سنی لیونی بھارت میں رواداری کی مثال ہیں

    • مصنف, نصرت جہاں
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

فلم ’منا بھائی‘ ’3 ایڈیٹس‘ اور ’پی کے‘ جیسی بلاک بسٹر فلمیں بنانے والے ڈائریکٹر راجکمار ہیرانی نے بھارتی میڈیا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے میڈیا کے کام کرنے کی انداز پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ میڈیا کو زیادہ ذمہ دار ہونے کی ضرورت ہے۔

بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں راجکمار ہیرانی نے کہا کہ اکثر ٹی آر پی بڑھانے کے لیے میڈیا تنازعہ تلاش کرتا ہے۔ حال ہی میں فلمی دنیا کی کئی ہستیاں اپنے بيانات سے تنازعہ میں گھرتی نظر آئی ہیں۔

عامر خان کے بارے میں بات کرتے ہوئے راجکمار ہیرانی نے کہا کہ عامر نے اتنی ساری چیزوں پر بات کی لیکن اس میں سے ایک متنازعہ بات ہی رپورٹ کی گئی۔ ویسے راجکمار ہیرانی اپنی جگہ درست ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے میڈیا بھی کہیں کہیں فلمی انداز میں خبریں رپورٹ کرنے لگا ہے جس میں ایکشن، اموشن اور سسپینس سبھی کچھ ہوتا ہے۔

ادیتی کا کہنا ہے کہ رویے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ٹیلنٹ اہم ہوتا ہے ظاہری حسن نہیں
،تصویر کا کیپشنادیتی کا کہنا ہے کہ رویے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ٹیلنٹ اہم ہوتا ہے ظاہری حسن نہیں

بھارت میں رواداری کی ایک زبردست مثال موجود ہے اور وہ ہیں پورن سٹار سنی لیو نی اور وہ خِود اس بات کو مانتی ہیں۔

فلم ’جسم 2‘ کے ساتھ بھارتی فلمی دنیا میں قدم رکھنے والی کینیڈا نژاد اداکارہ نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ بھارت ایک ایسا ملک ہے جہاں آپ جو محسوس کرتے ہیں وہ کہہ سکتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’لوگوں کی منظوری کی میں خود ایک مثال ہوں، جب میں یہاں رہ سکتی ہوں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں کے لوگ کتنے کھلے خیالات کے ہیں۔‘

سنی بالکل درست کہا آپ نے بھارت میں آپ کی مقبولیت کا اندازہ لگانا بہت آسان ہے کیونکہ آپ بھارت میں ویڈیوز میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی واحد شخصیت جو ہیں۔

فلم ’وزیر‘ سے اپنی پہچان بنانے والی ادیتی راؤ حیدری اچانک سے سمجھداری کی باتیں کرنے لگیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ ہیروز کے وزن کے بارے میں کچھ نہیں کہتے جبکہ ہیروئین کے وزن پر فوراً سوال اٹھائے جاتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آج بھی فلموں میں ہیروئین کو صرف ایک نمائش کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSpice

ادیتی کا کہنا ہے کہ اس رویے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ٹیلنٹ اہم ہوتا ہے ظاہری حسن نہیں۔ بات تو ٹھیک ہے لیکن ادیتی نے جی کیو میگزین کے لیے بکنی فوٹو شوٹ کیا تھا اس میں ٹیلنٹ کی کتنی ضرورت تھی یہ تو خود ادیتی ہی بتا سکتی ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ ایسے کسی بھی مسئلے پر بولنا تو بہت آسان ہے لیکن جب بات عمل کی آتی ہے تو یہ سارے بڑے بڑے خیالات کھڑکی کے راستے سے باہر نکل جاتے ہیں۔ جب تک اداکارائیں برفباری کے منظر میں گرم کوٹ پہنے ہیرو کے ساتھ شفون کی ساڑی میں گانا گانے کے لیے تیار رہیں گی رویوں میں تبدیلی کی بات کرنی بیکار ہے۔

کافی عرصے سے ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ شاہ رخ اور عالیہ بھٹ پردے پر رومانس کرتے نظر آ سکتے ہیں۔ جب شاہ رخ سے یہ سوال کیا گیا کہ انہیں اس بات پر کوئی اعتراض تو نہیں تو شاہ رخ کا کہنا تھا کہ ’وہ عالیہ سے زیادہ جوان ہیں۔‘

عرصے سے ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ شاہ رخ اور عالیہ بھٹ پردے پر رومانس کرتے نظر آ سکتے ہیں

،تصویر کا ذریعہspice

،تصویر کا کیپشنعرصے سے ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ شاہ رخ اور عالیہ بھٹ پردے پر رومانس کرتے نظر آ سکتے ہیں

یقیناً شاہ رخ نے یہ بات مذاق میں کہی تھی لیکن لگتا ہے کہ بالی ووڈ میں عمر کے فرق پر زیادہ زور اب نہیں رہا اور یہ بات صرف ہیرو نہیں بلکہ ہیروئینز پر بھی لاگو ہورہا ہے ورنہ قطرینہ کیف فلم فطور میں ادتیہ رائے کپور اور قرینہ کپور فلم ’کی اینڈ کا‘ میں ارجن کپور سے رومانس کرتی نہ نظر آتیں۔

امید کرتے ہیں کہ اسی طرح ادیتی راؤ حیدری کے خیالات کا بھی بھرم پورا ہو جائے اور ہم پردے پر بھاری بھرکم ہیروئینوں کو پتلے دبلے ہیروز کے ساتھ رومانس کرتے دیکھ سکیں۔

بالی ووڈ میں جہاں بڑے ستاروں اور بڑے بینرز کی جانب سے میعاری فلمیں پردے پر آ رہی ہیں وہیں انڈسٹری میں سیمی پورن فلموں کی ایک متوازی انڈسٹری بھی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور سینسر بورڈ بھی دس پندرہ کٹس کے بعد ایسی فلموں کی ریلیز کی اجازت دینے لگا ہے۔ اس کی ایک تازہ مثال فلم’ کیا کول ہیں ہم تھری‘ ہے۔

شاہ رخ کا کہنا تھا کہ وہ تو ابھی عالیہ بھٹ سے زیادہ جوان ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنشاہ رخ کا کہنا تھا کہ وہ تو ابھی عالیہ بھٹ سے زیادہ جوان ہیں

سینسر بورڈ نے اس فلم کے 34 مناظر کاٹنے کا حکم دیکر اے سرٹفکیٹ کے ساتھ فلم کی ریلیز کی اجازت دیدی ہے۔ یہ فلم 22 جنوری کو ریلیز ہونے والی ہے۔ اس کا ٹریلر دیکھ کر حیرت ہوئی کہ کیا سینسر بورڈ نے واقعی یہ فلم دیکھی ہے۔

فلم صرف بالغوں کے لیے ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایڈلٹ فلم کے نام پر کسی بھی بے سر پیر کی بھونڈی کامیڈی دکھانے کی اجازت ہے اور معاشرہ اس طرح کی فلموں کو ہضم کرنے کے لیے تیار ہے بھی یا نہیں کیونکہ سنیما حالوں میں کم عمر نوجوانوں کو فلم دیکھنے سے تو باز رکھا جا سکتا ہے لیکن سوشل میڈیا پر کیسے روک لگائیں گے۔

لگتا ہے کہ فلم کے نام کی طرح اب سینسر بورڈ بھی یہ ثابت کرنا چاہتا ہے’کیا کول ہیں ہم۔‘