شاہ رخ کا بنگلہ آثارِ قدیمہ ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بولی وڈ اداکار شاہ رخ خان کبھی کسی تنازعہ کا شکار نہیں ہوئے لیکن جب سے انہوں نے اپنا بنگلہ’منت‘خریدا ہے ، وہ کسی نہ کسی وجہ سے سرخیوں میں رہے ہیں۔ ممبئی کی ایک عدالت میں سیرل میکوان نامی شخص نے مفاد عامہ کی عرض داشت داخل کی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ بنگلے ’منت‘ کا شمار آثار قدیمہ میں ہوتا ہے اس لیے وہاں جاری تعمیر فوراً بند کی جائے ۔ شاہ رخ خان اپنے بنگلہ کے پاس کی زمین پر ایک عمارت تعمیر کر رہے ہیں جس میں وہ عالیشان فلیٹ بنا کر اپنے دوستوں کو دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ اس کے علاوہ وہاں سوِمنگ پول اور ورزش گاہ بھی بنا رہے تھے ۔ ممبئی کی ایک عدالت نے اداکار شاہ رخ خان کے ساتھ ساتھ مہاراشٹر حکومت اور ممبئی میونسپل کارپوریشن کو حکم دیا ہے کہ وہ سات دسمبر سے قبل حلف نامہ عدالت میں داخل کر کے اپنا موقف پیش کریں۔ شاہ رخ خان نے سن دو ہزار تین میں ممبئی کے مضافات باندرہ میں ایک بنگلہ خریدا جس کا نام ’لینڈز اینڈ‘ تھا۔ بنگلے اور اس کے اطراف کی جگہ آثار قدیمہ میں شمار ہوتی تھی اور سن انیس سو چورانوے میں حکومت نے اس جگہ کو آرٹ گیلری کی تعمیر کے لیے مختص کر دیا تھا۔ بعد میں حکومت مہاراشٹر نے اس قطع ارضی سے ریزرویشن ہٹا دی اور اسے شاہ رخ خان کو فروخت کر دیا تھا۔ عدالت نے اسی لیے شاہ رخ خان کے ساتھ حکومت اور بی ایم سی سے جواب طلب کیا ہے۔ قانون کے مطابق آثار قدیمہ میں شمار کی گئی عمارت میں کسی طرح کا ردوبدل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس کا نام بدلا جا سکتا ہے اور شاہ رخ پر اس قانون کی خلاف ورزی کا الزام ہے ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||