عتیقہ اوڈھو: اس عمر میں محبت کے بغیر شادی جیسا رسک نہیں اٹھا سکتے

عتیقہ اوڈھو

پاکستانی ٹیلی وژن اور فلم کی اداکارہ عتیقہ اوڈھو دو بار ناکام شادی کے تجربے سے گزرنے کے بعد اب گذشتہ ایک دہائی سے کامیاب ازدواجی تعلق میں بندھی ہوئی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ثمر علی خان کے ساتھ ان کی شادی کو جون میں دس سال ہوجائیں گے۔ ان کے موجودہ شوہر ان کے نہ صرف دوست تھے بلکہ انھوں نے کافی سوشل ورک ساتھ کیا۔

اس عمر میں شادی کے فیصلے کے بارے میں عتیقہ اوڈھو کا کہنا تھا ’ہم نے سوچا جب اتنا کچھ ساتھ کر ہی رہے ہیں تو کیوں نہ ساتھ زندگی بنائیں۔‘

تاہم وہ مانتی ہیں کہ جوان بچوں کی موجودگی میں یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا۔

بی بی سی کے لیے صحافی براق شبیر سے بات کرتے ہوئے عتیقہ اوڈھو کا کہنا تھا کہ ’میرے بھی بچے بڑے ہو رہے تھے اور ان کی طرف بھی مسائل ہوئے۔‘

ان کا کہنا تھا ’میری بڑی شادی شدہ بیٹی نے کہا کہ میں اپنے سسرال والوں کو کیا کہوں گی؟ تو میں نے اس سے کہا کہ آپ اُن سے کہو کے آپ کی امّی حلال کام کرنے جا رہی ہے حرام کام نہیں کر رہی تو اس میں شرمندگی کی کوئی بات نہیں۔‘

محبت کے بغیر شادی کا رسک مشکل ہے

عتیقہ اوڈھو کے شوہر ثمر علی خان کا عتیقہ سے شادی کے فیصلے کے بارے کہنا تھا ’جان پہچان تو تھی، لیکن جب امریکہ میں ان سے بات چیت ہوئی تو احساس ہوا، میں انہیں بطور اداکار نہیں بلکہ ایسی شخصیت کے طور پر پر جانتا تھا جو انسانوں کی پرواہ کرتا ہے۔ یوم خواتین پر یہ اس وقت مینگورہ جا رہی تھی جب وہاں جنگ ہو رہی تھی۔‘

ثمر علی خان کا کہنا تھا ’یہ تعلق واقفیت سے شروع ہوا اور ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے پروان چڑھا۔ مجھے لگا ہمیں زیادہ ملنا چاہیے۔‘

عتیقہ اوڈھو کا کہنا تھا ’یہ باہمی احترام سے شروع ہو کر محبت تک آیا۔ ظاہر ہے اس عمر میں انسان محبت کے بغیر شادی کا نہیں سوچتا۔‘

’ایک چیز تو واضح تھی کہ چیلنجز آئیں گے۔ بڑے بڑے بچے ہیں۔ میرے تو نکاح پر میرا نواسا میری گود میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس عمر میں جا کے ایسا رسک اٹھانا محبت کے بغیر آپ نہیں کر سکتے۔ آپ عزت تو بہت لوگوں کی کرتے ہیں لیکن ایسا رسک لینے کے لیے جذباتی وابستگی ضروری ہے۔‘

’زندگی میں آپ وہ فیصلہ کریں جو آپ کے لیے اچھے ہیں۔ اگر آپ کسی کو دکھ تکلیف نہیں دے رہے اور اپنے لیے اچھا فیصلہ کر رہے ہیں۔‘

عتیقہ اوڈو کا کہنا تھا ’میں تو سمجھتی ہوں محبت کی عمر نہیں ہوتی۔ بس فرق یہ ہوتا ہے کہ بچوں کو کیسے بتائیں؟ ٹھیک ہی فیصلہ کر لیا لیکن کیسے کریں؟ ہمارے تو بڑے بڑے بچے ہیں، دھوم دھام سے شادی مزہ نہیں کرے گی۔‘

