شوبز ڈائری: تارہ کی رول ماڈل کون؟ اور مودی جی سے اکشے کمار کے معصوم سوالات

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, نصرت جہاں
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
کرن جوہر کی نئی دریافت تارہ سوتاریہ انکی فلم 'سٹوڈنٹ آف دی ایئر ٹو' کے مرکزی کرداروں میں سے ایک ہیں۔
حال ہی میں فلم کا ٹریلر ریلیز ہوا ہے اور لوگ کرن جوہر کے ان سٹوڈنٹس کے بارے میں سوشل میڈیا پر جم کر مذاق کر رہے ہیں۔
لیکن تارہ کہتی ہیں کہ انھیں ٹرولز سے پریشانی نہیں ہوتی بلکہ وہ اسے انجوائے کرتی ہیں۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن تارہ نے ساتھ میں یہ بھی کہہ دیا کہ انڈسٹری میں کنگنا رناوٹ ان کی رول ماڈل ہیں اور وہ انھیں بہت پسند کرتی ہیں کیونکہ کنگنا نے بغیر کسی مدد یا سہارے کے انڈسٹری میں اپنی جگہ خود بنائی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گذشتہ شوبز ڈائری یہاں پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کہا جاتا ہے کہ کرن جوہر اور کنگنا رناوٹ کے درمیان چھتیس کا آنکڑہ ہے۔ اب پتہ نہیں کہ کرن کی سٹوڈنٹ کی جانب سے کنگنا کی تعریف حقیقت ہے یا پبلِسٹی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جو بھی ہو، کرن کا تو پتا نہیں لیکن تارہ کی اس تعریف سے کنگنا کی روح اور انا کو بہت تسکین ملے گی اور کنگنا کی بہن رنگولی بھی کچھ عرصے کے لیے سوشل میڈیا کو بخش دیں گی جو عالیہ بھٹ کو للکار للکار کر تھک چکی ہیں۔
مودی جی اور آم
لیکن اس ہفتے کی سب سے دلچسپ خبر اکشے کمار سے متعلق رہی جنھوں نے ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی سے ایک 'غیر سیاسی' انٹرویو کیا جس میں اکشے نے ان سے بڑے ہی معصومانہ سوال کیے جیسے کہ وہ آم کھاتے ہیں یا نہیں اور اگر کھاتے ہیں تو کاٹ کر یا گھٹلی کے ساتھ۔
جواب میں مودی جی نے بھی بڑے بھولے انداز میں کہا کہ آم انھیں بہت پسند ہیں اور انھوں نے خوب آم کھائے ہیں کیونکہ ملک کے کسان بڑے دل والے ہیں اور اپنے باغ یا کھیتوں سے کھانے کا سامان مفت ہی دے دیا کرتے تھے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
معلوم نہیں یہاں مودی جی نے بیچارے کسانوں کا ذکر کیوں کیا جو پچھلے پانچ سال میں مالی بدحالی کے سبب خود کشیوں پر مجبور ہو گئے تھے اور جو اپنے چھوٹے چھوٹے مطالبات منوانے کے لیے دلی کے جنتر منتر علاقے میں اپنے مردہ ساتھیوں کی کھوپڑیوں میں اپنا پیشاب پی کر احتجاج کرتے رہے ۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مودی جی نے کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد کو اپنا دوست بتایا لیکن یہ نہیں بتایا کہ جب بی جے پی کے سینئیر رہنما مسلمانوں کو انڈیا سے نکال باہر کرنے کی دھمکی دیتے ہیں تو وہ خاموش کیوں رہتے ہیں۔
مودی جی نے بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ کی بات بھی کی کہ وہ انکے لیے اکثر بنگالی مٹھائی بھیجتی ہیں لیکن اس بارے میں کچھ نہیں بتایا کہ انڈیا کی ریاست آسام میں چالیس لاکھ مسلمانوں کو غیر ملکی بتا کر بنگلہ دیش دھکیلنے کی بات کو انکی پارٹی انتخابی موضوع کیوں بناتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEmpics
ارباز خان کا 'پِنچ'
ادھر ارباز خان نے حال ہی میں ایک چیٹ شو شروع کیا ہے جس میں انڈسٹری کے اہم شخصیات کے ساتھ گفتگو چٹ پٹی 'گوسپ' ہوتی ہے اور اسی مناسبت سے اس سیریز کا نام' پِنچ' رکھا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ارباز کہتے ہیں کہ ایک سپر سٹار کا بھائی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو آسانی سے کام مل جاتا ہے اور انھوں نے انڈسٹری میں جگہ بنانے کے لیے خود بہت محنت کی ہے۔
ارباز کہتے ہیں کہ وہ ستر فلمیں کر چکے ہیں اور انھیں اپنی خود کی صلاحیتوں پر کام مل رہا ہے، نہ کہ انکے بھائی کی فرمائش یا سفارش پر۔
لیکن یاد رہے کہ ارباز نے اب تک جتنی بھی فلمیں کی ہیں، ان میں سے وہی فلمیں کامیاب رہیں جن میں انکے بڑے بھئیا شامل تھے ۔












