فلم اڑتا پنجاب پر سینسر بورڈ کی قینچی، ’کچھ تحریری دیں‘

انوراگ کا کہنا ہے کہ پہلاج نہلانی سیاتس دانوں کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنانوراگ کا کہنا ہے کہ پہلاج نہلانی سیاتس دانوں کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

بھارتی ریاست پنجاب میں منشیات کے مسئلے پر بنائی گئی فلم ’اڑتا پنجاب‘ پر سینسر بورڈ کی قینچی سے فلم کے ڈائریکٹر انوراگ کشیپ کافی ناراض ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سینسر بورڈ کے چیئرمین پہلاج نہلانی قاعدے قانون کو نظر انداز کرکے اپنی مرضی سے بورڈ کو چلا رہے ہیں۔

انوراگ کشیپ کا کہنا ہے کہ ’ایک شخص اپنے خیالات کو پوری دنیا کے سینما پر مسلط نہیں کر سکتا اور پہلاج نہلانی اوپر والوں کو خوش کرنے کے لیے یہ سب کر رہے ہیں‘۔

انوراگ کا کہنا ہے کہ فلم ’اڑتا پنجاب‘ پنجاب میں منشیات کے مسئلے پر مبنی فلم ہے لیکن سینسر بورڈ نے فلم سے پنجاب اور دیگر جگہوں کے نام ہٹانے کے لیے کہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بورڈ کی جانب سے انھیں جو بھی ہدایات ملی ہیں وہ زبانی ہیں، تحریری طور پر کچھ نہیں دیا گیا ہے اس وجہ سے ان کے ہاتھ بندھ گئے ہیں۔

’ہم ٹرائبیونل یا سپریم کورٹ جا سکتے ہیں لیکن وہ ہمیں تحریری طور پرکچھ نہیں دے رہے کہ ہم وہاں جا سکیں‘۔

نریندر مودی کی قیادت میں جب سال 2014 میں این ڈی اے حکومت اقتدار میں آئی تو پہلاج نہلانی کو سینسر بورڈ کا صدر بنایا گیا تھا اس کے بعد سے ہی نہلانی تنازعات میں گھرے رہے ہیں۔

انوراگ کا کہنا ہے کہ ’ہم اس فلم کی لڑائی قانون کے دائرے میں کرنا چاہتے ہیں اور اسے ریلیز کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری جنگ سیاسی نہیں ہے، یہ ایک فلمساز کی آزادی اور اس کے حقوق کی جنگ ہے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ پہلاج نہلانی کی کمیٹی نے ہی واضح کیا تھا کہ یہ ایک درجہ بندی کے نظام ہے۔

پنجاب میں اس وقت بی جے پی کی حمایت سے شرومنی اکالی دل پارٹی کی حکومت ہے۔