’بھارت نہیں چھوڑ رہا لیکن عدم رواداری کے بیان پر قائم‘

’مجھے یہاں رہنے کے لیے کسی کی اجازت اور کسی کی حمایت کی ضرورت نہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن’مجھے یہاں رہنے کے لیے کسی کی اجازت اور کسی کی حمایت کی ضرورت نہیں‘
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

بالی وڈ کے سپر سٹار عامر خان کا کہنا ہے کہ بھارت چھوڑ کر جانے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور عدم رواداری کے بارے میں انھوں نے جو کچھ ہے، اس پر قائم ہیں۔

دہلی میں ایک تقریب کے دوران عامر خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ وہ ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری پر فکرمند ہیں اور (اور گزشتہ چند مہینوں کے واقعات کے پس منظر میں) غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

اس تقریب میں وزیر خزانہ ارون جیٹلی اور چار دیگر وفاقی وزرا بھی موجود تھے۔

عامر خان کا یہ بھی کہنا تھا ان کی اہلیہ اور فلم ہدایت کار کرن راؤ بھی اتنی فکرمند ہیں کہ ملک چھوڑ کر جانے کا خیال بھی ان کے ذہن میں آیا تھا۔

عامر خان کے بیان پر حکمراں جماعت بی جے پی اور اس سے نظریاتی ہمدردی رکھنے والوں کی جانب سے سخت تنقید کی گئی ہے جبکہ کانگریس، سماجوادی پارٹی اور بائیں بازو کی جماعتوں نے ان کے حق میں آواز اٹھائی ہے۔

اپنے تحریری وضاحتی بیان میں عامر خان نے کہا ہے کہ ’میں یہ بالکل واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں اور میری اہلیہ کرن کا ملک چھوڑ کر جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، نہ تھا اور نہ مستقبل میں ہوگا۔۔۔ہندوستان میرا ملک ہے اور میری خوش نصیبی ہے کہ میں یہاں پیدا ہوا۔۔۔جو لوگ میرے جانے کی بات کر رہے ہیں وہ میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔‘

ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ’انٹرویو میں جو کچھ بھی میں نے کہا ہے میں اس پر قائم ہوں۔۔۔اور جو لوگ مجھے قوم مخالف کہہ رہے ہیں، ان کے لیے عرض ہے کہ مجھے(یہاں رہنے کے لیے) کسی کی اجازت اور کسی کی حمایت کی ضرورت نہیں ہے۔‘

عامر خان کے حق میں بہت سے اخبارات میں مضامین بھی شائع ہوئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ انھیں برا بھلا کہہ رہے ہیں وہ ان کی اس بات کو صحیح ثابت کر رہے ہیں کہ ملک میں عدم برداشت بڑھی ہے۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ بھارت میں گذشتہ کچھ مہینوں میں مذہبی منافرت میں اضافہ ہوا ہے اور حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے کچھ رہنماؤں کے متنازع بیانات کو روکنے میں بی جے پی کی اعلیٰ قیادت ناکام رہی ہے۔