منوج کمار کے لیے دادا صاحب پھالکے ایوارڈ

منوج کمار غیر منقسم ہندوستان کے ایبٹ آباد (اب یہ شہر پاکستان میں ہے) میں سنہ 1937 میں پیدا ہوئے تھے
،تصویر کا کیپشنمنوج کمار غیر منقسم ہندوستان کے ایبٹ آباد (اب یہ شہر پاکستان میں ہے) میں سنہ 1937 میں پیدا ہوئے تھے
    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

معروف اداکار اور ہدایت کار منوج کمار کو بھارتی سینما میں ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں باوقار دادا صاحب پھالکے ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

پریس کو جاری اپنے ایک بیان میں منوج کمار نے کہا: ’چھ دہائیوں کے بعد بالآخر حکومت نے ہندوستانی سینما کے لیے میری کوششوں کو سراہا۔ میں اسے اپنی عزت افزائی خیال کرتا ہوں اور آج میں راج کپور صاحب اور راج کھوسلہ جی کو یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ آج ہوتے تو وہ سب سے زیادہ خوش ہوتے۔‘

بھارتی خبررساں ادارے کے مطابق اطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیر ارون جیٹلی نے جمعے کو فون پر منوج کمار کو یہ خبر دی کہ انھیں سنہ 2015 کے 47 ویں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

اس ایوارڈ میں ایک سنہرے کنول کے ساتھ 10 لاکھ روپے کا نقد انعام دیا جاتا ہے۔

یہ ایوارڈ مرکزی حکومت کی جانب سے نامزد کمیٹی کی سفارش پر دیا جاتا ہے۔ اس پانچ رکنی کمیٹی میں لتا منگیشکر، آشا بھونسلے، سلیم خان، نتن مکیش اور انوپ جلوٹا شامل ہیں اور اطلاعات کے مطابق انھوں نے اتفاق رائے سے منوج کمار کا نام پیش کیا۔

منوج کمار نور جہاں کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہAlly Adnan

،تصویر کا کیپشنمنوج کمار نور جہاں کے ساتھ

منوج کمار غیر منقسم ہندوستان کے ایبٹ آباد (اب یہ شہر پاکستان میں ہے) میں سنہ 1937 میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام ہری کرشن گوسوامی رکھا گیا۔ جب وہ دس سال کے تھے تو وہ دہلی آ گئے اور دہلی کے ہندو کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد انھوں نے فلم کو اپنا کریئر منتخب کیا۔

انھوں نے دلیپ کمار کی سنہ 1949 میں آنے والی فلم ’شبنم‘ سے اپنا نام منتخب کیا تھا۔ وہ دلیپ کمار کے بڑے مداح رہے ہیں اور دلیپ کمار کو دوبارہ فلموں میں لانے کا سہرا انھیں کے سر جاتا ہے کیونکہ انھوں نے فلم ’کرانتی‘ میں اداکاری کے لیے انھیں تیار کرلیا تھا۔

فلم اپکار کو زبردست کامیابی ملی تھی اور کافی سراہا گيا تھا

،تصویر کا ذریعہMANOJ KUMAR

،تصویر کا کیپشنفلم اپکار کو زبردست کامیابی ملی تھی اور کافی سراہا گيا تھا

ہر چند کہ انھوں نے فلم ’فیشن‘ سے اپنے کریئر کا آغاز کیا لیکن سنہ 1960 میں آنے والی فلم ’کانچ کی گڑیا‘ ان کی پہلی فلم تھی جس میں انھوں نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

اس کے بعد انھوں نے ’ہریالی اور راستہ‘، ’وہ کون تھی‘، ’ہمالیہ کی گود میں‘، ’دو بدن‘، ’اپکار‘، ’پتھر کے صنم‘، ’نیل کمل‘، ’پورپ اور پچھم‘، ’روٹی کپڑا اور مکان‘، اور ’کرانتی‘ جیسی یادگار فلمیں کیں۔

منوج کمار وطن پرستی کے کردار کے لیے معروف رہے ہیں اور کئی فلموں میں ان کا نام ’بھرت‘ یا ’بھارت‘ رہا ہے۔

فلم کرانتی میں منوج کمار نے دلیپ کمار کے بیٹے کا کردار ادا کیا ہے

،تصویر کا ذریعہMANOJ KUMAR

،تصویر کا کیپشنفلم کرانتی میں منوج کمار نے دلیپ کمار کے بیٹے کا کردار ادا کیا ہے

’دو بدن‘ فلم راج کھوسلہ کی ہدایت کاری میں تیار ہوئی تھی اور اس میں روی کی موسیقی میں شکیل بدایونی کے گیت محمد رفیع اور لتا منگیشکر کی آواز میں تھے جو بہت مقبول ہوئے۔

وطن پرستی والی ان کی شبیہہ سنہ 1965 میں آنے والی فلم ’شہید‘ سے بنی تھی جو کہ بھگت سنگھ کی زندگی پر مبنی تھی۔ فلم ’اپکار انھوں نے لال بہادر شاشتری کے معروف نعرے ’جے جوان جے کسان‘ پر بنائی تھی۔ اس فلم کو نیشنل ایوارڈ دیا گیا تھا۔

سابق بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ساتھ
،تصویر کا کیپشنسابق بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ساتھ

انھیں اس فلم کے لیے کئی فلم فیئر ایوارڈز بھی ملے تھے۔ انھیں سنہ 1992 میں حکومت کی جانب سے پدم شری کے اعزاز سے نوازا گیا۔