عتیقہ اوڈھو کا کہنا تھا کہ پہلے انھوں نے سوچا کہ رجسٹرار کے پاس جا کر نکاح کریں گے اور خاندان والوں کو دعوت کھلا کر بتا دیں گے۔ لیکن ان کی ایک بہن نے انہیں ایسا نہیں کرنے دیا۔ جس کے بعد یہ باقاعدہ ایک تقریب میں ہوا۔

عتیقہ اوڈھو

،تصویر کا ذریعہAtiqa Odho

خود شادی کی پیش کش کی

ثمر علی خان کا کہنا تھا ’ایک کشش ہوتی ہے اور ایک محبت ہوتی ہے، لیکن احترام بھی ہوتا ہے۔ میں اب بھی ان کی ستائش کرتا ہو۔ یہ ویسی ہی ہیں جیسی میں انہی سمجھ رہا تھا۔‘

عتیقہ اوڈھو نے اس شادی کے لیے اپنے شوہر کو خود پیش کش کی تھی۔

ان کا کہنا تھا ’مجھے لگتا ہے کہ اگر عورت کو کوئی فیصلہ کرنا ہے، وہ کچھ کرنا چاہتی ہے تو وہ خود کیوں نہیں کہہ سکتی؟‘

’میں نے انہیں ایک دن بٹھایا کافی پلائی اور کہا مجھے لگتا ہے ہمیں شادی کر لینی چاہیے۔ مجھے بحثیت عورت فخر ہے کہ مجھے میں اتنی ہمت تھی کہ انہیں پرپوز کیا۔ ‘

عتیقہ اوڈھو کا کہنا تھا کہ ’ایک عورت کو یہ حق ہونا چاہیے کہ اگر اسے لگتا ہے کہ اس کی زندگی کے لیے کوئی چیز اچھی ہے تو وہ اس کے لیے فیصلہ کر سکے۔‘

شادی کا بچوں پر اثر

ثمر علی خان کا کہنا تھا ’ایسے فیصلوں کا اثر بچوں پر ہوتا ہے کیونکہ باپ باپ ہی رہے گا اور ماں ماں رہے گی یہ حقیقت بدل نہیں سکتی لیکن ان کا دل ٹوٹتا ضرور ہے۔ کسی بھی عمر میں۔‘

بچوں کے لیے یہ’ بہت زیادہ درد ناک قصہ ہوتا ہے۔ میری بچے ٹھیک ہیں، انھوں نے اسے قبول کر لیا ہے لیکن یہ سو فیصد نہیں ہے۔ ‘

’ عتیقہ کو مجھے خوش کرنا آتا ہے میں بھی ان کے لیے پھول لے آتا ہوں۔‘

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام

اس حوالے سے عتیقہ اوڈھو کا کہنا تھا ’ جب ماں ایک تکلیف دہ رشتہ سے نکلتی ہے تو بچوں کی ماں کے لیے ہمدردری ہوتی ہے۔ میرے معاملے میں میرے بچوں کی خواہش تھی کہ میں خوش رہوں لیکن جب باپ بدلتا ہے تو بچوں کا نظریہ الگ ہوتا ہے۔ کیونکہ والد ایک بنیاد ہوتا ہے۔ ماں باپ کے لیے بچوں کے رد عمل میں بھی فرق ہوتا ہے۔‘

عتیقہ اوڈھو کہنا تھا ’بچوں نے میری جد و جہد دیکھی ہوئی ہے اس لیے کبھی یہ نہیں کہا کہ آپ کیا کر رہی ہیں، یا یہ نہ کریں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’عام طور پر ماں کے ساتھ بچوں کی ہمدردی زیادہ ہوتی ہے، باپ سے توقعات ذرا زیادہ ہوتی ہیں۔ لیکن ٹوٹا ہوا گھرانہ، ٹوٹا ہوا گھرانہ ہی ہوتا ہے۔ میں خود بھی ایسے گھرانے کی پیداوار ہوں۔ میں آٹھ سال کی تھی جب گھر ٹوٹا۔ پھر میرے بچے بھی اسی سے گزرے۔‘

عتیقہ اوڈھو کا کہنا تھا کہ ’مجھے احساس ہوا کہ جب آپ نوجوانی میں ایک ٹراما (صدمے) سے گزرتے ہیں تو اس کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس لیے میں بچوں سے کہتی ہوں کہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں کیونکہ ٹراما کا چکر توڑنا بہت ضروری ہے۔‘

