کے جی ایف 2، آر آر آر، پشپا: جنوبی انڈیا کی فلمیں جو بالی وڈ کو پیچھے چھوڑ رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہSCREENSHOT FROM YOUTUBE
- مصنف, شرانیا ہرشیکیش اور میرل سبیسٹیئن
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی
انڈیا میں دہائیوں تک ہندی زبان میں فلمیں بنانے والا بالی وڈ ہی اصلی سینما سمجھا جاتا تھا جبکہ دیگر زبانوں کی فلمی صنعت کو علاقائی تصور کیا جاتا تھا۔ لیکن کیا اب معاملہ کچھ حد تک بدل رہا ہے؟
گذشتہ ہفتے کنڑ زبان کی فلم، کے جی ایف 2 جسے کئی اور زبانوں میں بھی ڈب کیا گیا ہے، انڈیا بھر میں تقریباً ساڑھے چار ہزار سکرینوں پر ریلیز ہوئی۔ یہ تعداد عام طور پر بالی وڈ میں صرف سلمان خان جیسے سپر سٹارز کی فلموں تک محدود تھی۔
دو ہزار اٹھارہ میں ایک ایسے گینگسٹر کی زندگی پر بننے والی فلم، جس میں ہیرو سونے کی کان پر قبضے کی جنگ لڑتا ہے، کے سیکویل کے شاندار آغاز کے بعد ایسا لگتا ہے کہ یہ انڈین باکس آفس کی ایک بہت بڑی ہٹ فلم بننے والی ہے۔
کے جی ایف 2 سے کچھ ہی عرصہ قبل تیلگو زبان کی بلاک بسٹر فلم آر آر آر ریلیز ہوئی تھی جس کو دیکھنے کے لیے اب تک شائقین شمالی انڈیا کے سینما گھروں کا بھی رُخ کر رہے ہیں۔
تقریباً دو ماہ قبل تیلگو زبان کی ایک اور فلم، پشپا، نے بھی آن لائن سٹریمنگ ریلیز سے قبل ہندی سینما کے شائقین کو محظوظ کیا اور فلم کے ڈائیلاگ اور گانوں کا انسٹا گرام پر بہت چرچا ہوا تھا۔
دہائیوں تک انڈیا کے فلمساز ایسی فلمیں بنانے کی کوشش میں مصروف رہے جو ملک بھر میں چل سکیں اور سب کو پسند آئیں۔ انڈیا کی زبانوں اور ثقافتوں کے تنوع کو دیکھتے ہوئے یقیناً یہ ایک بڑا چیلنج تھا۔
چند تمل ڈائریکٹرز، جن میں منی رتنم اور شنکر شامل ہیں، کبھی کبھار ایسی فلم بنانے میں کامیاب ہو جاتے تھے جو وسیع تر قومی مسئلے پر توجہ دلاتیں یا پھر ایسی فلم جس میں ڈرامائی محبت کی کہانی ہو یا جس میں بڑے سٹارز کے ساتھ شاندار پروڈکشن شامل ہو۔
لیکن ایسی کامیابی کبھی کبھار ہی ملتی تھی۔ انڈیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہونے کے ناطے ہندی میں بنائی جانے والی بالی وڈ فلموں کا بڑا بجٹ ہوتا تھا کیوںکہ اسے دیکھنے والوں کی تعداد بھی بڑی ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسری زبانوں کی فلم انڈسٹری اتنا پیسہ لگانے کا خطرہ مول نہیں لیتی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سات سال قبل تیلگو زبان کی بلاک بسٹر فلم باہوبلی نے ایک دروازہ کھولا تھا جس کے بعد اب کے جی ایف 2، آر آر آر اور پشپا کی یکے بعد دیگرے کامیابی نے ایک نئی امید پیدا کر دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہMYTHRI MOVIE MAKERS
میڈیا کی ماہر ونیتا کوہلی خندیکر نے لکھا کہ انڈین سینما کے لیے اس سے اچھی خبر نہیں ہو سکتی۔ اس کا مطلب ہے کہ اور زیادہ ٹکٹ بکیں گے اور زیادہ کمائی ہو گی۔
فلم ناقد انوپما چوپڑا بھی اسے ایک خوش آئند تبدیلی قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنوبی فلم انڈسٹری بہت زبردست فلمیں بنا رہی ہے اور نئے لوگوں تک رسائی حاصل کر رہی ہے۔ ’میرے خیال میں مختلف انڈسٹریز کے درمیان مقابلہ انڈین سینما کو آگے لے کر جائے گا۔‘
دوسری جانب بالی وڈ کو دیکھنے والوں کا رجحان بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب آن لائن سٹریمنگ سروسز زور پکڑ رہی ہیں، انڈین سینما ان کو اپنی طرف توجہ دلانے کے لیے پہلے کی نسبت ایسی کم فلمیں بنا رہا ہے جن میں ہیرو کا کردار زندگی سے بھی بڑا ہوتا ہے یعنی ’لارجر دین لائف‘۔
لیکن جہاں کہانیوں اور پرفارمنس میں بہتری آئی ہے وہیں روایتی ناظرین کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو سمجھتی ہے کہ ان کو جو درکار ہے وہ انھیں نہیں مل رہا۔
اس سال ابھی تک بالی وڈ کی سب سے بڑی ہٹ فلم کشمیر فائلز ہے، جس میں کشمیر سے ہندو پنڈتوں کا انخلا دکھایا گیا ہے۔ اس فلم کو وزیرِ اعظم نریندر مودی سمیت انڈیا کے دائیں بازو کے سیاستدانوں کی حمایت حاصل ہے۔
گذشتہ دہائی میں انڈیا کی فلمی صنعت نے شاہ رخ خان، سلمان اور عامر خان جیسے سپر سٹارز پر اپنا انحصار ذرا کم کر دیا ہے۔ اب دیپیکا پڈوکون، عالیہ بھٹ، آیوشمان کھرانا اور راجکمار راؤ باقاعدہ طور پر انتہائی مضبوط سکرپٹ کی فلموں میں نظر آتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSCREENSHOT FROM YOUTUBE
فلمی صنعت کے تجزیہ کار کومل نہتا کے مطابق بالی وڈ کے شائقین اب بھی بلاک بسٹر فلمیں پسند کرتے ہیں۔ ہوا یہ ہے کہ جنوب کی فلمی صنعت اب انھیں بہتر سکرپٹ اور زبردست ویژیول ایفیکٹس کے ساتھ بنا رہی ہے۔
سلمان خان کی فلم رادھے، جو کہ عالمی وبا کی وجہ سے ایک سال تاخیر سے ریلیز ہوئی تھی، ایک فلاپ فلم ثابت ہوئی۔ حالانکہ اس میں بہت سی وہ چیزیں تھیں جو ان کی پہلی فلموں کی کامیابی میں کردار ادا کر چکی تھیں۔ فلم نقادوں نے اس کے فلاپ ہونے کی وجہ اس کے کمزور سکرپٹ اور روایتی کہانی کو قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے
چوپڑہ کہتی ہیں کہ ’مجھے لگتا ہے کہ ہندی سینما اپنی بڑی، کمرشل فلم کی نمائش میں سست ہو گیا ہے۔ وہ ستاروں پر بہت زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں۔ لیکن آسمان سے من و سلویٰ تبھی آتا ہے جب آپ ایک بڑے فلمی ستارے کو ایک زبردست سکرپٹ کے ساتھ لے کر آتے ہیں۔‘
تاہم، نہتا اصرار کرتے ہیں کہ بالی وڈ کو فکر نہیں کرنی چاہیے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’لوگ یہ کہنا پسند کرتے ہیں کہ بالی وڈ مر چکا ہے، سینما مر چکا ہے۔ لیکن حالیہ فلمیں جیسے سوریاونشی ہٹ رہی، گنگوبائی کاٹھیاواڑی نے بھی اچھا کام کیا اور کشمیر فائلز بلاک بسٹر رہی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ موجودہ پریشانی اس لیے ہے کہ پشپا، آر آر آر اور کے جی ایف 2 ایک دوسرے کے بہت قریب ریلیز ہوئی ہیں۔
’ایسا لگتا ہے کہ اس نے بالی وڈ کے اعتماد کو متزلزل کر دیا ہے اور درحقیقت اس کے ساتھ صنعت کے لوگوں کے بالی وڈ فلموں پر اعتماد کو بھی۔‘
کراس اوور فلم کا عروج راتوں رات نہیں ہوا۔
فلمی صحافی عاصم چھابڑا کہتے ہیں کہ سپائیڈرمین اور بیٹ مین جیسی بڑی ہالی وڈ فلموں کے ڈبڈ ورژن (وہ فلمیں جن پر بولی جانے والی انگریزی کی جگہ کوئی علاقائی آواز چلائی جاتی ہے) کو انڈیا بھر کے ناظرین نے پسند کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’اس سے پتا چلتا ہے کہ ڈب شدہ فلموں کے لیے سامعین موجود ہیں۔‘
سیٹلائٹ ٹی وی چینلز نے تقریباً ایک دہائی قبل ہندی میں ڈب کی گئی تیلگو فلموں کو ریلیز کرنا شروع کیا تھا۔ ان کی وجہ سے جنوبی انڈسٹری کے کئی اداکار شمالی انڈین ناظرین کی نظر میں آئے۔
