اجیت: بالی وڈ کے ’نفیس ولن‘ اجیت جنھوں نے فلمی شخصیات سے قربت حاصل کرنے کے لیے پشتو آزمائی

،تصویر کا ذریعہSHAHID ALI KHAN
- مصنف, ریحان فضل
- عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی
انڈین اداکار اجیت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے 1970 کی دہائی میں ہندی سنیما میں ولن کی تصویر کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا تھا۔
وہ خوش اخلاق، پڑھے لکھے، سوٹ اور سفید جوتے پہنے اور کلارک گیبلز کی طرز کی مونچھیں رکھنے والے شخص تھے۔
اجیت کا ماننا تھا کہ ہندی فلموں کے ولن اکثر اونچی آواز میں بات کرتے ہیں۔ اجیت نے ولن کی ڈائیلاگ ڈیلیوری کو نرم ٹچ دیا، جس نے سخت ترین فیصلے لینے کے بعد بھی آواز کے آہنگ کو بلند نہیں کیا۔
اقبال رضوی نے حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’اجیت دی لائن‘ لکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’کسی زمانے میں ولن ڈاکو ہوا کرتے تھے یا اس سے پہلے زمیندار ولن ہوا کرتے تھے جو سود پر قرض دیا کرتے تھے لیکن 70 کی دہائی میں جب اجیت ولن بنے تو انڈیا کا معاشرہ بدلنے لگا تھا۔ انگریزی فلموں کا اثر بھی نظر آنے لگا۔ پھر ہمارا تعارف ایک ایسے ولن سے ہوتا ہے جو بہت مہذب ہوتا ہے۔
’ایسا نہیں کہ اس کے بال بڑے ہیں یا ہاتھ میں بندوق ہے اور جو بات بات پر گولیاں چلاتا ہے، بلکہ وہ سوٹ پہنتا ہے، بو اور ٹائی پہنتا ہے اور ایک ایسے ہوٹل کا مالک ہوتا ہے جہاں لائسنس کے ساتھ جوا کھیلا جاتا ہے، وہ بہت آرام اور سکون سے بات کرتا ہے، اسے دیکھ کر یقین نہیں آتا تھا کہ یہ آدمی بھی ایسا بدمعاش اور شیطان ہو سکتا ہے۔‘
کتابیں بیچ کر بمبئی پہنچے
اجیت کے والد کا خاندان اترپردیش کے شاہ جہاں پور کا تھا لیکن وہ حیدرآباد میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد نظام کی فوج میں کام کرتے تھے۔ آزادی سے پہلے شریف خاندان کے بچوں کو فلمیں دیکھنے کی اجازت نہیں تھی۔
اقبال رضوی بتاتے ہیں کہ ’اجیت کے ماموں کے پاس حیدرآباد کے دو سینما ہالز کی کینٹین کا ٹھیکہ تھا۔ اس لیے ان پر فلمیں دیکھنے کی کوئی پابندی نہیں تھی۔
’وہیں سے ان کے اندر سنیما کا شوق پیدا ہوا۔ 12 سال کی عمر میں، اجیت نے اپنے کریئر کا آغاز کیا، فٹبال کھیلنا شروع کیا اور جلد ہی وہ ایک اچھے فٹبال کھلاڑی بن گئے۔ انھیں پڑھائی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہSHAHID ALI KHAN
'جب اجیت کا امتحان ہوا تو انھیں احساس ہو گيا کہ وہ اس میں پاس نہیں ہو سکیں گے۔ وہ اپنے والد سے بہت ڈرتے تھے کیونکہ ان کے والد بہت سخت مزاج تھے۔ انھیں ڈر تھا کہ ان کی بہت پٹائی ہوگی اور انھیں فوج میں بھرتی کر دیا جائے گا۔
