BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 December, 2006, 13:26 GMT 18:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ڈیانا قتل کے دعوے بے بنیاد ہیں‘
شہزادی ڈینا اور دودی اس وقت ہلاک ہوگئے تھے جب ان کی کار ایک سرنگ میں ٹکرا کر تباہ ہو گئی تھی
برطانوی پولیس نے پیرس میں کار کے حادثہ کے بارے میں اپنی انکوائری کے اختتام پر کہا ہے کہ انہیں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ شہزادی ڈیانا اور دودی الفائد کو قتل کیا گیا تھا۔

نو سال قبل ہونے والے اس کار حادثے کی انکوائری کی سربراہی لندن کی میٹرپولیٹن پولیس کے سابق سربراہ لارڈ سٹیونز کر رہے تھے۔

لندن میں ایک پریس کانفرنس میں لارڈ سٹیونز نے کہا کہ رپورٹ ان تمام معاملات کا احاطہ کرتی ہے جو ایک ’نہایت پیچیدہ اور چیلنج سے بھرپور‘ تفتیش کے نتیجے میں ان کے سامنے آئے ہیں۔

انکوائری کے سربراہ نے کہا کہ ان کی تفتیش کا نتیجہ یہ ہے کہ کار میں موجود کسی بھی شخص کو مارنے کی کسی سازش کا کوئی وجود نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک المناک حادثہ تھا۔

لارڈ سٹیونز نے اس بات کی بھی تردید کی کہ حادثے کے وقت شہزادی ڈیانا حمل سے تھیں۔

لاڑڈ سٹیونز کا کہنا تھا کہ تفتیش کے دوران انہوں نے برطانوی شاہی خاندان کے افراد کے ساتھ کئی ملاقاتیں لیکن انہیں کوئی چیز ایسی نظر نہیں آئی جس کی بنیاد پر وہ شاہی خاندان سے مزید تفتیش کریں۔

دودی الفائد کے والد محمد الفائد کئی مرتبہ الزام لگا چکے ہیں کہ کار حادثہ ایک سازش کا نتیجہ تھا اور اس کے پیچھےملکہ الزبتھ کے شوہر پرنس فللپ کا ہاتھ تھا۔

اڑتیس سالہ شہزادی ڈینا اور بیالیس سالہ دودی الفائد اس وقت ہلاک ہوگئے تھے جب اگست سنہ انیس سو ستانوے میں ان کی مرسڈیز کار پیرس میں ایک سرنگ میں ٹکرا کر تباہ ہو گئی تھی۔

انکوائری میں اس خیال کی تحقیق کرنا بھی شامل تھا کہ شہزادی ڈایانا کی موت دراصل ایک سازش کا نتیجہ تھی۔

لارڈ سٹیونز نے اس بات کی بھی تردید کی کہ حادثے کے وقت شہزادی ڈیانا حمل سے تھیں

لارڈ سٹیونز نے مزید کہا کہ اس جس طرح اس تفتیش میں جائے وقوع کی ہر ایک شے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وہ کسی بھی مقدمے میں کی جانے والی سب سے وسیع تفتیش تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وہ دودی الفائد کے والد محمد الفائد کے مشکور ہیں کہ انہوں نے پولیس کو اس تفتیش تک رسائی دی جو الفائد کے اپنے ماہرین کی ٹیم نے کر رکھی تھی۔

آٹھ سو بتیس صفحات پر مشتمل یہ انکوائری رپورٹ آئندہ برس شروع ہونی والی اس تفتیش (انکوئسٹ) کا ایک حصہ ہے جس کا مقصد جوڑے کی موت کی وجوہات تلاش کرنا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد