BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 April, 2005, 17:58 GMT 22:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک پاکستانی سفیر کا سفرِحیات

ٹائٹل
سعد راشدالخیری انتیس سال تک پاکستان کے دفتر خارجہ سے وابستہ ہے۔
’۔۔۔ ہمارے آباء و اجداد نہ تو کسی امامت کے لیے آئے، نہ کسی شاہی انا کی تسکین کے لیے۔ ہم تو سید بھی نہیں تھے۔ ہاں قریشی ضرور تھے اور ایک سردارِ قریش کی اولاد۔ سردار بھی کون؟ ابوالحکم جس پر سارے مسلمان لعن طعن کرتے ہیں اور ابو جہل کے نام سے یاد کرتے ہیں۔۔۔۔‘

’آپ بیتی جگ بیتی‘ کے اس اقتباس سے ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ مصنف سعد راشدالخیری نے اپنی ذات سمیت کسی کے بارے میں بھی لگی لپٹی سے کام نہیں لیا بلکہ زندگی میں جو ان پر گزری اور جو ان کے سامنے گزری وہ ان کے حافظے سے ان کی زبان پر آئی اور پھر ضبطِ تحریر میں۔

یہ بھی اس کتاب کا ایک دلچسپ پہلو ہے کہ تحریر سے پہلے کتاب میں موجود واقعات اور سوانح کی انہیں صدابندی کرنا پڑی۔ کیونکہ بینائی جاتے رہنے کے بعد اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا اور بقول ان کے احباب اور اہلیہ کا اصرار تھا کہ وہ اپنی یادداشتوں کو کسی طور محفوظ کرلیں۔

سعد راشدالخیری انتیس سال تک پاکستان کی وزارتِ خارجہ میں سفیر سمیت مختلف مناصب پر فائز رہے اور بالآخر انیس سو ستّتر میں سبکدوش ہوئے۔ ان کا تعلق برصغیر کے معروف ادبی گھرانے سے ہے اور وہ اردو ادب میں ’مصورِغم‘ کا خطاب پانے والے علامہ راشدالخیری کے پوتے ہیں۔

اس سوانح عمری میں سعد راشدالخیری نے اپنی سرکاری اور نجی زندگی کے واقعات کو نہ صرف دلچسپت پیرائے میں بیان کیا ہے بلکہ جہاں ضروری سمجھا اور ممکن ہوا ان کی نسبت سے تاریخی واقعات کا حوالہ بھی دیا ہے جس سے کتاب مزید دلچسپ اور معلوماتی بن گئی ہے۔

دوران ملازمت کے واقعات کے بیان سے لگتا ہے کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے ہنگامہ خیر دور رہا۔ وہ ان ملکوں میں پاکستان کے سفیر رہے جہاں اندرونی اور بیرونی سازشوں کے نتیجے میں سیاسی طلاطم اور بحران معمول کی بات تھی۔

انہوں نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے لیے کام کرنے کی تربیت بھی حاصل کی۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایسا انہوں نے اس وقت کے سیکرٹری امورخارجہ کی ایما پر کیا۔انہیں بتایا گیا کہ اس کام کے لیے ان کا انتخاب وزیراعظم کے کہنے پر کیا گیا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ بعد میں وہ سی آئی اے کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی خفیہ اداروں کا بالخصوص پاکستان اور بالعموم مسلم ملکوں میں کتنا اثر و رسوخ ہے اور جڑیں کتنی گہری ہیں۔

پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان روس کا دورہ کیوں نہیں کرسکے اور امریکی کی جانب سے بعد میں دعوت ملنے کے باوجود وہاں کا دورہ کیونکر مکمن ہوا، اگرچہ اس موضوع اظہار کیا جاتا رہا ہے اور بیسوی صدی کی سیاسی تاریخ پر نظر رکھنے والے یقیناً اس کا جواب بھی جانتے ہوں گے مگر سعد راشدالخیری اس کی حقیقت سے یوں زیادہ واقف ہیں کہ وزیراعظم کے دورۂ روس کو عملی شکل دینے کی کوششوں میں وہ بھی سرگرم رہے تھے۔ وہ لکھتے ہیں ’تہران سے جب میرا تبادلہ نیویارک ہوا اور روانگی سے پہلے میری ملاقات پیکلنک (روسی سفارتکار) ہوئی تو اس نے آہستہ سے مجھ سے کہا کہ یہ یاد رکھنا کہ امریکہ پاکستان سے بہت دور ہے اور ہم تمہارے پڑوسی ہیں۔ ہم تمھارے کام آ سکتے ہیں۔۔۔‘

کتاب میں اور کئی واقعات ایسے ہیں جن سے پاکستان کی سیاست اور نوکرشاہی سمیت مقتدر حلقوں کی نفسیات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

زمانۂ طالبعلمی کے واقعات میں قائداعظم محمد علی جناح سے بغیر اپائنٹمنٹ ملاقات کا انہوں نے ذکر کیا ہے۔

پری چہرہ لوگوں کے درشن کے لیے اس زمانے میں دلی میں انہیں اور ان کے دوستوں کو کیا جتن کرنا پڑتے تھے اور اس وقت وہاں کا معاشرہ کیسا تھا اس کتاب میں اس کی جھلک نظر آتی ہے۔

جب وہ کراچی پہنچے تو صبح سے شام کرنے میں انہیں کس طرح کی دشواریاں پیش آئیں اور پھر قسمت نے کیسی یاروی کی اور وہ ایک اخبار میں رپورٹر بن گئے۔ افغان ریڈیو سے نشر ہونے والی ایک خبر کو انہوں نے اپنے اخبار کو دیا اور وہ ایک دن تاخیر سے نشر ہونے کے بعد کیسے انکی تنخواہ میں اضافے کا باعث ہوئی اسے خوش بختی ہی کہا جا سکتا ہے۔

سعد راشدالخیری محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت سے بہت زیادہ متاثر نظر آتے ہیں۔ انہوں نے اس موضوع پر انگریزی میں ایک کتاب ’جناح ری اِنٹرپریٹِڈ‘ کے نام سے لکھی ہے۔

’آپ بیتی جگ بیتی‘ فکشن ہاؤس، لاہور نے شائع کی ہے۔ طباعت اور کاغذ دونوں ہی عمدہ ہیں اور قیمت بھی مناسب۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد