مفت لائسنسوں کی فیس بی بی سی ادا کرے: برطانوی چانسلر

فی الحال 75 سال سے معمر افراد کی ٹی وی لائسنس فیس حکومت ادا کر رہی ہے

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library

،تصویر کا کیپشنفی الحال 75 سال سے معمر افراد کی ٹی وی لائسنس فیس حکومت ادا کر رہی ہے

برطانوی چانسلر جارج اوزبورن نے بدھ کو بجٹ پیش کرتے وقت اعلان کیا کہ 75 سال سے معمر افراد کو وصول ہونے والے مفت ٹی وی لائسنس فیس کی لاگت بی بی سی کو ادا کرنی ہو گی۔

جارج اوزبورن نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بی بی سی کا ’مستقبل مضبوط‘ ہو، تاہم اسے حکومت کا خسارہ پورا کرنے میں ’حصہ ڈالنا‘ ہو گا۔

اس اقدام کی قیمت 65 کروڑ پاؤنڈ، یعنی بی بی سی کے بجٹ کا پانچواں حصہ ہو گی۔ اس کے علاوہ ’آئی پلیئر‘ کے استعمال کے لیے رقم چارج کرنے کے بارے میں بھی بی بی سی اور حکومت کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

اگر ایسا کوئی قدم اٹھایا گیا تو اس کے لیے قانون بدلنا ہو گا، جس کے تحت وہ افراد جو آئی پلیئر یا دیگر آن لائن سروسز کے ذریعے ٹی وی دیکھتے ہیں انھیں بھی ٹی وی لائسنس خریدنا ہو گا۔

فی الحال لائسنس فیس ان ڈیجیٹل خدمات کا احاطہ نہیں کرتی۔

کنزرویٹو حکومت نے اپنےانتخابی منشور میں وعدہ کیا تھا کہ 75 سے زائد عمر کے افراد کو دیگر پنشن فوائد کے ساتھ ساتھ مفت ٹی وی لائسنس فراہم کرنے کا سلسلہ جاری بھی جاری رکھا جائے گا۔

حکومت فلاحی مد میں 12 ارب پاؤنڈ بچانا چاہتی ہے اور اس کا خیال ہے کہ بی بی سی اس ضمن میں اس کی مدد کر سکتا ہے۔

چانسلر جارج آسبورن نے بی بی سی کے بارے میں کہا کہ ’یہ ایک اچھا پروڈکٹ ہے لیکن اس کے عزائم سامراجی ہوتے چلے جا رہے ہیں: چانسلر جارج اوزبورن

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنچانسلر جارج آسبورن نے بی بی سی کے بارے میں کہا کہ ’یہ ایک اچھا پروڈکٹ ہے لیکن اس کے عزائم سامراجی ہوتے چلے جا رہے ہیں: چانسلر جارج اوزبورن

جورج اوزبورن نے اس تصور کو رد کیا کہ بی بی سی کو یہ خسارہ بھرنے کے لیے اہم چینلوں یا ریڈیو سٹیشنوں کو بند کرنا ہو گا۔

بی بی سی ویب سائٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چانسلر کا مزید کہنا تھا کہ اس میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بی بی سی کو اپنی ویب سائٹ ’بہت احتیاط‘ کے ساتھ دیکھنی ہو گی۔

ایک سوال کے جواب میں کہ آنے والی دہائی میں امکان ہے کہ قومی اخبارات آن لائن کا رخ کریں گے، چانسلر نے کہا کہ ’ہم نہیں چاہیں گے کہ بی بی سی باقی قومی اخبارات پر حاوی ہو جائے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’جب آپ بی بی سی ویب سائٹ دیکھتے ہیں تو آپ کو ایک اچھا پروڈکٹ دیکھنے کو ملتا ہے لیکن اس کے عزائم سامراجی ہوتے چلے جا رہے ہیں۔‘

گذشتہ ہفتے بی بی سی نے اعلان کیا گیا تھا کہ بی بی سی اپنی لائسنس فیس کی آمدنی میں 15 کروڑ پاؤنڈ کی کمی کی وجہ سے ایک ہزار نوکریاں ختم کر دے گا۔

بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹونی ہال کے مطابق خسارے کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے خاندان لائیو ٹی وی کی بجائے آن لائن پروگرام دیکھتے ہیں اور وہ لائسنسس فیس ادا نہیں کرتے۔