’پھر انھوں نے فیصلہ کیا کہ انھیں بمبئی جا کر اداکاری میں ہاتھ آزمانا چاہیے، چنانچہ انھوں نے اپنے والد سے جھوٹ بولا کہ انھوں نے امتحان پاس کر لیا ہے، اور ان سے سکول کی فیس لی اور اپنی تمام کتابیں بیچ کر ٹرین پکڑ لی اور بمبئی کے لیے روانہ ہو گئے۔ ان کے پاس کل 113 روپے تھے۔‘
بمبئی میں جدوجہد کے دن
بعد میں صحافی کیتھ ڈی کوسٹا کے ساتھ ایک انٹرویو میں اجیت نے کہا: ’جب میں بمبئی آیا تو میں نے توقع کی تھی کہ تمام مشہور ہدایت کار جیسے کیدار شرما، محبوب خان اور وی شانتارام وغیرہ وی ٹی ریلوے سٹیشن پر میرا استقبال کریں گے۔ میرے ذہن میں یہ احمقانہ بات گھر کر گئی تھی کہ شاید میں واحد شخص ہوں جس نے فلموں میں کام کرنے کا سوچا تھا۔‘
ظاہر ہے اجیت کی امیدوں کو بڑا دھچکا لگا۔ انھوں نے پشتو زبان کو دوبارہ آزمانا شروع کیا تاکہ وہ کچھ فلمی شخصیات سے قربت حاصل کر سکیں جو فلم سٹوڈیوز اور بڑے فلم سازوں کے گھروں میں سکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کرتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہSHAHID ALI KHAN
انھوں نے بمبئی میں ایک جگہ پانچ روپے ماہانہ کرائے پر لی۔ اجیت نے اردو میگزین روبی کے نومبر سنہ 1975 کے شمارے میں 'یاد ایام، عشرت فانی' کے عنوان سے ایک مضمون میں اعتراف کیا کہ ’وہ جگہ اتنی چھوٹی تھی کہ مجھ جیسا چھ فٹ لمبا آدمی ٹانگیں باندھ کر ہی اس میں داخل ہو سکتا تھا۔
’ایک دوست نے مجھے کچھ مکانات کا کرایہ وصول کرنے کی ذمہ داری سونپی، اس نے کہا کہ آپ کی قد کاٹھی اچھی ہے، اس لیے آپ کو اس کام میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ لیکن یہ کام مجھے پسند نہیں آیا۔
’انھی دنوں میری ملاقات مظہر خان سے ہوئی جنھوں نے فلم 'بڑی بات' میں مجھے ایک سکول ٹیچر کا کردار دیا۔ میں نے تقریباً تین سال تک جونیئر آرٹسٹ کے طور پر چھ فلموں میں کام کیا۔ اس دوران میرا نام حامد علی خان ہی رہا۔'
حامد علی خان سے اجیت بنے
اسی دوران حامد علی خان کا فلمساز اور ہدایتکار کے امرناتھ سے رابطہ ہوا۔ ان کے ساتھ انھوں نے ایک ہزار روپے ماہانہ کا معاہدہ کیا۔ امرناتھ نے ہی ان کا نام اجیت رکھا۔
اقبال رضوی بتاتے ہیں کہ 'امرناتھ جی کا ماننا تھا کہ نام حامد علی خان بہت لمبا ہے۔ سینما میں نام ایسا ہونا چاہیے کہ لوگوں کی زبان پر آسانی سے چڑھ جائے۔ انھیں اسے مختصر، دلکش اور سہل بنانا چاہیے تاکہ لوگوں کو یہ نام لینے میں آسانی ہو۔ امرناتھ نے انھیں دو تین نام تجویز کیے تھے جن میں انھیں اجیت نام سب سے اچھا لگا۔ اجیت نام چل نکلا اور انھیں فلمیں ملنے لگیں۔'
اجیت کی بطور ہیرو پہلی فلم ’بے قصور‘ تھی جس میں مدھوبالا ان کی ہیروئن تھیں۔ اس کے بعد انھوں نے 'ناستک'، 'بڑا بھائی'، 'بارہ دری' اور 'ڈھولک' میں بھی کام کیا۔ اجیت نے فلم 'مغل اعظم' میں درجن سنگھ کے کردار سے بھی شہرت حاصل کی۔

،تصویر کا ذریعہSHAHID ALI KHAN
راجیندر کمار ولن کے طور پر کام کرنے کے لیے تیار کیا
اجیت کی منفی کردار میں پہلی فلم، جس کو کافی پذیرائی ملی، وہ 'سورج' تھی۔ اس فلم سے متاثر ہو کر لیکھ ٹنڈن نے انھیں فلم 'پرنس' کے لیے سائن کیا۔
اقبال رضوی بتاتے ہیں کہ ’اجیت اور راجیندر کمار کے درمیان بہت اچھی دوستی تھی کیونکہ دونوں کو شاعری میں بہت دلچسپی تھی۔ اس وقت اجیت کو ہیرو کے طور پر فلمیں ملنا بند ہو گئیں۔ راجیندر کمار نے انھیں فلم سورج میں ولن کے طور پر کام دلایا۔ شروع میں اجیت نے کچھ ہچکچاہٹ محسوس کی لیکن راجیندر کمار نے کہا کہ ولن کی عمر بہت لمبی ہوتی ہے لیکن ایک خاص عمر کے بعد ہیرو کو کام ملنا بند ہو جاتا ہے۔
’چونکہ راجیندر کمار ان کے دوست تھے، اجیت کو لگا کہ وہ انھیں کسی فائد کے لیے یہ مشورہ نہیں دے رہے ہیں۔ اس لیے انھوں نے ان کا مشورہ تسلیم کرتے ہوئے سورج نے فلم میں ولن کا کردار ادا کیا۔‘
اجیت نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ فلم 'سورج' کے ساتھ ہندی فلم انڈسٹری میں ایک طرح سے ان کا دوبارہ جنم ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہSHAHID ALI KHAN
تیجا اور شاکال کے کردار نے اجیت کو بلندی پر پہنچا دیا
تین دہائیوں تک بہت سے کردار ادا کرنے کے بعد سنہ 1973 میں انھیں دو ایسے کردار ملے جن سے انھیں پورے انڈیا میں ایک نئی شناخت ملی۔
یہ دونوں کردار سمگلرز کے تھے اور انھیں سلیم جاوید کی مشہور جوڑی نے لکھا تھا۔ 'زنجیر' میں تیجا کے کردار اور 'یادوں کی بارات' میں شاکال کے کردار نے انھیں بالی وڈ کے سرفہرست ولن کی صف میں پہنچا دیا۔
یہ بھی پڑھیے
فلم زنجیر کا بجٹ بہت زیادہ نہیں تھا۔ اجیت نے اس فلم میں تیجا کے کردار کے لیے اپنے کپڑے پہنے۔ معرف اداکار دلیپ کمار نے شاید ہی کسی کی اداکاری کی تعریف کی ہو لیکن انھوں نے اجیت کو اس کردار کے لیے مبارکباد دی۔
اجیت نے جس طرح تیجا کا کردار ادا کیا اس میں ایک طرح کا ہالی وڈ ٹچ تھا۔
اقبال رضوی بتاتے ہیں: 'اجیت ہالی وڈ کی فلمیں بہت شوق سے دیکھتے تھے۔ انھوں نے ہالی وڈ اداکاروں کے سٹائلش، فیشن ایبل لباس، سگار اور پائپ پینا، لمبی کاریں چلانا اور شائستہ کول اشاروں کو مجسم کردیا جس کی وجہ سے وہ سینیما کے شائقین میں بہت مقبول ہوئے۔'

،تصویر کا ذریعہSHAHID ALI KHAN
تیجا کا کردار دھرم تیجا پر مبنی تھا
بالی وڈ کے ولن پر حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب 'پیور ایول دی بیڈ مین آف بالی وڈ' میں بالاجی وٹل لکھتے ہیں: 'تیجا اور شاکال نامی لوگ دراصل اس دنیا میں واقعی تھے۔ سنہ 1960 میں جینت دھرم تیجا نے جینتی شپنگ کمپنی کی بنیاد رکھی تھی۔
دو کروڑ 20 لاکھ روپے قرض لیے تھے۔ بعد میں جب معلوم ہوا کہ وہ قرض کی رقم اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کر رہے ہیں تو وہ ملک سے فرار ہو گئے۔ سلیم جاوید نے اس تیجا سے متاثر ہوکر زنجیر میں اجیت کا کردار تیار کیا۔
