غنی خان اور کیٹس رومان کے شاعر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک نے عمر پائی بیاسی سال جبکہ دوسرے نے چھبیس برس کی قلیل زندگی، لیکن دونوں کو شہرت ملی موت کے بعد۔ ایک نے انجینرنگ کی تعلیم حاصل کی دوسرے نے طب کی، لیکن دنوں نے ان پیشوں کو خیرباد کہا اور کسی اور ہنر میں نام کمایا۔ ایک کا تعلق پاکستان جبکہ دوسرے کا ہزاروں میل دور انگلستان سے تھا، دونوں میں ایک صدی کا فرق بھی لیکن دنوں کی سوچ اور خیالات قدرے ایک جیسے۔ دونوں یکسر مختلف معاشرے سے، ایک نے پشتو جبکہ دوسرے نے انگریزی زبان میں شاعری کی لیکن دنوں کی وجہ شہرت میں بڑا اہم مشترکہ جُز رومان ہے۔ یہ ذکر ہو رہا ہے صوبہ سرحد کے معروف شاعر غنی خان اور برطانیوی شاعر جان کیٹس کا۔ یہ تو ان دو شاعروں کی چند ایسی خصوصیات تھیں جو یا تو مشترک تھیں یا مختلف۔ لیکن ان ’الفاظ کے جادوگروں‘ پر تفصیلی نظر ایک تازہ شائع ہونے والی کتاب ’سٹرینز آف رومنٹسیزم ان عبدالغنی خان اینڈ جان کیٹس پوئٹری – اے کمپیریٹیو سٹڈی‘ میں ڈالی گئی ہے۔ تین سو چھیانوے صفحات پر مشتمل یہ تحقیقی کتاب شازیہ بابر نے تحریر جبکہ پشاور یونیورسٹی کی پشتو اکیڈمی نے شائع کروائی ہے۔ یہ کتاب دراصل ڈاکٹر شازیہ بابر کا اپنی پی ایچ ڈی ڈگری کے لئے تحقیقاتی مقالہ ہے۔
اس کتاب کا دیباچہ پشتو اکیڈمی کی پروفیسر ڈاکٹر سلمٰی شاہین نے لکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سطحی طور پر دونوں شاعر مختلف نظر آتے ہیں لیکن ان کا مطالعہ کرکے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کی سوچ میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں نے ایک طرح کے ہی خیالات کا اظہار صرف مختلف زبانوں میں کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ غنی خان کو خوبصورتی اور قدرت سے محبت تھی۔ اپنے خیالات کی اڑان کے دوران غنی خان نے ہمیشہ بات کی ہے خوش وخرم خطوں، لیلہ، شراب، مستی اور موسیقی کی۔ اسی لئے انہیں کئی لوگ محبت اور خوبصورتی کا جبکہ کچھ انہیں ’پاگل’ فلاسفر کے طور پر بھی یاد کرتے ہیں۔ دوسری جانب جان کیٹس بھی خوبصورتی، دلکشی اور رومان کے دلدادہ شاعر نظر آتے ہیں۔ انہوں نے صرف چھبیس برسوں میں وہ شاعری کی جو کئی طویل عمر میں حاصل نہیں کرسکتے۔ تاہم انہیں بھی حقیقی بلکہ لافانی شہرت موت کے بعد ملی۔ کتاب کی تحقیق کے مطابق دونوں شاعر بلا شک و شبہ بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ دونوں میں غرور نام کی کوئی شے نہیں ملتی اور دونوں نے راحت تخلیے میں پائی۔ دونوں نے دانستہ طور پر شاعری کو ہی اپنی زندگیوں کا مقصد قرار دیا۔ غنی خان اور کیٹس کی شاعری ہوا میں نہیں بلکہ اس وقت کے حالات کے عین مطابق تھی۔ انہوں نے اپنے اردگرد کے ماحول سے ہی اثر لیا اور اسے اپنی شاعری کے رنگ میں ڈھالا۔ کیٹس اور غنی خان دونوں خوبصورتی کے عاشق مانے جانتے ہیں۔ کیٹس کی قدرتی دلکشی کے بارے میں نظم ’اوڈ ٹو آٹم’ جبکہ غنی خان کی اس کے مقابلے میں نظم ’شپہ او د سپرلی’ اُن کے کام کی معراج قرار دی جاتی ہے۔ غنی خان اپنی اس نظم میں کہتے ہیں: حسن دے بس حسن چی ھم خدائے او ھم جانان دے ترجمہ: حسن بس حسن ہے جو خدا بھی ہے اور جانان بھی، اس فانی دنیا میں یہ مثال ہے لافانی کی۔ گلاب کو دیکھنے سے جو جواب آپ کو ملتے ہیں وہ آپ کو منطق کی کتابوں میں نہیں ملیں گے۔ کیٹس کا مشہور مصرعہ ’اے تھنگ آف بیوٹی از آ جوائے فار ایور’ شاید انہیں خیالات کی عکاسی کا دوسرا طریقہ ہے۔ محبت، موسیقی، رقص و سرور جیسے موضوعات پر بہترین لب کشائی کے علاوہ دونوں شاعر سیاست سے بھی دور نہیں رہ سکے۔ ایک انسان کی حیثیت سے بھی دونوں کی شاعری میں اپنے اردگرد کے سیاسی حالات کا رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔ کیٹس نے اپنے حب الوطنی کے جذبات کا اظہار اپنی مشہور نظم ’ٹو مائے برادر جارج’ میں کیا۔ دوسری جانب غنی خان کا تعلق خان عبدالغفار خان جیسے بڑے سیاستدان کے سیاسی گھرانے سے تھا۔ آغاز میں انہوں نے بھی سیاست میں حصہ لیا لیکن بعد میں اسے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ بارہ اگست انیس سو اڑتالیس کو خدائی خدمتگار تحریک کے کارکنوں کے ساتھ چارسدہ کے گاؤں بابرا میں پیش آنے والے ہلاکتوں کے واقعے پر انہوں نے یہ کہا: نن دہ ھغہ ورح چی پنبتون ژوند پہ مرگ گتلے و ترجمہ: آج وہ دن ہے جب پختون نے زندگی موت کو شکست دے کر جیت لی۔ اس نوجوان نے اپنا سر اپنی محبوبہ کے سامنے اپنے ہاتھ کی ہتھیلی میں پیش کیا۔ او ملا تم مجھے ایک اسماعیل (ع) کی قربانی کا قصہ سناتے رہتے ہو، لیکن یہاں ہر قدم پر قربانی دی گئی ہے۔ کتاب کے مطابق کیٹس کے برعکس غنی خان نے کبھی حکمرانوں کی تنقید کے لئے استعاروں کا استعمال نہیں کیا بلکہ براہ راست بات کی۔ اسی سوچ کی وجہ سے انہیں قید کی سختیاں بھی جھیلنا پڑیں۔ اپنی نظم ’چھ چیتے‘ میں پاکستان کو ایک عجیب چڑیا گھر قرار دیا تھا۔ اس کے علاوہ ملا بھی ان کی کڑی تنقید سے نہیں بچ سکے۔ انہوں نے کئی نظموں میں ملا کی جہالت اور کم فہمی کو موضوع بنایا۔ ایک نظم ’الا بلا بہ گردن ملا‘ میں وہ کہتے ہیں: ما پہ گل کبنی ولید ترجمہ: اس نظم کے آخر میں غنی خان نے ان کم علم ملاؤں کو چیلنج بھی دیا کہ اگر تم میری اس تحریر کا جواب دے سکے تو پھر تم مجھے کافر بھی قرار دے دینا۔ کتاب میں غنی خان اور جان کیٹس کی شاعری کا جائزہ لینے کے بعد مصنفہ نے چوتھے باب میں خوشحال خان خٹک اور عبدالحمید بابا جیسے قدیم پشتو شاعروں پر بھی نظر ڈالی ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ پشتو شاعری میں رومان ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ غنی خان نے شاعری میں کوئی نہیں جہت نہیں نکالی بلکہ گزشتہ روش کو ہی اپنایا۔ کتاب کے اختتام میں مصنفہ اس فیصلے پر پہنچی کہ شاعر چاہے مغرب کا ہو یا مشرق کا ان میں رومان ضرور پایا جاتا ہے اور یہی جز دونوں کی ایک جیسی خصوصیات میں سر فہرست ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||