’یکسانیت ہے مگر کلاس کا فرق ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی نوجوان فلم ڈائریکٹر ثمینہ مشرا نے کہا ہے کہ بھارت ہو یا پاکستان پوری دنیا میں مسلمانوں میں یکسانیت ہے مگر کلاس کے اثرات ہر جگہ موجود ہیں۔ کراچی میں جاری بین الاقوامی فلم فیسٹیول کارا میں جمعرات کے روز ثمینہ مشرا کی پہلی فلم ’دی ہاؤس آف گل موہرا ایوینیو‘ سکریننگ کی گئی۔ یہ فلم اس سوال کے گرد گھومتی ہے کہ بھارت میں آج کل مسلمان کا تصور کیا ہے۔ اور ان کے بارے میں کیا تاثرات ہیں۔ کلاس کی وجہ سے ان کے تصورات کس طرح مختلف ہیں اس کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ثمینہ مشرا کا تعلق بھارت کے سیاسی گھرانے سے ہے ۔ ان کے دادا ذاکر حسین بھارت کے سابق صدر اور ماموں سلمان خورشید وزیر خارجہ رہے ہیں۔ ثمینہ نے اپنی مرضی سے ایک ہندو نوجوان کمل سے شادی کی ہے۔ ان کا ایک بیٹا ہے جس کا نام عمران ہے۔ ثمینہ مشرا نے بتایا کہ میرا نام مکس ہے مگر میری شناخت مسلم ہے۔ مسلم شناخت کو بھلانا آسان نہیں ہے۔ لیکن میرا جس خاندان سے تعلق ہے وہ ’پریکٹیکل پریکٹشنر‘ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت میں شناخت صرف مذہب کی بنیاد پر بھی نہیں ہوتی۔ وہاں رنگ نسل اور زبان کے علاوہ کلاس بھی حیثیت رکھتی ہے۔ آئین کے مطابق کوئی شہری کوئی بھی مذہب اپنا سکتا ہے۔ ریاست کسی مذہب کو اپنانے کے لئے زور نہیں ڈال سکتی۔ مگر سماجی دباؤ رہتا ہے۔
ثمینہ مشرا کے مطابق بھارت میں گزشتہ دو دہائیوں میں جس قسم کی سیاست نے فروغ پایا ہے اس میں یہ پوچھا جاتا ہے کہ ہم مسلم ہیں یا نہیں۔ شادی کے وقت تو شناخت بہت اہمیت رکھتی ہے۔ ایک ہندو سے شادی کے بارے میں ثمینہ مشرا کا کہنا تھا کہ یہ مشکل چوائس نہیں ہے۔ اگر لوئر کلاس کا کوئی فرد ایسا کرتا تو اس کے لئے مسئلہ بن سکتا تھا۔ فلم ’دی ہاؤس آف گل موہرا ایوینیو‘ نئی دہلی کے علاقے اوکلا میں بنائی گئی ہے۔ اس میں مسلمانوں کی اکثریتی آبادی رہائش پذیر ہے۔ اس علاقے کو منی پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ جبکہ سکیورٹی کی وجہ سے کچھ مسلمان خاندان یہ علاقہ چھوڑ چکے ہیں۔ تاہم کچھ لوگوں نے اس علاقے کو محفوظ سمجھتے ہوئے رہائش اختیار کی ہے۔ فلم میں ایک بزرگ خاتون بتاتی ہیں کہ وہ برقعہ پہنتی تھیں مگر بعد میں پہننا چھوڑ دیا۔ ’مجھے یاد نہیں کہ میں نے ایسا کیوں کیا مگر اس ڈر کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا ہوگا کے اس سے ہم پہچانے جائینگے کہ ہم مسلمان ہیں۔‘ خاتون نے بتایا ’ہم مسلم لیگ کو صحیح نہیں سمجھتے تھے۔ کانگریس کیساتھ تھے۔ مگر لوگوں کی ایک بڑی تعداد مسلم لیگ کیساتھ تھی۔ جو اس کو صحیح سمجھتے تھے۔‘ اس دستاویزی فلم میں بھارت کے سابق صدر ذاکر حسین کے گھرانے کو دکھایا گیا ہے۔ جبکہ ڈائریکٹر نے اپنے تجربات اور محسوسات کو پیش کیا ہے۔ | اسی بارے میں رات اندھاری آئے26 November, 2005 | پاکستان غیرت کے نام پر قتل پر فلم25 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||