اس کے برعکس جی پی شاکال ایک قابل احترام شخص تھے جو ناصر حسین کی فلموں کے پبلسٹی انچارج تھے۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ سلیم جاوید فلم 'یادوں کی بارات' میں اس قابل احترام آدمی کا نام اجیت کو دیں گے جو ایک جوڑے کو گولی مار کر ان کے دو بیٹوں کو الگ کر دیتا ہے۔
یہ شخص ملک بھر سے قیمتی بت اور جواہرات چرا کر بیرون ملک رابرٹ جیسے لوگوں کو فروخت کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSHAHID ALI KHAN
اپنے ہاتھ نہ گندا کرنے والے شخص کی تصویر
شاکال اور تیجا کے کردار کی خاص بات ان کا وہ بے پروا ہونا تھا۔ ان کے پاس ہمیشہ ایک پلان بی ہوتا تھا اور وہ کبھی کسی رکاوٹ سے پریشان نہیں ہوتے تھے۔
فلمی تاریخ دان کوشک بھومک کہتے ہیں: 'ان فلموں میں اجیت کا کردار ہمیشہ قتل کی ذمہ داری اپنے حواریوں کو دیتا ہے جبکہ وہ خود ایک ایسی عورت کے ساتھ بستر پر لیٹا رہتا ہے جو اس کی بیوی نہیں ہے۔ فلم یادوں کی بارات میں وہ ان کی سفید، کلف لگی پوری آستین کی قمیضیں اس بات کی علامت ہے کہ وہ اپنے ہاتھ کبھی گندے نہیں کرتے۔'
بالاجی وٹل اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ 'تیجا اور شاکال کے کرداروں نے اجیت کو ایک مسحور کن اسمگلر کی شبیہ میں پیش کیا۔ ان دونوں کرداروں میں بہت سی مماثلتیں تھیں اور انھیں مصنف نے خاص طور پر اجیت کے لیے لکھا تھا۔
’یہ واضح نہیں ہے کہ پریم ناتھ، انور حسین اور پران جیسے ولن کی موجودگی میں ان کردواروں کے لیے اجیت کو کیوں منتخب کیا گیا تھا۔ شروع میں اجیت تیجا کے کردار کو لے کر زیادہ پرجوش نہیں تھے لیکن سلیم خان نے انھیں یہ کردار کرنے کے لیے بہت مشکل سے راضی کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہSHAHID ALI KHAN
فلم دیوار میں ولن کا کردار مسترد کر دیا
جب سلیم جاوید نے فلم دیوار لکھی تو وہ اجیت کو مرکزی ولن کا کردار دینا چاہتے تھے۔ اقبال رضوی بتاتے ہیں: 'فلم میں ایک سین تھا جس میں ولن کو اپنے بیڈ روم میں صرف انڈرویئر پہن کر ہیرو سے لڑنا پڑا۔ اس کے بعد ہیرو کو اسے کھڑکی کے باہر سوئمنگ پول میں پھینکنا پڑا۔
’اجیت نے انڈرویئر پہننے پر اعتراض تھا۔ ڈائریکٹر یش چوپڑا دیوار سے اس سین کو ہٹانے کے لیے تیار نہیں تھے، اس لیے اجیت نے یہ کردار کرنے سے انکار کر دیا۔ بعد میں یہ کردار مدن پوری نے ادا کیا۔‘
اسی سال کی فلم کالی چرن میں ان کا مکالمہ 'سارا شہر مجھے لائن کے نام جاتا ہے' کو اتنی ہی شہرت ملی جتنی کہ شعلے کے ڈائیلاگ 'کتنے آدمی تھے' کو ملی۔
اجیت اپنی تمام فلموں کے اسٹنٹ خود کرتے تھے، چاہے وہ کتنے ہی خطرناک کیوں نہ ہوں۔ انھوں نے کبھی بھی سٹنٹ کے لیے ڈپلیکیٹ کا استعمال نہیں کیا۔

،تصویر کا ذریعہSHAHID ALI KHAN
اٹل بہاری واجپائی اجیت کے بہت بڑے مداح تھے
