امیتابھ آپریشن کے بعد مزید بہتر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈاکٹروں کے مطابق بولی وڈ کے سپرسٹار امیتابھ بچن کی حالت ممبئی کے لیلا وتی اسپتال میں آنتوں کے آپریشن کے بعد اب مزید بہتر ہے۔ انہیں آنتوں کی سوزش کی شکایت تھی جس کے بعد انہیں دلی سے ممبئی لایا گیا۔ بدھ کی رات کو 63 سالہ امیتابھ بچن کا آپریشن کیا گیا۔ جس کے بعد انہیں تین دن کے لیے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں رکھا گیا۔ سو سے زائد فلموں میں اداکاری کرنے والے امیتابھ کی طبیعت اتوار کو خراب ہو گئی تھی جس کے بعد پہلے ان کا دلی میں علاج کرنے کی کوشش کی گئی جس کے بعد انہیں ممبئی لایا گیا۔ بی بی سی کی ایک نیوز ویب سائٹ پر کیے جانے والے ایک سروے میں قارئین نے انہیں گزشتہ ہزار سال کا سب سے مشہور اداکار قرار دیا تھا۔ اسپتال نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کی صحت کے بارے میں نیا بیان جمعرات کو جاری کیا جائے گا۔ انہیں پیٹ میں درد کی شکایت تھی جو اسپتال کے ذرائع کے مطابق چھوٹی اور بڑی آنت میں سوزش کی وجہ سے ہو رہی تھی۔ امیتابھ بچن کے مداحوں اور بولی وڈ کے اداکاروں کی بڑی تعداد اس اسپتال کے باہر جمع تھی جہاں امیتابھ زیر علاج ہیں۔ اسپتال کے باہر ہی نہیں پورے بھارت میں کہا جاتا ہے کہ امیتابھ کے جلد صحتیابی کے لیے دعائیں مانگی جا رہی ہیں۔
آپریشن کی کامیابی کے بعد ان کے ایک مداح سوگت نے جو گزشتہ چار دن سے کلکتہ کے ایک مندر میں ان کی صحتیابی کے لیے پوجا کر رہے تھے کہا ہے کہ ’بھگوان نے ہماری دعائیں سن لی ہیں‘۔ امیتابھ بچن کی بیماری کی خبریں بھارتی اخبارات میں مسلسل پہلے صفحات پر شائع ہو رہی ہیں اور ریڈیو اور ٹیلیویژن چینلوں سے نشر کی جا رہی ہیں۔ ڈاکٹروں نے ابھی اس بارے میں کوئی بات نہیں کی کہ ان کی موجودہ علالت اور اور 1982 میں بنائی جانے والی فلم ’قلی‘ کی شوٹنگ کے دوران امیتابھ بچن کو لگنے والی چوٹ کے مابین کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ پیر کی رات ان طبیعت پہلی بار اس وقت خراب ہوئی جب وہ لکھنؤ میں ہونے والی ایک تقریب میں شریک تھے۔ پیٹ میں درد کے بعد امیتابھ بچن کو پہلے دہلی کے ایک ہسپتال اور بعد میں ممبئی کے لیلاوتی ہسپتال میں لایا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ممبئی لائے جانے کے بارے میں امیتابھ نے خود کہا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ ان کے خاندان کا ڈاکٹر ان کا علاج کرے۔ ممبئی آمد کے بعد ان کے کئی ٹیسٹ کیے گئے جن کی رپورٹوں کے نتیجے میں بدھ کو ان کا آپریشن کیا گیا۔ بڑھتی ہوئی عمر اور سو سے زائد فلموں میں اداکاری کے باوجود بھی ان کی رفتار میں کوئی کمی نہیں آئی تھی اور 2005 میں ہی ان کی گیارہ فلمیں آ چکی ہیں۔ جب کہ دو فلمیں دسمبر میں انے والی ہیں۔ وہ اس وقت بھارت کے سب سے بڑے ٹی وی سٹار بھی ہیں اور روپرٹ مردوک چینل سٹار پر ’ہو وانٹس ٹو بی اے ملینئر‘ کی طرز پر ’کون بنے گا، کروڑ پتی‘ کے عنوان سے ایک گھنٹے کا پروگرام پیش کرتے ہیں۔ وہ بھارت کے پہلے اداکار ہیں جن کا مجسمہ سن دو ہزار میں مادام تساؤ کے مومی مجسموں کے عجائب گھر میں لگایا گیا۔ وہ اب تک ہالی وڈ کی فلموں میں کام کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں لیکن گزشتہ سال انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ ہالی وڈ کی فلوں میں کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ مراکش میں ہونے والی ایوارڈ کی تقریب کے دوران ان کی برطانوی ہدایتکار سر ریڈلی سکاٹ سے فلموں میں کام کرنے کے بارے میں بات ہوئی تھی لیکن کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے 1970 سے اپنے فلمی کیرئر کا آغاز کیا لیکن ان کی شناخت 1980 میں بنی جن انہیں ناراض نوجوانوں کی علامت کے طور پر جانا جانے لگا۔ | اسی بارے میں امیتابھ بچن کا کامیاب آپریشن01 December, 2005 | انڈیا امیتابھ کی حالت بہتر29 November, 2005 | انڈیا ڈان اور شعلے دوبارہ بنیں گی10 July, 2005 | فن فنکار ’اچھے مارکیٹنگ سسٹم کی ضرورت‘14 April, 2005 | فن فنکار گاندھی۔بچن خاندانوں کی سرد جنگ18 October, 2004 | انڈیا ایک نئی ’دیوار‘25 June, 2004 | فن فنکار امیتابھ بچن اور شاہ رخ نمبر ون02 December, 2003 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||