’ماں کا کام جاری رکھوں گا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے شہزادے ہیری نے ایک انٹرویو میں اپنی ماں لیڈی ڈیانا کے متعلق اپنے احساسات اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی ماں کا چھوڑا ہوا امدادی کام جاری رکھیں گے اور ’ان کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا‘۔ بیس سالہ شہزادے نے کہا کہ وہ اور ان کے بھائی شہزادہ ولیم اپنی پوری کوشش کرتے ہیں کہ نارمل رہیں لیکن اخبارات میں لیڈی ڈیانا کے بارے میں منفی خبروں کی اشاعت کی وجہ سے یہ بہت مشکل ہے۔ ہیری نے یہ انٹرویو افریقہ میں ایڈز کے مریضوں کے لیے بنائے گئے ایک یتیم خانے پر بنائی گئی ایک دستاویزی فلم میں دیا۔ ’دی فارگوٹن کنگڈم: پرنس ہیری اِن لیسوتھو‘ میں پرنس ہیری نے اپنے کیمرے سے خود بھی ویڈیو بنائی ہے۔ ایک گھنٹے کے دورانیے کی یہ فلم برطانیہ میں آئی ٹی وی چینل پر اتوار کے روز دکھائی جائے گی۔ فلم کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ یہ پرنس ہیری کا اپنا آئیڈیا ہے۔
انہوں نے جنوبی افریقہ میں لیسوتھو کے انتہائی پسماندہ علاقے بچوں کے یتیم خانے میں آٹھ ہفتے گزارے۔ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یہ بڑی شرم کی بات ہے کہ ان کی ماں کے اچھے کاموں کو بھلا صرف برا مواد سامنے لایا جاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کی ماں زندہ ہوتی تو وہ ایڈز کی مرض میں مبتلا ان یتیموں کے ساتھ ان کے کام کی حمایت کرتیں۔ دستاویزی فلم میں مہالے ہوک میں واقع منسزے چلڈرنز ہوم میں ہیری کو ایڈز کی وجہ سے یتیم ہونے والے بچوں کے ساتھ کھیلتا ہوا دکھایا گیا ہے۔ لیسوتھو کے متعلق خیال ہے کہ اس میں 40 فیصد آبادی یاتو ایچ آئی وی وائرس کا شکار ہے یا اسے ایڈز ہونے والی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||