’ڈیانا کی تفتیش جیوری کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے شہزادی ڈیانا اور محمد الفائد کے بیٹے دودی کی اموات کی سرکاری تفتیش (انکؤسٹ) ایک جیوری کرے۔ ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ محمد الفائد کی درخواست پر سنایا ہے۔ اس رُولنگ سے شاہی محل کی بیرنس کےاس فیصلے کی قانونی حیثیت ختم ہوگئی ہے کہ وہ اکیلے ڈیانا اور دودی کی موت کی تفتیش کریں گی۔ ہائی کورٹ کے تین سینیئر ججوں نے کہا کہ انکؤسٹ کی کارروائی ایک جیوری کے ہاتھوں ہونی چاہیے۔ محمد الفائد نے اس فیصلہ پر کہا کہ یہ ان کے لیے اچھی فتح ہے۔ رولنگ کے بعد انہوں نے کہا :’اگرچہ یہ ایک اچھی کامیابی ہے لیکن دراصل یہ میری دس سال سے جاری جدوجہد کا آغاز ہے جو میں انصاف کے حصول کے لیے کر رہا ہوں۔‘ محمد الفائد نے کہا کہ اب شاہی خاندان کی بڑی شخصیات یعنی شہزادہ فلپ اور شہزادہ چارلس گواہوں کے کٹہرے میں کھڑے ہونے کے لیے تیار ہو جائیں۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے قبل شاہی محل کی تفتیش کار لیڈی بٹلر سلاس کا کہنا تھا کہ ڈیانا کی موت کی تفتیش کا تقاضہ یہ ہے کہ ’صرف ایک کورونر ہی ایک محتاط اور مکمل فیصلہ دے سکتا ہے۔‘ تاہم جمعہ کو ہائی کورٹ نے ان کے اس موقف کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ شہزادی ڈیانا جیسی موت جیسے معاملات میں کورونر پر لازم ہے کہ وہ اکیلے فیصلہ کرنے کی بجائے جیوری بلائے۔ | اسی بارے میں ’ڈیانا قتل کے دعوے بے بنیاد ہیں‘14 December, 2006 | آس پاس ’ڈیانا کا ڈرائیور نشے میں تھا‘09 December, 2006 | آس پاس ڈیانا کے کار حادثے کے نئے شواہد31 May, 2006 | آس پاس شہزادی ڈیانا کی تصویروں کی نمائش22 November, 2005 | آس پاس ڈیانا کیس پھر توجہ کا مرکز14 April, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||