انڈیا کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اجیت کے بہت بڑے مداح تھے۔ مشہور فلمی صحافی رام کرشنا اپنی کتاب 'فلم جگت میں ارد شتی (نصف صدی) کا ایڈونچر' میں لکھتے ہیں: ’لکھنؤ میں ایک دن رات 10 سے 11 بجے کے درمیان کسی نے میرے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، جب میں نے دروازہ کھولا تو میں نے دیکھا کہ پنچ جنیہ کے ایڈیٹر گریش چندر مشرا، اٹل بہاری واجپائی کے ساتھ کھڑے ہیں۔دراصل ان دونوں کی دس دس روپے کی شرط لگی تھی اور وہ جواب لینے میرے دروازے پر آئے۔
’واجپائی کا ماننا تھا کہ اجیت شاہجہاں پور کا رہنے والا ہے جب کہ مشرا کو پورا بھروسہ تھا کہ اجیت حیدرآباد کا رہنے والا ہے، انھوں نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا کہ تم دونوں ٹھیک کہتے ہو، اجیت کا آبائی گھر شاہجہاں پور میں تھا لیکن وہ حیدرآباد میں پیدا ہوا اور پرورش پائی۔‘
سنہ 1980 کی دہائی میں ایک بار اجیت منالی میں فلم 'کرم یوگی' کی شوٹنگ کر رہے تھے۔ اقبال رضوی بتاتے ہیں: ’اجیت کو اٹل بہاری واجپائی نے پیغام بھیجا، جو انھوں دنوں وہاں آئے ہوئے تھے کہ وہ ان کے ساتھ چائے پینا چاہتے ہیں۔
’اگلی شام اجیت واجپائی سے ان کے گھر پر ملنے گئے۔ واجپائی نے ان کا بہت پرتپاک استقبال کیا۔ انھوں نے بتایا کہ انھیں جب بھی موقع ملا، انھوں نے ایل کے اڈوانی (سابق نائب وزیر اعظم) کے ساتھ ان کی کئی فلمیں دیکھیں۔ واجپائی اجیت کی آواز اور ڈائیلاگ ڈلیوری کے مداح تھے۔
’جب اجیت چلنے لگے تو واجپائی انھیں دروازے تک چھوڑنے آئے۔ اجیت خوش قسمت تھے کہ دو دو وزیر اعظم سے ان کا واسطہ رہا۔ جس کالج میں وہ پڑھتے تھے نرسمہا راؤ اس کالج میں ان سے دو سال سینیئر تھے۔ وہ اور اجیت ایک ہی ہاسٹل میں رہتے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہSHAHID ALI KHAN
بڑے ڈائریکٹرز نے نظر انداز کیا
یہ اجیت کی بدقسمتی تھی کہ انھیں اپنے ہم عصروں جیسے وی شانتارام، راج کپور، محبوب خان، گرو دت اور بمل رائے کے ساتھ کام کرنے کا موقع نہیں ملا۔ اب تک کے سب سے بڑے ہدایت کاروں میں سے صرف کے آصف کے ساتھ کام کیا۔ 70 کی دہائی کے بڑے ڈائریکٹر منموہن دیسائی، منوج کمار اور فیروز خان نے بھی انھیں کام نہیں دیا۔
سبھاش گھئی کی پہلی فلم ’کالی چرن‘ جس میں اجیت نے کام کیا وہ بہت کامیاب رہی لیکن اس کے باوجود انھوں نے اپنی اگلی کسی فلم میں اجیت کو نہیں دہرایا۔
اسی طرح پرکاش مہرا کی بطور ہدایت کار پہلی فلم 'زنجیر' بھی بہت کامیاب رہی لیکن انھوں نے بھی اجیت کے ساتھ دوبارہ کام نہیں کیا۔ بی آر چوپڑا نے اجیت کے ساتھ صرف ایک فلم 'نیا دور' کیا۔
اسی طرح یش چوپڑا نے بھی انھیں صرف ایک فلم 'آدمی اور انسان' میں سائن کیا۔ البتہ دیوآنند اور چیتن آنند نے ضرور اجیت کی صلاحیتوں کو تسلیم کیا اور اھہیں اپنی بہت سی فلموں میں اداکاری نبھانے کے لیے مجبور کیا۔

