کہ ان کی تصاویر لینے کی کوشش کی جائے گی۔

اب یہ کیس واپس پیرس کی اپیل کورٹ بھیجا جائے گا جہاں ججوں کا ایک نیا پینل دونوں فریقوں کے دلائل سنے گا۔

اگر ان تینوں فوٹوگرافروں پر الزام ثابت ہو گیا تو انہیں ایک سال کی قید ہو سکتی ہے۔

اس حادثے کی اصل وجوہات کا پتہ لگانے کی تحقیقات 2002 میں بند کر دی گئیں تھیں ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد