پاکستان میں ہالی وڈ فلم ڈاکٹر سٹرینج کی نمائش کیوں روکی گئی اور اس پر کیا اعتراض؟

ڈاکٹر سٹرینج

،تصویر کا ذریعہAlamy

مریم کو عید پر بس ایک ہی فلم دیکھنا تھی اور وہ تھی مارول کے سپر ہیرو ڈاکٹر سٹرینج کا سیکوول۔

تاہم جب انھوں نے سینما گھر جا کر شوز پر نظر دوڑائی تو اس فلم کا نام ہی غائب کر دیا گیا تھا۔ اس سمیت کئی لوگوں نے سوشل میڈیا پر اپنی مایوسی ظاہر کی ہے اور کئی کو تو لگتا ہے کہ ’ڈاکٹر سٹرینج ان دی ملٹیورس آف میڈنس‘ پر پابندی لگ گئی ہے۔

مگر دراصل ہالی وڈ فلم ڈاکٹر سٹرینج کے ڈسٹریبیوٹر کے مطابق ہاکستان میں اس کی نمائش 6 مئی کو متوقع تھی مگر اب اس کے تمام شوز کو سینٹرل فلم سینسر بورڈ کی منظوری تک منسوخ کر دیا گیا ہے۔ جبکہ سینما گھروں کی جانب سے ٹکٹوں کے پیسے ریفنڈ کیے جا رہے ہیں۔

ادھر سینسر بورڈ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ فلم میں ہم جنس پرستی سے متعلق ایک سین کی وجہ سے اس پر اعتراض اٹھایا گیا مگر انھیں امید ہے کہ آئندہ ہفتوں کے دوران اسے فُل بورڈ ریویو کے بعد ریلیز کیا جاسکے گا۔

پاکستان میں عید الفطر کے موقع پر اس بار چار پاکستانی فلمیں ریلیز کی گئیں جن میں ’گھبرانا نہیں ہے‘، ’پردے میں رہنے دو‘، ’دم مستم‘ اور ’چکر‘ شامل ہیں۔ مگر بعض لوگ ڈاکٹر سٹرینج کی نمائش روکے جانے پر خوش نہیں اور وہ سوشل میڈیا پر اپنی ناراضی ظاہر کر رہے ہیں۔

’ڈاکٹر سٹرینج کی نمائش روکنے نے اچھی مثال قائم نہیں کی‘

مارول کامکس پر مبنی سپر ہیرو فلم ’ڈاکٹر سٹرینج ان دی ملٹیورس آف میڈنس‘ کے پہلے پارٹ کی نمائش 2016 میں کی گئی تھی جس کی کامیابی کے بعد اس کا سیکوول بنایا گیا۔

عالمی سطح پر 4 مئی کو ریلیز ہونے والی اس فلم میں برطانوی اداکار بینیڈک کمبربیچ ڈاکٹر سٹرینج کا مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ جادوگر کا ایک افسانوی کردار ہے جو اپنی خاص طاقتوں کی مدد سے برائی سے لڑتا ہے۔

سوشل میڈیا پر بعض صارفین کے تبصروں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں بھی ایسے کافی سارے فین ہیں۔

جیسے امامہ نے لکھا ہے کہ انھوں نے جمعے کو یہ فلم دیکھنے کی مکمل تیاری کر لی تھی اور ٹکٹ بھی خرید لیا تھا مگر عین وقت پر معلوم ہوا کہ ’شو کینسل کر دیا گیا ہے۔‘

ڈاکٹر سٹرینج

،تصویر کا ذریعہDisney/Alamy

سید صائم کہتے ہیں کہ اگر آپ پاکستان میں نیٹ فلکس پر دستیاب منی ہائسٹ اور گیم آف تھرونز جیسی سیریز دیکھ سکتے ہیں جن میں ہم جنسی پرستی کے سینز ہیں تو فلموں کے لیے ایسی بندش بے بنیاد ہے۔ ’ڈاکٹر سٹرینج میں اس سین کو سینما گھروں کے لیے سینسر کر دینا چاہیے۔‘

