شوبز ڈائری: کنگنا رناوت کی صحافی کے ساتھ تلخ کلامی

کنگنا رناوت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناس بار کنگنا کا جھگڑا رتک روشن یا کرن جوہر سے نہیں بلکہ ایک صحافی جسٹن راؤ سے ہوا ہے
    • مصنف, نصرت جہاں
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

اداکارہ کنگنا رناوت کے تازہ ترین جھگڑے نے ایکتا کپور کی بالاجی موشنز پکچرز کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔

اس بار کنگنا کا جھگڑا رتک روشن یا کرن جوہر سے نہیں بلکہ ایک صحافی جسٹن راؤ سے ہوا ہے۔

کنگنا کی فلم 'ججمینٹل ہے کیا' کے گانے کے لانچ کے لیے وہ خود پریس کانفرنس میں تھیں کہ اچانک صحافی جسٹن راؤ پر برسنے لگیں کہ 'تم میرے خلاف باتیں لکھتے ہو۔'

یہ بھی پڑھیے

جواب میں صحافی نے کنگنا کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے پوچھا کہ ان کے پاس اس کا کوئی ثبوت ہو تو پیش کریں، کنگنا کے پاس کوئی ٹھوس جواب نہیں تھا مگر یہ بحث آہستہ آہستہ تلخ ہوتی گئی اور پریس کانفرنس میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔

تقریب کے بعد صحافیوں کی تنظیم نے کنگنا کے بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا جس پر ایکتا کپور نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے صحافیوں سے معافی مانگی اور لکھا کہ اس ایک واقعے کی وجہ سے ان تمام لوگوں کی محنت کو برباد نہ ہونے دیا جائے جو اس فلم کو بنانے میں کی گئی ہے۔

کنگنا رناوت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکنگنا کی فلم 'ججمینٹل ہے کیا' کے گانے کے لانچ کے لیے وہ خود پریس کانفرنس میں تھیں کہ اچانک جسٹن راؤ پر برسنے لگیں کہ 'تم میرے خلاف باتیں لکھتے ہو۔'

لیکن کنگنا نے معافی مانگنا تو دور کی بات سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں ایک بار پھر نہ صرف صحافیوں کو لتاڑا بلکہ انھیں مفت خوری اور سطحی بھی قرار دیا۔

آخر کنگنا کو ہو کیا گیا ہے انھیں اتنا غصہ کیوں آتا ہے؟ ان کے غصے نے فلم کی رلیز اور پروموشن پر اثر ڈالا تو فلم کی پروڈیوسر ایکتا کپور نے سنبھال لیا لیکن جب کنگنا کے غصے کا اثر ان کے اپنے کریئر پر پڑنے لگے گا تو کون سنبھالے گا؟

کنگانا کے اس واقعے پر گلوکارہ سونا مہا پاترہ نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں لکھا کہ 'جب خواتین جابرانہ نظام سے لڑتی ہیں، رکاوٹیں عبور کرتی ہیں اور پھر جیت جاتی ہیں تو یقیناً اِس چیز کا جشن منایا جانا چاہیے۔ اور اگر وہ بعد میں اُسی جابرانہ نظام اور دھونس جمانے والوں سے سارے ہتھکنڈے سیکھ کر خود بھی ایک بلا بن جاتی ہیں تو یہ بڑا المیہ ہوتا ہے۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

سونا مہا پاترہ کا کہنا درست ہے کہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو ہتھیار بنا کر خود دوسروں پر حملہ کرنا عقلمندی نہیں۔

ایک مساوی اور منصفانہ دنیا کی جدوجہد کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ ان کے جیسے بن جائیں جنھوں نے آپ کے ساتھ غلط کیا تھا۔ اب جب خواتین ہر پیشے میں مرودں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں تو امید یہی ہے کہ یہ وہ با اختیار اور مہذب انداز میں آگے بڑھیں۔

اب کنگنا اور ان کی بہن رنگولی ٹوئٹر پر سونا مہا پاترہ کا کیا حال کریں گی یہ جلدی ہی پتہ چل جائے گا۔

اس ہفتے 'لائن کِنگ‘ کا ہندی ٹریلر ریلیز ہوا جس میں شاہ رخ خان نے موسافا کے کردار کو آواز دی اور ان کے بیٹے آرین سِمبا کی آواز بنیں گے۔

لوگوں کو ٹریلر کافی پسند آ رہا ہے جس کے بعد شاہ رخ نے ٹوئٹر پر لوگوں سے سوال کیا کہ کیا آرین کی آواز ان سے ملتی ہے۔ زیادہ تر لوگوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ آرین کی آواز ہو بہو اپنے والد کے جیسی تھی خود شاہ رخ نے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ انھیں لگا کہ جیسے یہ انھی کی آواز ہو۔