سونی میں دس ہزار کٹوتیوں کا اعلان

سونی کو ٹی وی بزنس میں گزشتہ آٹھ سال سے نقصان ہو رہا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسونی کو ٹی وی بزنس میں گزشتہ آٹھ سال سے نقصان ہو رہا ہے

الیکٹرانکس کی دنیا کی ایک بڑی کمپنی سونی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنے دس ہزار ملازمین کو نوکری سے فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس بات کا اعلان کمپنی کے نئے چیف ایگزیکٹو كاذوؤ ہیرائي نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

اس سے پہلے منگل کو یہ بات سامنے آئی تھی سونی کو تقریباً ساڑھے چھ ارب ڈالر کا ریکارڈ سالانہ نقصان ہونے کا خدشہ ہے جو کہ ابتدائی اندازوں سےدوگنا ہے۔

سونی کو ٹی وی کے بزنس میں جنوبی کوریائی کمپنی سیم سنگ اور ایل جي سے سخت مقابلے کا سامنا ہے وہیں دوسری طرف موبائل فون کے معاملے میں ایپل اس کے سامنے ہے۔

کمپنی نے بتایا ہے کہ ملازمتوں میں یہ کٹوتیاں آئندہ ایک سال میں کی جائیں گی۔

یہ کٹوتیاں سونی کے ان کاروباروں میں کی جائیں گی جنہیں وہ فروخت کر رہی ہے۔ ان میں فلیٹ سکرین بنانے میں کمپنی کی مشترکہ شراکت جیسے کاروبار شامل ہیں۔

سونی کا کہنا ہے کہ مستقبل میں وہ اپنا دھیان تین اہم شعبہ جات پر دے گی جو کہ ڈیجیٹل امیجنگ، ویڈیوگیم كنسول اور موبائل آلات ہوں گے۔

کمپنی کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سونی اب الیکٹرانکس کے بزنس میں نئی جان ڈال کر اسے اونچائيوں تک لے جانا چاہتا ہے۔

سونی کو ٹی وی بزنس میں گزشتہ آٹھ سال سے نقصان ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالانکہ سونی ہر سال تقریباً دو کروڑ ٹی وی سیٹ فروخت کر رہا ہے مگر پھر بھی یہ اتنا نہیں ہے کہ اس سے فائدہ ہو سکے۔

اسی وجہ سے سونی اب تک ٹی وی کے جتنے ماڈل بناتا ہے دو ہزار تیرہ تک اس میں سے چالیس فیصد ختم کر دے گا۔