عامر خان ’انکریڈیبل انڈیا‘ کے برانڈ ایمبیسڈر نہیں رہے

عامرخان اس مہم کے ساتھ دس سال تک بطور برانڈ ایمبیسڈر وابستہ رہے

،تصویر کا ذریعہSPICE

،تصویر کا کیپشنعامرخان اس مہم کے ساتھ دس سال تک بطور برانڈ ایمبیسڈر وابستہ رہے

بھارتی اداکار عامر خان کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے ’انکریڈیبل انڈیا‘ مہم کے برانڈ ایمبیسڈر کے معاہدے کی تجدید نہ کرنے کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔

’انکریڈبل انڈیا‘ یعنی ’حیرت انگیز بھارت‘ ملک کی سیاحتی مہم کا نام ہے۔

عامرخان اس مہم کے ساتھ دس سال تک بطور برانڈ ایمبیسڈر وابستہ رہے اور گمان کیا جا رہا ہے کہ انھیں اس عہدے سے ان کے بھارت میں عدم برداشت کے حوالے سے دیے گئے بیان کی وجہ سے ہٹایا گیا ہے۔

تاہم حکام ان کے عہدے سے ہٹانے جانے کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ عامر خان کے ساتھ معاہدے کی مدت ختم ہوچکی ہے۔

جمعرات کو عامر خان کی طرف کی جاری کردہ بیان میں کہا گیا: ’یہ حکومت کا استحقاق ہے کہ وہ اس بات کا فیصلہ کرے کہ انھیں آیا کسی مہم کے لیے برانڈ ایمبیسڈر کی ضرورت ہے، اور اگر ایسا ہی ہے، تو وہ ایمبیسڈر ہونا چاہیے۔‘

’میں چاہے برانڈ ایمبیسڈر ہوں یا نہیں، بھارت انکریڈیبل رہے گا، اور ایسا ہی ہونا چاہیے۔‘

خیال رہے کہ ایک تقریب کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ ایک بار تو ان کی بیوی کرن راؤ نے ان سے پوچھا کیا انھیں ملک چھوڑ دینا چاہیے؟

عامر خان نے کہا تھا کہ وہ عدم برداشت اور بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات کے بارے میں فکرمند ہیں۔

وزیر سیاحت مہیش شرما کہتے ہیں کہ وزارت نے عامر خان کو براہ راست ملازمت پر نہیں رکھا تھا
،تصویر کا کیپشنوزیر سیاحت مہیش شرما کہتے ہیں کہ وزارت نے عامر خان کو براہ راست ملازمت پر نہیں رکھا تھا

دوسری جانب بھارت کی وزارت سیاحت کا کہنا ہے کہ اس نے کبھی بھی براہ راست عامر خان کو ملازمت نہیں دی، اور ان کے اس مہم کے سفیر کے طور پر چلے جانا ایک ضمنی بات ہے۔

خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق وزیرسیاحت مہیش شرما نے کہا: ’ہمارا معاہدہ میک کین ورلڈ وائڈ ایجنسی کے ساتھ تھا۔ اس ایجنسی نے اس کام کے لیے عامر کو منتخب کیا تھا۔ اب اس ایجنسی کے ساتھ معاہدہ ختم ہوچکا ہے۔ وزارت نے عامر خان کو ملازمت پر نہیں رکھا تھا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس ایجنسی نے عامر خان کو ملازمت پر رکھا تھا۔ اب جبکہ ایجنسی کے ساتھ معاہدہ نہیں رہا، تو خوبخود ہی اداکار کے ساتھ معاملات نہیں رہے۔‘

خیال رہے کہ حالیہ چند ماہ میں بھارت میں بڑھتی ہوئی مبینہ عدم برداشت کے خلاف ملک کے متعدد دانشور، سائنسدان، فنکار اور ادیب احتجاجاً اپنے سرکاری ایوارڈز واپس کر چکے ہیں۔