فلموں کے ناموں پر دوہری پالیسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگرچہ پاکستان میں بدمعاشوں، اشتہاری مجرموں اور ذات برادری کے ناموں پر فلمیں بنانے پر پابندی ہے لیکن فلم سنسر بووڈ اس مسئلے پر دوہری پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ جب اس طرح کی فلمیں بننے کا رحجان زیادہ عام ہوا تھا تو سنجیدہ فلمی اور غیر فلمی حلقوں نے سخت احتجاج کیا تھا جس کے نتیجے میں وزارتِ ثقافت اور مرکزی فلم سنسر بورڈ نے ایسی فلموں پر پابندی کا اعلان کر دیا تھا- اس پابندی کے اعلان پر عملدرآمد کی صورتحال بھی وہی ہے جو پاکستان میں باقی قوانین پر عملدرآمد کی ہے اورپھر پاکستان کے قوانین بھی موم کی ناک کی طرح بہت لچکدار ہیں یعنی پاکستان میں بدمعاشوں اور ذات برادری کے ناموں پر فلمیں بنانے پر بدستور پابندی عائد ہے مگر ساتھ ساتھ ایسی فلمیں بھی بن رہی ہیں۔ اور جب ایسی فلمیں بن جاتی ہیں تو وزارت ثقافت اور مرکزی فلم سنسر بورڈ„ فلم انڈسٹری کے ’وسیع تر مفاد‘ کی خاطر ان کی نمائش کی اجازت دے دیتے ہیں۔ اس بات کی مثال اس طرح دی جا سکتی ہے کہ گزشتہ عید الفطر سے دوہفتے قبل فلم سنسر بورڈ کے سیکرٹری خالد بٹ نے اخبارات میں بیان شائع کرایا کہ جو فلمساز بدمعاشوں اور ذات برادری کے ناموں پر فلمیں بنا رہے ہیں وہ نام تبدیل کر لیں ورنہ ان کی فلمیں سنسر نہیں کی جائیں گی۔ جب عید قریب آئی تو فلم سنسر بورڈ نے دوایسی فلمیں جو پابندی کی زد میں آتی تھیں یعنی ’ پیو بدمعاشاں دا‘ اور ’پپو گجر‘ پاس کردیں اور انہیں عید پرنمائش کے لیے پیش کر دیا گیا۔ ان دو فلموں کے بارے میں جب میں نے سیکرٹری سنسر بورڈ سے پوچھا گیا تو انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ ’اوپر‘ سے آرڈر آئے تھے تو میں نے پھر پوچھا کہ اگر آپ نے فلمیں پاس کرنی ہی تھیں تو فلمسازوں کو نام بدلنے کی ہدایت کیوں دی۔ سیکرٹری سنسر بورڈ نےکہا کہ وہ آرڈر بھی ’اوپر‘ سے آئے تھے-
ہم نے فلمسازوں اور فلم سنسر بورڈ کی اس آنکھ مچولی پر فلم انڈسٹری کی کچھ اہم شخصیات سے اس مسئلے پر بات چیت کی۔ اور اس پر مختلف لوگوں نے مختلف آراء ملیں۔ فلم سنسر بورڈ کے وائس چیئرمین ذکاءالحق کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں بدمعاشوں اور ذات برادری کے ناموں پر فلمیں بنانے کی اجازت نہیں پچھلے دنوں’ایبا گجر‘ کے نام سے ایک فلم سنسر کے لیے آئی ہم نے کہا جب تک آپ گجر کا لفظ نہیں ہٹائیں گے اس وقت فلم سنسر کے لیے وصول نہیں کی جائے گی انہوں نے گجر کا لفظ ہٹالیا چنانچہ ہم نے ’ایبا‘ کے نام سے سنسر سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا‘- ایک اور فلم ’بٹ بادشاہ‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’جب اس نام سے فلم ہمارے پاس سنسر کے لیے آئی تو ہم نے اس پر اعتراض کیا لیکن اوپر سے سفارش آگئی جس پر ہمیں اس فلم کو سنسر سرٹیفیکیٹ جاری کرنا پڑا‘- انہوں نے کہا کہ فلموں کے ناموں کی رجسٹریشن فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کرتی ہے اسے چاہیے کہ وہ ایسی فلموں کی رجسٹریشن ہی نہ کرے جن کے نام بدمعاشوں‘ اشتہاری مجرموں یا ذات برادری کے ناموں پر رکھے جاتے ہیں۔ پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین جمشیدظفر نے کہا کہ ’ہم نے اپنے سابقہ دور میں ایسی فلموں کی رجسٹریشن سے انکار کر دیا جن کے نام بدمعاشوں اور ذات برادری کے ناموں پر تھے۔ ہمارے اس عمل پر بہت احتجاج ہوا اور پھر وہی ٹائٹل سنسر بورڈ نے بھاری رشوت لے کر پاس کرنے شروع کر دیے جس کے ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں‘- جمشید ظفر کا کہنا تھا کہ ان فلمی ٹائٹلز کے پاس ہونے کے بعد انہوں نے سوچا کہ ’جب سنسر بورڈ ایسے نام پاس کر رہا ہے تو پھر دوستوں کو ناراض کیوں کریں۔ چنانچہ ہم نے بھی ایسے ناموں کی رجسٹریشن شروع کر دی- میں ذاتی طور پر اس بات کے خلاف ہوں کہ ہم غنڈوں اور بدمعاشوں کو ہیرو بنا کر پیش کررہے ہیں‘- ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جب تک فلمسازوں کے سر پر حکومتی ڈنڈا نہیں ہوگا اس وقت وہ ایسی من مانیاں کرتے رہیں گے- اگر حکومت اورسنسر بورڈ چاہے تو یہ سارا معاملہ درست ہوسکتا ہے اور وہ اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہیں-
معروف فلم ڈائریکٹر سید نور کا کہنا ہے کہ ’جو شخص پیسے لے کر آتا ہے وہ اپنی مرضی سے فلم بناتا ہے اور یہ جو فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن یا سنسر بورڈ ہے اس کی ذمہ داری ہے کہ ایسے ٹائٹل قبول نہ کریں- یہ سلسلہ چونکہ بند نہیں ہورہا اس لیے اس کا واحد حل یہ ہے کہ فلموں کی کیٹیگریز بنا دی جائیں کہ یہ فیملی فلم ہے، یہ بچوں کے لیے اور یہ بالغوں کے لیے مخصوص ہے-اس طرح کسی کو شکایت نہیں رہے گی کہ پاکستان میں ایک ہی ٹائپ یعنی بدمعاشوں اور ذات برادری کے ناموں پر فلمیں بنتی ہیں‘- اداکارہ میرانے کہا کہ ’فلم سنسر بورڈ والے اپنا مذاق خود اڑواتےہیں۔ پہلے بدمعاشوں، اشتہاری مجرموں اور ذات برادری کے ناموں پر بننے والی فلمیں پاس نہ کرنے اعلانات کرتے اور پھر خود ہی پاس بھی کر دیتے ہیں-اگرسنسر بورڈ نے ایسی فلمیں پاس کرنی ہوتی ہیں تو پھر اس کو جھوٹے دعوے نہیں کرنے چاہیں‘- اداکار شان جو بدمعاشوں، اشتہاری مجرموں اور ذات برادری کے ناموں پر بننے والی فلموں کے مقبول ترین ہیرو ہیں، نے کہا کہ ’میں خود ایسی فلموں میں کام نہیں کرنا چاہتا۔ مجبورا ایسا کر رہا ہوں کیونکہ زیادہ تر فلمیں بن ہی ایسی رہی ہیں- حکومت کو چاہیے کہ اس بات کا نو ٹس لے او ر اصلاح احوال کے لیے کوئی انقلابی اقدامات کرے‘- فلم ڈائریکٹر پرویز رانا نے کہا کہ ’جو لوگ بدمعاشوں اور ذات برادری کے ناموں پر اعتراض کرتے ہیں وہ فلم انڈسٹری سے اگر مخلص ہیں تو ایک کروڑ روپے دیں اور پھر جو نام وہ کہیں گے ہم وہ رکھیں گے۔ ویسے بدمعاش اور مفرور بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں اور ہم جیسے انسان ہیں۔ وہ بدمعاش اور مفرور کیسے بنتے ہیں یہ بھی لوگوں کو پتہ چلنا چاہیے‘۔
فلم ’پیو بدمعاشاں دا‘ کے پروڈیوسر خادم چودھری نے کہنا تھا کہ ’ہماری فلم انڈسٹری میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو خود فلمیں نہیں بنارہے اور جولوگ فلمیں بنا رہے ان پر اپنی لیڈری چمکانے کے لیے تنقید کر رہے ہیں۔ اگرہماری مدد کی جائے تو ہم بھی صاف ستھری فلمیں بنا سکتے ہیں‘- فلم رائٹر رشید ساجد نے کہا کہ ’فلم انڈسٹری کا جو طاقتور طبقہ ہے وہ پبلک ڈیمانڈ کے نام پر ایسے موضوعات پر فلمیں بنا رہا ہے۔ بعض اوقات سنسر بورڈ اور بعض اوقات فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن نے بدمعاشوں اور ذات برادری کے ناموں پر ایک کمزور سی پابندی ضرور عائد کی مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا کیونکہ یہ ایک کمرشل کام ہے اور تجارت کا اصول یہ ہے کہ کارخانے والے وہی چیز بنائیں گے جس کی مارکیٹ میں ڈیمانڈ ہوگی‘۔ | اسی بارے میں فرقہ واریت: سید نور کی متنازع فلم03 September, 2004 | پاکستان اننچاس فلموں پر پابندی لگائی گئی09 February, 2004 | پاکستان بھارتی فلمیں: نمائش بدستور ممنوع15 June, 2005 | پاکستان ’یکسانیت ہے مگر کلاس کا فرق ہے‘08 December, 2005 | پاکستان فلمی خاکے: ’جہاں تک دیکھا‘ 13 May, 2006 | پاکستان عید پر گیارہ نئی فلمیں23 October, 2006 | پاکستان عامر چیمہ پر فلم بنے گی13 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||