’ہاں مجھے نسلی تعصب کا سامنا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے پروگرام ’بگ برادر‘ میں شامل بالی وڈ اداکارہ شلپا شیٹی نےکہا ہے کہ انہیں نسلی امتیاز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شلپا شیٹی نے’ بگ برادر‘ میں جھگڑے کے بعد کہا ہے کہ اس کے ساتھ سب کچھ نسلی تعصب کی وجہ سے کیا جا رہا ہے۔ جھگڑے کے بعد جب انہیں ساتھی کلیو روکس نےشلپا شیٹی کوتسلی دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب نسلی تعصب کا نتیجہ نہیں ہے تو شلپا نے جواباً کہا ’میں آپکو کو بتا رہی ہے یہ اسی وجہ سے ہے۔‘ چینل فور نے کہا ہے کہ پروگرام کے دوران شلپا شیٹی کو’کھلے نسلی تعصب‘ کا سامنا نہیں ہے البتہ انہیں برطانوی خواتین کے طرف سے ثقافتی اور طبقاتی کشمکش کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔‘ چینل فور نے کہا ہے کہ پروگرام کے رہائشیوں کو اگر کوئی شکایت ہے تو وہ بگ برادر کے پاس شکایت کر سکتے ہیں لیکن بگ برادر کو ابھی تک ایسی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ شلپا شیٹی کے ساتھ مبینہ نسلی امتیاز کا معاملہ برطانوی اور ہندوستان کے حکومتی ایوانوں تک پہنچ چکا ہے۔ وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو بدھ کے روز برطانوی پارلیمان میں شلپا شیٹی کے مبینہ نسلی تعصب سے متعلق سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم ٹونی بلیئر نے دارالعوام کو بتایا ہے کہ وہ چینل فور کے اس پروگرام پر رائے دینے سے قاصر ہیں کیونکہ انہوں نے یہ پروگرام نہیں دیکھا ہے۔ برطانوی وزیر خزانہ اور مستقبل کے ممکنہ وزیر اعظم گورڈن براؤن نے جو بھارت کے دورے پر ہیں، نے ’برطانوی رواداری‘ کے منفی رویے کی مذمت کی ہے۔ ہندوستان کے وزیر مملکت برائے خارجہ آنند شرما نے برطانیہ میں چینل فور پر نشر ہونے والے ٹی وی شو ’بگ برادر‘ میں بالی وڈ اداکارہ شلپا شیٹی کے خلاف ہونے والے مبینہ نسلی امتیاز کی مذمت کی ہے۔ آنند شرما کا کہنا ہے کہ ’ہندوستان میں نسل پرستی کے خلاف ایک واضح پالیسی ہے اور اس طرح کے واقعات دنیا میں کہیں بھی رونما ہوں ہم اس کی مذمت کرتے ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ ملک کے باہر ہوا ہے اس لیے ہندوستانی حکومت اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتی۔ برطانیہ میں نشریاتی امور کا نگران ادارہ آفکوم ’بگ برادر‘ میں شلپا شیٹی کے ساتھ مبینہ نسلی امتیاز کی 19300 شکایات پر تحقیقات کر رہا ہے۔ کسی بھی پروگرام کے بارے میں اتنی تعداد میں شکایات اس سے پہلے کبھی نہیں موصول ہوئیں۔اس کے علاوہ چینل کو براہ راست 2000 شکایت موصول ہوئی ہیں۔
رکن پارلیمان کیتھ واز نے ٹونی بلیئر سے پارلیمان میں سوال کیا تھا کہ ’نشریاتی اداروں کو لاکھوں عوام تک کوئی بھی ایسا پروگرام نشر کرنے سے پہلے احتیاط کرنی چاہیے جس میں تعصب نظر آتا ہو‘۔ دارالعوام نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے پر فوری ایکشن لیا جائے اور بگ برادر کے ارکان کو یاد دلایا جائے کہ نسلی امتیاز ناقابل قبول ہے۔ اس سے قبل برطانوی وزیر خزانہ ای ڈی بالز نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ برطانیہ میں نسلی امتیاز کے الزامات دنیا بھر میں ملک کے امیج کو بگاڑ رہے ہیں۔ ہندوستانی وزیر آنند شرما کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی مکمل تفصیلات سامنےآنے پر وہ اس کے بارے میں مناسب اقدامات کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہذب معاشرے میں نسل پرستی کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ بگ برادر کو سپانسر کرنے والے ادارے ’کارفون ویئر ہاؤس‘ نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ وہ اپنے معاہدے پر نظر ثانی کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ نسلی امتیاز کے خلاف ہیں اور انہیں چینل فور پر پورا بھروسہ ہے۔ ہرٹ فورڈ شیئر پولیس نے بھی کہا ہے کہ انہیں اس پروگرام کے بارے میں دو شکایات ملی ہیں تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا یہ بھی نسلی امتیاز سے متعلق ہیں۔
شو کے چند شرکاء نے گزشتہ کئی دنوں سے شلپا کے خلاف مل کر محاذ سا بنا یا ہوا ہے۔ جیڈ گوڈی، ڈینیئل لائڈ اور جو او میرا نے پروگرام کے دوران شلپا کے ہندوستانی لہجے کا بھی مذاق اڑایا۔ انہوں نے یہ شکایت بھی کی تھی کہ شلپا نے ان کے کھانے کو ہاتھ سے چھوا تھا۔ سابق بیوٹی کوئین ڈینیئل لائڈ نے کہا کہ شلپا کے ہاتھ نجانے کتنے گندے ہوں گے۔ پیر کو نشر کی گئی قسط میں او میرا نے کہا کہ انڈین افراد پتلے ہوتے ہیں کیونکہ وہ کچی غذہ کھا کھا کر بیمار رہتےہیں۔ جیڈ بھی پروگرام کے دوران شلپا سے مسلسل بحث میں مصروف نظر آئیں۔ پروگرام کے ایک ترجمان اس سے قبل بگ برادر دکھائے جانے کا دفاع کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کو حق ہے کہ تصویر کا اصل رخ دیکھ سکیں۔ جوڈی کی والدہ جیکی شو کے دوران شلپا کو ’انڈین‘ کہہ کر بلاتی رہیں اور وہ ان کے نام کو بھی درست طریقے سے ادا نہیں کرپا رہی تھیں۔ بگ برادر شو سے باہر ہونے والی کیرل میلون کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ شلپا کے خلاف واقعات حسد کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے بی بی سی ایشین نیٹ ورک کو بتایا کہ شلپا نہ صرف خوبصورت ہیں بلکہ ذاتی طور پر بھی وہ ایک اچھی خاتون ہیں اور اس صورت حال کو کنٹرول کرنے کے ہنر سے بھی واقف ہیں۔ |
اسی بارے میں ’شلپا شیٹی بناوٹی ہے‘ 11 January, 2007 | فن فنکار ہندوستانی ناظرین کے لیئے’بگ برادر‘20 July, 2006 | فن فنکار بگ برادر میں شلپا شیٹی بھی 03 January, 2007 | فن فنکار گلابی ساڑھی، بگ برادر اور شلپا04 January, 2007 | فن فنکار پاکستان میں بہت پیار ملا، شلپا شیٹی 11 February, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||