ادھر عمار نامی ٹوئٹر صارف کہتے ہیں کہ 12 سینکڈ کے ڈائیلاگ پر فلم کی نمائش روکنا جس میں صرف ایک کردار اپنی دو ماؤں کا اظہار کرتی ہے کوئی اچھی مثال قائم نہیں کرتا۔

وہ کہتے ہیں کہ سینما گھروں نے فلم کی ٹکٹوں بُک کر رکھی تھیں اور ڈاکٹر سٹرینج کی بھی معمول کے مطابق تشہیر جاری تھی۔ ’پاکستانی فلموں کی بھی نمائش کی گئی ہے۔ آپ بے شک اسے سازشی نظریہ سمجھیں لیکن (نمائش روکنے کی) ٹائمنگ کچھ ٹھیک نہیں۔ اس سے صرف پاکستانی فلمسازوں کو فائدہ ہوگا۔‘

ڈاکٹر سٹرینج

،تصویر کا ذریعہTwitter

بعض صارفین کو خدشہ ہے کہ فلم پر پابندی لگائی جاسکتی ہے۔ جیسے عاصمہ بتول نے تبصرہ کیا کہ پاکستان میں لوگ گھروں میں پورن دیکھ سکتے ہیں ’مگر ڈاکٹر سٹرینج جیسی سپر ہیرو فلم کو ایک ہم جنس پرست کردار کی وجہ سے بین کیا جا رہا ہے۔‘

ابو علیحہ نے کہا کہ ’آپ کی فلم میں ناچ گانا، ذومعنی جملے اور آئٹم نمبر نہیں تو ہمارا تماش بین سنسر بورڈ اسے پاس نہیں کرے گا۔‘

ڈاکٹر سٹرینج پر آخر کیا اعتراض اٹھایا گیا؟

پاکستان میں ڈاکٹر سٹرینج کی نمائش منسوخ ہونے پر جب بی بی سی نے سینٹرل فلم سینسر بورڈ کے ایک اہلکار سے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ فلم میں ہم جنس پرستی سے متعلق ایک سین پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔

اعتراض کی وجہ ’ہم جنس پرستی سے متعلق ایک سین ہے لیکن میرا خیال ہے کہ اگر اسے ہٹا دیا جائے تو یہ کلیئر ہوجائے گی۔۔۔ اس کے علاوہ اس پر کوئی خاص اعتراض نہیں ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

اس سوال پر کہ کیا ڈاکٹر سٹرینج پر پاکستان میں پابندی لگائی جاسکتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ’پابندی تو بعد کی بات ہے، ابھی پہلے ہمارے سامنے پیش کی جائے گی اور اس کا فُل بورڈ ہوگا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ سینٹرل سینسر بورڈ نے یہ فلم ایک بار دیکھی تھی اور اس پر چھوٹا سا اعتراض تھا جو ممکنہ طور پر کلیئر ہوسکتا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سعودی عرب سمیت بعض مشرق وسطیٰ کے ممالک نے بھی ڈاکٹر سٹرینج کو اس کی اصل حالت میں منظور نہیں کیا۔ یہاں بھی پابندی کی وجہ وہی کچھ سینکڈ کا سین بنا جس میں جنس پرستی کا حوالہ دیا گیا ہے۔

فلم میں ایک کردار امریکن چاویز اپنی دو ماؤں کا ذکر کرتی ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق ڈزنی نے ان سینز کو نکالنے کے مطالبے پر انکار کیا ہے۔

ادھر بینیڈک کمبربیچ نے اس پابندی پر کہا کہ ’اس مایوسی کی توقع پہلے سے تھی۔‘

خیال رہے کہ مختلف وجوہات کی بنا پر ماضی میں بھی ملکی و غیر ملکی فلموں کی نمائش روکی جاچکی ہیں۔ رواں سال کے اوائل میں ’مختلف نوعیت کی شکایات‘ کے بعد سینسر بورڈ نے ’100 بچوں کے سفاک قاتل‘ پر بننے والی فلم جاوید اقبال کی نمائش روک دی تھی۔ اس سے قبل ہدایتکار سرمد کھوسٹ کی فلم زندگی تماشا پر تنازع بنا تھا۔