،تصویر کا ذریعہSHAHID ALI KHAN
ذاتی زندگی میں بہت شریف اور شائستہ
اجیت کو یاد کرتے ہوئے ان کے بیٹے شاہد علی خان کا کہنا ہے کہ 'اجیت ذاتی زندگی میں بہت نرم گو اور حلیم آدمی تھے۔ حالانکہ وہ کبھی ناراض نہیں ہوتے تھے لیکن کبھی کبھی غصے میں آ جاتے تھے۔ پھر وہ مجھے میرے پورے نام سے پکارتے تھے۔ 'شاہد علی خان یہاں آئیں۔'
وہ اپنے ماتحتوں اور ملازموں یعنی ڈرائیور اور نوکروں کو بھی جی یا صاحب کہہ کر پکارتے تھے، ہم اپنی سکول بس میں جاتے تھے جب کہ ہمارے والد کے پاس دو کاریں اور ڈرائیور ہوتے تھے، وہ ہمیں کبھی گاڑی سے ڈراپ نہیں کرتے تھے۔
حالانکہ میں ہی انھیں باہر لے کر جاتا تھا لیکن اگر میں کبھی گھر پر نہیں ہوتا، تو وہ خود آٹو لے کر چلے جاتے۔ ان کو کبھی یہ احساس نہیں رہا کہ وہ سیلبریٹی ہیں۔
اجیت کو شعرو شاعری کا بہت شوق تھا۔ شاہد کا کہنا ہے کہ ہمارے یہاں کبھی فلمی پارٹیاں نہیں ہوتی تھیں۔ انھیں آم بہت پسند تھے۔ وہ آم کے موسم میں کھل اٹھتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہSHAHID ALI KHAN
نفاست پسند شخص
اجیت ایک نہایت اصول پسند اور با ادب انسان تھا۔ اقبال رضوی بتاتے ہیں: ’چھوٹی چھوٹی باتوں سے دور، انھوں نے فلموں میں اس قسم کے کردار کو قبول نہیں کیا۔ وہ ہمیشہ یہ کہہ کر ریپ سین سے گریز کرتے تھے کہ یہ ان کی عزت کے خلاف ہے۔ انھیں شاعری کا بہت شوق تھا۔ وہ اکثر اپنی گاڑی بھنڈی بازار بھیج دیا کرتے تھے اور شاعروں کو اپنے گھر بلاتے جہاں ان کی نشست ہوا کرتی تھی۔
’بیگم پارہ نے ان کے بارے میں ایک بڑی دلچسپ بات کہی تھی کہ اگر کوئی عورت کسی مرد کے بارے میں کچھ کہتی ہے تو اس سے اس کی اصل شخصیت ظاہر ہو جاتی ہے۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ اجیت ایک ایسے شخص تھے جن کی صحبت میں خواتین کبھی خطرہ محسوس نہیں کرتی تھیں۔‘

،تصویر کا ذریعہSHAHID ALI KHAN
اجیت کے لطیفوں کی مقبولیت
کئی سالوں میں، اجیت کے ون لائنرز جیسے ’مونا ڈارلنگ‘ اور ’رابرٹ‘ نے سنیما سے محبت کرنے والوں کی نسلوں کو محظوظ کیا ہے۔ اجیت خود کہتے تھے کہ میرے پرستار میرے بولے گئے مکالموں کے دیوانے ہیں۔
جب انھیں یہ ملنے بند ہو گئے تو انھوں نے اپنے ذہن سے مکالمے بنانے شروع کر دیے۔ ایک فلم میں اجیت ایک بری طرح سے پٹے اور دیواروں میں جکڑے ہوئے ہیرو کو لیکوئڈ آکسیجن میں ڈبونے کا حکم دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 'لیکوئڈ اسے جینے نہیں دے گی اور آکسیجن اسے مرنے نہیں دے گی۔'
سنہ 1982 میں جاوید جعفری نے میگی ساس کی ٹیگ لائن اجیت کے ڈائیلاگ ’باس پاس دی ساس‘ کے طرز پر لکھی۔ پارلے جی بسکٹ کی تشہیر بھی اجیت کے خاص انداز میں کی گئی۔ ان کی پنچ لائن ’مال لائے ہو‘ تھی۔










