’میرے پاس ماں ہے‘

بالی وڈ کے اپنے زمانے کے معروف اداکار اور ہدایت کار ششی کپور کو اتوار کو باوقار دادا صاحب پھالكے ایوارڈ پیش کیا گیا۔
بھارت میں اطلاعات و نشریات کے وزیر ارون جیٹلی نے ممبئی کے پرتھوی تھیئٹر میں ششی کپور کو فلم کا یہ اہم ترین ایوارڈ دیا۔
خراب صحت کی وجہ سے ششی کپور ایوارڈ لینے دہلی نہیں جا پائے اسی لیے وزیر اطلاعات و نشریات انھیں یہ ایوارڈ دینے اتوار کو ممبئی پہنچے۔
ارون جیٹلی نے کہا کہ ششی کپور ایسے شخص ہیں جنھوں نے ہالی وڈ اور بالی وڈ کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس موقعے پر اداکار اور ششی کپور کے بھتیجے رشی کپور نے کہا: ’ان (ششی) کے ساتھ میں نے چار فلمیں کیں اور وہ ہم سے سخت محنت کرواتے گویا چھڑی لے کر کام کرواتے تھے۔‘
انھوں نے فلم دیوار کے معروف ڈائلاگ ’میرے پاس ماں ہے‘ کا بھی ذکر کیا جو بالی وڈ میں میل کے پتھر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اتفاق سے آج ماں سے محبت کے اظہار کے لیے عالمی دن بپی منایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ششی کپور کے ساتھ کئی کامیاب فلموں میں کام کرنے والے بالی وڈ کے سپرسٹار امیتابھ بچن نے کہا: ’وہ میرا سب سے زیادہ خیال رکھنے والے اور دريادل دوست اور انسان ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہ
امیتابھ نے کہا کہ ششی کپور نے پرتھوی تھیٹر قائم کر کے اپنے والد پرتھوی راج کپور اور بیوی جینیفر کا خواب پورا کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس موقعے پر ششی کپور کی زندگی اور ان کے کیریئر پر ایک مختصر دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں آواز ان کے پوتے اور اداکار رنبیر کپور نے دی تھی۔
اس دستاویزی فلم میں امیتابھ بچن کے علاوہ شرمیلا ٹیگور اور شبانہ اعظمی نے ششی کپور کے ساتھ اپنے تجربات پر اظہار خیال کیا ہے۔
ایوارڈ کی پیشکش کی اس تقریب میں پورا کپور خاندان یکجا تھا۔ اس کے علاوہ سیف علی خان بھی وہاں موجود تھے جو کرینہ کپور کے خاوند ہیں۔ تقریب میں ہیما مالنی، وحیدہ رحمان، ریکھا،

ہندوستانی سنیما میں تعاون کے لیے 77 سال کے ششی کپور کے لیے 62 ویں قومی فلم ایوارڈز میں دادا صاحب پھالكے ایوارڈ کا اعلان کیا گیا تھا۔
ششی کپور یہ ایوارڈ پانے والے کپور خاندان کے تیسرے فرد ہیں۔
ان کے والد پرتھوی راج کپور کو 1971 میں اور بڑے بھائی راج کپور کو 1987 میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔
ششی کپور نے ہندی کے علاوہ کئی برطانوی اور امریکی فلموں میں بھی کام کیا۔

،تصویر کا ذریعہSHASHI KAPOOR
انھوں نے چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر بہت کم عمر میں اداکاری کا آغاز کیا جبکہ سنہ 1961 میں فلم ’دھرم پتر‘ سے ہیرو کا کردار ادا کرنا شروع کیا اور 116 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔
ان کی اہم فلموں میں ’شرميلي‘، ’ستیم شوم سندرم‘، ’چور مچائے شور‘، ’دیوار‘، ’ترشول‘، ’کبھی کبھی‘، ’کالا پتھر‘، ’فقیرا‘، ’جنون‘ اور ’جب جب پھول کھلے‘ شامل ہیں۔
’نیو ڈہلی ٹائمز‘ کے لیے انھیں بہترین اداکار کے خطاب سے نوازا گیا تھا۔







