گجرات،جیڈ پرفیوم کی بوتلیں بنانے کا کام بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹی وی شو ’بِگ برادر‘ میں نسل پرستی کے تنازعے کے بعد بھارت میں جیڈ گُڈی کی پرفیوم کے لیے بوتلیں تیار کرنے والے کارخانے نے اپنا کام روک دیا ہے۔ جیڈ گُڈی کو ٹی وی ریالٹی شو پر بالی وڈ سٹار شلپا شیٹی کے ساتھ نسل پرست رویے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ شو پر بدتمیزی اور جھگڑوں کے بعد عوام نے جمعہ کو ووٹ دیا تھا کہ جیڈ گڈی کو بِگ برادر ہاؤس سے نکال دیا جائے۔ اس کے علاوہ چالیس ہزار افراد نے برطانیہ کی میڈیا ریگیولیٹری اتھارٹی ’آفکام‘ سے اس شو پر نسل پرستی کے بارے میں شکایت کی تھی۔ اس تنازع کا ذکر دنیا بھر کے اخبارات میں آیا اور بھارت اور برطانیہ میں تجزیہ نگاروں اور سیاستدانوں نے بھی اس کے بارے میں بیانات دیے ہیں۔ پچھلے ہفتے برطانیہ میں پرفیوم فروخت کرنے والی ایک بڑی کمپنی ’دا پریوم شاپ‘ نے اعلان کیا تھا کہ وہ اب یہ پرفیوم نہیں بیچیں گے۔ اس کمپنی کی دکانیں برطانیہ کے تقریباً ہر شاپنگ سینٹر میں ہیں۔ مغربی گجرات میں واقع ’پرگتی گلاس‘ کے نائب صدر سٹیون نورونھا نے بھارتی روزنامہ ’دا ٹائمز آف انڈیا‘ کو بتایا کہ ’ہم تو بوتلیں تیار کر رہے تھے لیکن برطانیہ میں ہمارے گاہک نے انہیں کہا ہے کہ اب بوتلیں بنانے کا کام روک دیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ جیڈ گُڈی نے پچھلے سال اس کارخانے کا دورہ بھی کیا تھا۔ مسٹر نورونھا کا کہنا تھا کہ اس وقت تو جیڈ گڈی تمیزدار سی معلوم ہوتی تھیں۔ ’انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ انڈیا بہت خوبصورت ملک ہے۔ لیکن شاید یہ سب یہی کہتے ہیں۔‘ کارخانے میں کام کرنے والوں کا کہنا تھا کہ ٹی وی پر جیڈ گُڈی کے رویے سے ان کے جذبات بری طرح مجروح ہوئے ہیں۔ منیش اگروال نامی ایک اہلکار نے کہا ’میں بطور گاہک ان کی عزت کرتا تھا لیکن ہم ان کے رویے اور حرکتوں سے حیران اور پریشان ہیں۔ آپ اگر ایک مرتبہ ایک پوری قوم کی اس طرح سے توہین کریں تو اس کو واپس لینا نا ممکن ہے۔ دلی میں بی بی سی کے نامہ نگار سنجئے مجومدار کا کہنا ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ کارخانے نے سوچا ہو کہ انہیں اس تنازع کے پیش نظر جیڈ گڈی اور ان کے کاروبار سے دوری اختیار کر لینی چاہیے۔ |
اسی بارے میں گلابی ساڑھی، بگ برادر اور شلپا04 January, 2007 | فن فنکار ’شلپا شیٹی بناوٹی ہے‘ 11 January, 2007 | فن فنکار شلپا برطانوی پارلیمان میں17 January, 2007 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||