عتیقہ اوڈھو

’میاں بیوی کا ایک دوسرے کو سننا ضروری ہے‘

ثمر علی خان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک دوسرے سے بہت بات کرتے ہیں۔ ہمارے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے۔ دل میں چیزیں رکھنا صحت مند نہیں ہوتا۔‘

اس پر عتیقہ اوڈھو کا کہنا تھا ان کا ’بولنا، سننا اور سمجھنا ضروری ہے جس سے شادی کامیاب ہوتی ہے۔‘

عتیقہ کا کہنا تھا کہ وہ خود ایک سخت جان اور زور آور شخصیت ہیں لیکن ان کے شوہر خواتین سے ہمدردی رکھنے والے نرم مزاج انسان ہیں۔ دونوں ہی مشہور شخصیات ہیں تو دونوں پر اپنی ساکھ برقرار رکھنے کا اضافی دباؤ ہیں۔

ثمر علی خان کا کہنا تھا کہ ’ایک دوسرے کو عزت دیں، صاف شفاف تعلق ہو، ہر چیز واضح کر دیں، شک نہیں ہونا چاہیے۔ خاص طور پر خواتین کو بہت کھاتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

اس حوالے سے عتیقہ اوڈھو کا کہنا تھا کہ ’دوستی بہت ضروری ہے، اس عمر میں صبر ختم ہو چکا ہوتا ہے، میں صاف، دیانت دار اور دوستی چاہیے۔ اچھی بری دوستی ہونی چاہیے۔ شادی میں یہ اہم ہے۔‘

بڑھاپے میں ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے

عتیقہ اوڈھو کا کہنا تھا کہ ’اب تک ہماری کوئی بڑی لڑائی نہیں ہوئی۔ چھوٹی چھوٹی لڑائیاں ہوئی ہیں۔ حالانکہ میں کافی غالب شخصیت کی مالک ہوں۔ باوجود اس کے کہ ہمارے مختلف سیاسی نظریات تھے۔‘

’شروع میں لوگ حیران ہوئے کہ آپ دو الگ سیاسی جماعتوں کے لوگ ہیں تو میں نے کہا اگر آپ جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو ایک گھر میں کیوں نہیں۔ اب ضروری نہیں کہ شوہر ایک سیاسی جماعت کا ہے تو بیوی بھی پیچھے پیچھے اسی جماعت کی ہوجائے۔ جمہوریت یہ ہے کہ ایک گھر میں ہم مختلف سیاسی نظریہ رکھ سکیں۔‘

عتیقہ اوڈھو کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنے بڑھاپے کا بھی سوچا تھا۔ میں ان بچوں کو بتاؤں گی کہ جو سمجھتے ہیں کہ والدین بڑھاپے میں اکیلے رہیں تو نہیں اگر وہ کسی کے ساتھ زندگی بنانا چاہتے ہیں تو ان کی حوصلہ افزائی کریں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کیونکہ آپ کو اپنی اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں اور آپ کے بوڑھے ماں یا باپ جو اکیلے ہیں یا کسی دکھ میں ہیں تو انہیں کسی کے ساتھ زندگی بنانے دیں۔ بڑھاپے میں ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ورنہ وہ بچوں پر بھی بوجھ بن جاتے ہیں‘۔

اس پر ثمر علی خان کا شوہر کا کہنا تھا کہ ’بڑھاپا ایک ذہنی حالت ہے۔ میں ابھی وہاں گیا نہیں۔ لیکن ایک ساتھی ضروری ہے، زندگی کی دولت یادیں ہوتی ہے۔ ایسا نہیں کہ صرف بڈھے ہوگئے کسی کا ہاتھ پکڑ کے۔ جب تک مرتے نہیں یادیں بناتے رہیں۔ ‘

عتیقہ کا کہنا تھا کہ ’بروکن ہومز سے آنے والے بچے جب تعلق میں استحکام، اور خوشی دیکھتے ہیں تو بلا واسطہ ان پر اثر بھی آتا ہے۔ چاہے وہ اپنے ماں باپ کا تعلق نہ دیکھ رہے ہوں۔‘

عیقہ اوڈھو نے امید ظاہر کی کہ ’ہمارے کیس میں بچے دیکھ رہے ہیں تو شاید ان پر اس کا اچھا اثر پڑے۔ ‘