’کِرن نے مجھ سے پوچھا کیا ملک چھوڑ دینا چاہیے‘

،تصویر کا ذریعہ
بھارتی فلمی صنعت بالی وڈ کے مشہور اداکار عامر خان بھی ملک میں جاری عدم برداشت کی بحث میں شامل ہو گئے ہیں اور انھوں نے کہا ہے کہ ایک بار تو ان کی بیوی کرن راؤ نے ان سے پوچھا کیا انہیں ملک چھوڑ دینا چاہیے؟
عامر خان نے کہا کہ وہ عدم برداشت اور بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات کے بارے میں فکرمند ہیں۔
دہلی میں منعقدہ رام ناتھ گوئنکا صحافت ایوارڈ کی تقریب میں عامر کا کہنا تھا’جب میں گھر پر کرن سے بات کر رہا تھا تو انھوں نے کہا کیا ہمیں بھارت چھوڑ دینا چاہیے؟‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کرن کی جانب سے دیا گیا بڑا بیان ہے۔ وہ بچوں کے بارے میں فکرمند ہیں۔ وہ اپنے ارد گرد کے ماحول سے ڈرتی ہیں۔ وہ ہر دن اخبار کھولتے ہوئے خوفزدہ رہتی ہیں۔‘
عامر خان نے کہا کہ انھیں لگتا ہے کہ ملک میں بےچینی بڑھ رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ملک کے شہری کے طور پر ہم اخبار میں پڑھتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور یقینی طور پر میں فکرمند ہوں۔ میں اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ میں تمام واقعات کے بارے میں فکرمند ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ تحفظ اور انصاف کا احساس ہونا کسی بھی معاشرے کے لیے ضروری ہے۔
عامر خان کا کہنا تھا کہ ایوارڈز کی واپسی بھی لوگوں کا اپنی مایوسی ظاہر کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
انھوں نے مذہب کے نام پر تشدد کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اسلام کے نام پر معصوم لوگوں کی جان لیتے ہیں انھیں وہ ٹھیک نہیں مانتے۔







