بی بی سی ایک ہزار نوکریاں ختم کرے گی

بی بی سی لائسنس فیس کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی میں 15 کروڑ پاؤنڈ کی کمی کی وجہ سے ایک ہزار نوکریاں کم کرے گی۔
اس کمی کی وجہ غیر متوقع طور پر ان گھرانوں کی تعداد میں اضافہ ہے جن کا کہنا تھا کہ وہ لائیو ٹی وی نہیں دیکھتے اس لیے وہ لائسنس فیس بھی ادا نہیں کریں گے۔
ان نوکریوں میں کمی زیادہ تر پروفیشنل اور امدادی شعبوں میں ہو گی جبکہ مینیجمنٹ کے ڈھانچے کو درست کیا جائے گا۔
بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹونی ہال کا کہنا ہے کہ اس سب سے تقریباً پانچ کروڑ پاؤنڈ کی بچت ہو گی جس کا مطلب ہے کہ مزید نوکریاں بھی کم کی جائیں گی۔
ٹونی ہال کے مطابق بی بی سی سخت مالی حالات سے گزر رہی ہے اس لیے اسے ’مشکل فیصلوں‘ کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ 2011 میں جب بچت کے ایک اور مرحلے کا آغاز کیا گیا تھا تو اس کے بعد توقعات سے دس لاکھ سے بھی کم لوگوں نے ٹی وی سیٹ خریدے، اس لیے بچت کے نئے راستے تلاش کرنے ہوں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ حالیہ برسوں میں نئی سروسز کے آنے کی وجہ سے فیصلہ سازی انتہائی مشکل کام رہا ہے اور اب وہ انھیں دوبارہ سے کم کر کے چیزوں کو آسان بنانا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے فیصلہ ساز کم ہو جائیں گے۔
پروفیشنل اور امدادی شعبوں میں، مثلاً انفارمیشن ٹیکنالوجی، ہیومن ریسورسز اور انجنیئیرنگ، کو خصوصی طور پر دیکھا جائے گا کہ کہیں ان میں ایک سے زیادہ لوگ ایک ہی عہدے پر تو کام نہیں کر رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے ساتھ ساتھ بی بی سی اور اس کی تجارتی شاخ کے شعبوں کو ضم کرنے کا امکان بھی موجود ہے۔