تیلگو صنعت نے، جس نے 2015 میں باہوبلی جیسی فلم دی تھی، اب تک زیادہ تر کامیاب فلمیں ہی دی ہیں۔ تاہم وہ بھی اب بدلنا شروع ہو گئی ہے۔
مزید پڑھیے
صنعت پر نظر رکھنے والی والی صحافی سنگیتا دیوی کے کہتی ہیں کہ تیلگو ناظرین جہاں بڑے ستاروں والی فلموں کو، جن میں روایتی مصالحہ کے عناصر جیسا کہ رومانس، ایکشن، میلو ڈرامہ اور کامیڈی کا امتزاج ہو، ترجیح دیتے ہیں، وہیں نئے فلم سازوں نے ان میں اچھی کہانی سنانے کے انداز کو بھی ساتھ شامل کر لیا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’باہوبلی کے ہدایت کار ایس ایس راجامولی نے مگادھیرا اور ایگا جیسی فلموں کے ساتھ ایک نئی روایت ڈالی ہے، جہاں کہانی کے جذباتی مناظر اور کرداروں نے ایکشن کے سلسلے کو آگے بڑھایا ہے۔‘
صنعت اپنی پروڈکشن کے پیمانے کو بڑھانے میں بھی کامیاب ہوئی ہے، ڈب شدہ فلمیں پڑوسی تمل ناڈو میں کافی کامیاب رہیں، منافع میں اضافہ ہوا اور اس وجہ سے بجٹ میں بھی۔
دیوی کہتی ہیں کہ ’بیرون ملک تیلگو اور تمل آبادی بھی ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ میرے خیال میں اس سب نے بڑے بجٹ کے ساتھ فلمیں تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں، تاہم، تمام پر عزم کراس اوور فلمیں کامیابی حاصل نہیں کرتیں، جیسا کہ پربھاس کی رادھے شیام جیسی حالیہ فلم کی ناکامی سے پتہ چلتا ہے۔
اگرچہ ان کے بجٹ عام طور پر نسبتاً کم ہوتے ہیں، پھر بھی تمل اور ملیالم فلمی صنعتوں میں اچھے فلم سازوں کی ایک نئی فصل پیدا ہوئی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ناظرین، خاص طور پر سٹریمنگ پلیٹ فارمز تک رسائی رکھنے والوں کو، دیکھنے کے لیے بہترین مواد ملتا رہے گا۔
لیکن یہ پیشن گوئی کرنا مشکل ہے کہ مستقبل کیسا ہو گا۔ مثال کے طور پر کیا صرف بڑے ستاروں والی فلمیں ہی ہندوستانی تھیٹر کی کامیابی کی ضمانت ہو سکتی ہیں یا نہیں۔ چوپڑا کہتی ہیں کہ ابھی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ آیا ناظرین اس سے بھی چھوٹی ہندی فلمیں تھیٹروں میں دیکھنے کے لیے پیسے خرچیں گے، چھوٹی ڈب شدہ فلموں کو تو رہنے ہی دیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ابھی روایتی حکمت یہ ہے کہ لوگ کسی ایونٹ فلم کے لیے سینما گھروں میں آئیں گے، لیکن وہ چھوٹی فلموں کے لیے نہیں آئیں گے۔‘ تاہم انھوں نے مزید کہا کہ کشمیر فائلز کی کامیابی، جس میں کوئی بڑا فلمی ستارہ نہیں ہے، اس یقین کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔
بالی وڈ میں جنوبی ہٹ فلموں کے ریمیکس کی، جن میں سلمان اور شاہد کپور جیسے اداکاروں کو بہت پذیرائی ملی، تعداد بھی کم ہونے کا امکان ہے۔
چھابرا کہتے ہیں کہ ’اگر ہندی ناظرین ڈب شدہ ورژن تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، تو انھیں بالی وڈ ستاروں کو دوبارہ وہی فلم کرتے ہوئے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
چوپڑا کہتی ہیں کہ بطور ایک نقاد اور ناظر کے وہ دیگر فلمی صنعتوں کو بھی سپاٹ لائٹ (توجہ کا مرکز) میں دیکھ کر خوش ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’بالی وڈ نے کافی عرصے سے اس پر اجارہ داری قائم کی ہوئی ہے۔‘











