بھارت میں عدم رواداری پر شاہ رخ خان کو تشویش

بالی وڈ کے سپر سٹار شاہ رخ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں جہاں لوگوں کی بے شمار محبتوں کا شکریہ ادا کیا ہے وہیں ایک ٹوئٹر ٹاؤن ہال پروگرام میں انھوں نے بھارت میں ’شدید عدم رواداری‘ پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔
انھوں نے یہ بات اس وقت کہی جب بھارت میں فنکار، ادیب، سائنس دان اور دانشور حکومت کے رویے پر اپنے ایوارڈ واپس کر رہے ہیں۔
شاہ رخ نے مذہبی عدم رواداری پر کہا: ’لوگ سوچے سمجھے بغیر کچھ بھی بول دیتے ہیں۔ مذہبی طور پر عدم رواداری ہے۔ ایک محب وطن کے طور پر اس ملک میں سیکیولر نہ ہونا سب سے بڑا جرم ہے۔‘

انھوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ’آج میں 50 سال کا ہوگیا لیکن آپ کی بے پناہ محبتوں کی وجہ سے پھر سے 25 سال کا محسوس کر رہا ہوں۔‘
تاہم انھوں نے انڈیا ٹوڈے کے ٹاؤن ہال پروگرام میں کہا کہ بھارت میں شدید عدم رواداری ہے۔
انھوں نے ایوارڈ واپس کرنے کے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا: ’میں ابھی تک اس صورت حال سے دوچار نہیں ہوا۔ لیکن ہم لوگوں (ایوارڈ واپس کرنے والوں) کا احترام کرتے ہیں۔ اگر ان کے خیال میں اس سے (ایوارڈ واپس کرنے سے) چیزیں بدلیں گی تو یہ بہت ہمت اور ایمانداری کا کام ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہRED CHILLIES
انھوں نے مزید کہا: ’جہاں تک میرا سوال ہے تو بھارت میں عدم رواداری ہے، شدید عدم رواداری ہے۔‘
تاہم انھوں یہ بھی کہا کہ سٹار کی حیثیت سے ان کے لیے ہر اخلاقی مسئلے پر فیصلہ کرنا بہت دشوار ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا: ’ہم اظہار رائے کی آزادی کی باتیں کر سکتے ہیں لیکن لوگ میرے گھر کے باہر آکر پتھر پھینکیں گے۔۔۔ اگر میں نے اس پر کوئی رائے قائم کی تو میں اس پر قائم رہوں گا۔‘

،تصویر کا ذریعہYASHRAJ FILMS
خیال رہے کہ اس سے قبل بھارت کی موسیقی کی معروف شخصیت <link type="page"><caption> زوبین مہتا نے بھی بھارت میں اظہار رائے کی آزادی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/entertainment/2015/11/151101_zubin_mehta_cultural_dictatorship_mb" platform="highweb"/></link> کی بات کہی تھی۔
شاہ رخ خان نے اپنے 27 سالہ فلمی کریئر میں بازی گر، یس باس، ڈر، پردیس، دل تو پاگل ہے، دل سے، کچھ کچھ ہوتا ہے، دل والے دلھنیا لے جائيں گے، محبتیں، کبھی خوشی کبھی غم، کل ہوں نہ ہو، ویر زارا، چک دے انڈیا، اوم شانتی اوم، چینئی ایکسپریس اور ہیپی نیو ایئر جیسی ہٹ فلمیں دی ہیں۔







