گلزار کے لیے باوقار دادا صاحب پھالکے ایوارڈ

گلزار پاکستان میں پیدا ہوئے اور انھوں نے ہندوستانی فلموں میں کئی حیثیت سے اہم کردار نبھایا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگلزار پاکستان میں پیدا ہوئے اور انھوں نے ہندوستانی فلموں میں کئی حیثیت سے اہم کردار نبھایا ہے

ہندی فلموں کے معروف نغمہ نگار گلزار کو ان کی اہم خدمات کے لیے بھارتی سینما کے سب سے بڑے ایوارڈ دادا صاحب پھالکے ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

بھارت کے پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) کے مطابق ’سات ارکان پر مشتمل ایک جیوری نے متفقہ طور پر اس باوقار اعزاز کے لیے اس سال گلزار کے نام کی سفارش کی۔‘

پی آئی بی نے کہا: ’گلزار کو سنہ 2013 کے لیے داداصاحب پھالکے ایوارڈ دیا جا رہا ہے۔ وہ دادا صاحب پھالکے ایوارڈ حاصل کرنے والے 45 ویں شخص ہیں۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سمپورن سنگھ گلزار نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا: ’یہ میرے لیے بہت اعزاز کی بات ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس بار سیاہ کوٹ کا معاملہ نہیں ہوگا۔ جب بلاوا آئے گا تو میں اس اعزاز کو لینے دہلی ضرور جاؤں گا۔‘

یاد رہے کہ اس سے قبل سنہ 2009 میں فلم ’سلم ڈاگ ملينئر‘ کے گیت ’جے ہو‘ کے لیے جب گلزار کو آسکر ایوارڈ کا حقدار قرار دیا گيا تھا تو وہ صرف اس لیے یہ انعام لینے نہیں گئے کیونکہ وہ سیاہ کوٹ یعنی آسکر کا رسمی سوٹ پہننے کے لیے تیار نہیں تھے۔

گلزار کی بیٹی میگھنا گلزار نے ٹوئٹر پر لکھا: ’میرے والد کو دادا صاحب پھالکے ایوارڈ! مجھے اپنے والد پر فخر ہے۔‘

اس سے قبل فن کے شعبے میں اہم خدمات کے لیے گلزار کو سنہ 2004 میں پدم بھوشن اور سنہ 2002 میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ جیسے باوقار اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔

گلزار نے معروف موسیقار ایس ڈی برمن سے لے کر اے آر رحمان تک مختلف دور کے سرکردہ موسیقاروں کے ساتھ کام کیا ہے۔

’موسم‘، ’ماچس‘ اور ’انگور‘ جیسی فلموں کی ہدایت کاری کے لیے انھیں قومی ایوارڈز بھی مل چکا ہے۔

انھوں نے بھارتی سرکاری ٹی وی دوردرشن کے لیے پریم چند کی کہانیوں کو پیش کیا تھا۔ ان کہانیوں کے ڈائیلاگ اور سکرپٹ کے ساتھ ساتھ وہ ان کے ہدایتکار بھی ہیں۔

پاکستان میں پیدا ہونے والے گلزار اپنی نظموں میں اپنی جنم بھومی کو یاد کرتے رہے ہیں۔

ایک بار بی بی سی سے گفتگو کے دوران انھوں نے کہا تھا: ’وطن اب بھی وہی ہے ، لیکن وہ میرا ملک نہیں۔ میرا ملک اب یہ ہے اور مجھے بڑا فخر ہے ہندوستان پر مگر میرا جو آبائی وطن ہے، میری جو جائے پیدائش ہے اس سے تو میں علیحدہ نہیں ہو سکتا۔‘

ان کی معروف فلموں میں ’پریچے‘، ’کوشش‘، ’آندھی‘، ’موسم‘، ’کتاب‘، ’انگور‘، ’نمکین‘، ’اجازت‘، ’مرزا غالب‘، ’ماچس‘ اور ’ہو تو تو‘ وغیرہ شامل ہیں۔

ان کے یادگار نغموں میں میرا گوارا انگ لئی لے (بندنی)، ہم نے دیکھی ان آنکھوں کی مہکتی خوشبو (خاموشی)، ہم کو من کی شکتی دینا (گڈّی)، میں نے تیرے لیے ہی سات رنگ کے سپنے چنے (آنند)، تیرے بنا زندگی سے شکوہ تو نہیں (آندھی)، لکڑی کی کاٹھی کاٹھی کا گھوڑا (معصوم)، تجھ سے ناراض نہیں زندگی حیران ہوں میں (معصوم)، میرا کچھ سامان تمہارے پاس ہے (اجازت)، دل تو بچہ ہے جی (عشقیہ) وغیرہ شامل ہیں۔