رقاصہ شکیرا اب بالی وڈ میں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایم ٹی وی ایوارڈ کے پروگرام میں بالی وڈ کی طرز پر رقص پیش کرنے کے بعد کولمبیا ئی رقاصہ شکیر اب بالی وڈ میں کام کرنے کی خواہش مند لگ رہی ہیں۔ شکیرا نے بالی وڈ کے رقص کی باریکیوں کو بہت جلد سیکھ لیا ہے اورانہیں یقین ہے کہ بالی وڈ کی مشہور کوریوگرافر اور ہدایت کار فرح خان کی مدد سے یہ کام انجام دیا جا سکتا ہے۔ فرح اور شکیرا نے ایم ٹی وی ایوارڈ نائٹ کے دوران ساتھ کام کیا تھا۔ شکیرا نے نیو یارک میں منعقد ہونے والے اس پروگرام میں ’ہپس ڈانٹ لائی‘ کے لیئے بہترین رقاصہ کا خطاب حاصل کیا حلانکہ ان کی نامزدگی الگ الگ سات زمروں میں کی گئی تھی۔ فرح خان نے کہا کہ’ جب ہم ریہرسل کر رہے تھے تو شکیرا نے یہ خواہش ظاہر کی کہ ہم لوگوں کوایک ساتھ ضرور کام کرنا چاہیئے‘۔ فرح کے مطابق شکیرا نے کہاکہ’ میں وہاں ضرور آؤنگی اور بالی وڈ کے لیئے ویڈیو میوزک پر کام کروں گی‘۔ فراح نے بتایا کہ پروگرام کے ایک دن پہلے شکیرا نے ان کے ساتھ محض چار گھنٹے ریہرسل کیا لیکن انہوں نے بہت ہی جلد بالی وڈ کے روایتی رقص کی باریکیوں کو سیکھ لیا۔ انہوں نے کہاکہ’ شکیرادنیا کے بہترین رقاصاؤں میں سے ایک ہیں۔ اس وجہ سے پروگرام کے متعلق لوگوں میں کافی چرچہ تھا اور ہمارے اوپر بہتر ین کام کرنے کا دباؤ بھی تھا‘۔
فرح نے ایم ٹی وی سے آفر ملنے کے بعد شکیرا کےساتھ کام کرنا شروع کیا تھا۔ فرح نے سب سے پہلے شکیرا کو ایک ٹیپ دیا جس میں رقص کے تالوں اور حرکتوں سے متعلق جانکاری تھی۔ فرح کا کہنا تھا کہ شکیرا نے اس پر کافی محنت کی اور بہت ہی جلد اسے سیکھ لیا۔ وہ ہندوستان کے روایتی رقص کو کافی پسند کرتی ہیں اور اس روز ہم نے اس سے متعلق کافی ریہرسل بھی کی۔ شکیرا کے پاس رقص سے متعلق کافی آئڈاز تھے لیکن اس روز وقت کی کمی کے سبب ہم کئی چیزوں کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔ فرح نے کہا کہ’ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ میری آنے والی فلم ’اوم شانتی اوم‘ میں کوئی کردار ادا کریں گی یا گانا گائیں گی لیکن اگر وہ دستیاب ہوں گی تو مجھے خوشی ہو گی۔‘ فراح نے کہا کہ’اگر وہ میری فلم میں کام کرتی ہیں تو مجھے ان کے لیئے ایک نئے گانے کی تخلیق کرنا پڑے گی‘۔ فرح نے کہا کہ اس پروگرام کے دوران جسٹین ٹیمبر لیک اور بیاونس کے کام کو قریب سے دیکھنے کا تجربہ میرے لیئے بالکل نیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام پر جتنی رقم خرچ کی گئی اور اسے کامیاب بنانے کے لیئے جس طرح کی کوششیں کی گئیں وہ ایک مثال تھی۔ اس کے علاوہ اس پروگرام میں شرکت کرنے والے تمام آرٹسٹ کافی محنتی تھے۔ | اسی بارے میں رقص پر پابندی بلا جواز ہے25 September, 2003 | فن فنکار یوگنڈا میں برہنہ رقص کے لائسنس05 May, 2004 | فن فنکار مصری بیلی ڈانس کو بحران کا سامنا 31 March, 2005 | فن فنکار ’سالسا‘ ایک شوخ اور منفرد رقص22 April, 2005 | فن فنکار نیشنل ڈانس فاؤنڈیشن کا منصوبہ14 November, 2005 | فن فنکار لندن میں ہفتۂ ناچ23 July, 2006 | فن فنکار فرح کے اشاروں پر شکیرا کا رقص14 August, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||