بی بی سی تخلیقی سرگرمیوں کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرے گی

بی بی سی نے برطانیہ میں موجود سائنس اور آرٹس کے اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے تاکہ برطانیہ کو دنیا کی ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جا سکے۔
بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹونی ہال کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے آپ کو انٹرنیٹ کے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرے گا۔
ٹونی ہال نے بی بی سی کے اگلے دس سالہ منصوبوں کے اعلان کے موقعے پر کہا کہ بی بی سی کو مزید بڑھایا نہیں جائے گا اور خبردار کیا کہ فنڈنگ کی کمی کی وجہ سے بی بی سی کی کچھ شاخوں کو بند بھی کرنا پڑے گا۔
تاہم لارڈ ہال نے یہ واضح نہیں کیا کہ بی بی سی کی کون سی سروسز اس سے متاثر ہوں گی۔
انھوں نے کہا کہ بی بی سی انٹرنیٹ پر ’نیو آئیڈیاز‘ کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرے گی جہاں تعلیمی اداروں اور دیگر فنونِ لطیفہ کے اداروں سے وابستہ لوگ نئے خیالات اور اپنے کام کی نمائش کر سکیں گے۔
ادارے کے سربراہ ٹونی ہال کے مطابق ’اس پلیٹ فارم تک سب کو رسائی حاصل ہو گی اور یہ ملک بھر کے بہترین آرٹس کے اداروں اور مفکرین کے کام تک سب کو رسائی فراہم کرے گا۔ برطانیہ میں بہت سی ثقافتی قوتیں ہیں اور ہم ان سب کو یکجا کرنا چاہتے ہیں تاکہ برطانیہ کو دنیا کی ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جا سکے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جیسے گوگل کا مقصد دنیا کی معلومات کو منظم کرنا ہے، ویسے ہی ہمارا مقصد ان معلومات کو سمجھنا ہے۔‘
بی بی سی کے اعلان کردہ منصوبے کے تحت ادارہ مقامی حکومتوں اور عوامی خدمات کے اداروں کے بارے میں غیر جانبدار رپورٹنگ کے لیے مزید نامہ نگار بھرتی کرے گا جن کی خدمات بی بی سی کے علاوہ مقامی ذرائع ابلاغ کو بھی میسر ہوں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ بی بی سی ورلڈ سروس میں مزید سرمایہ کاری کی جائے گی جس کے تحت جنوبی کوریا کے لیے روزانہ کی بنیادوں پر خبر نامہ نشر کیا جائے گا اور مشرقِ وسطی، روس اور بھارت میں نشر کیے جانے والے پروگراموں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔
ٹونی ہال کے مطابق وہ بی بی سی کو ایک ایسا ادارہ بنانا چاہتے ہیں جہاں کام کرنے والوں کو وہ تخلیقی آزادیاں میسر ہوں جو دیگر اداروں میں لوگوں کو حاصل نہیں ہیں۔







