انوشکا اور وراٹ کی شادی پر وطن پرستی کی بحث

،تصویر کا ذریعہInstagram
انڈیا کی اداکارہ انوشکا شرما اور کرکٹر وراٹ کوہلی نے ملک سے باہر اٹلی میں شادی کیا کی کہ وہ بعض لوگوں کے لیے 'ملک مخالف' ہو گئے۔
بیرونِ ملک شادی کی تقریب سے دولہا دلہن کے رشتہ داروں کو شکایت ہو یا نہ ہو لیکن انڈیا کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے بی جے پی کے رکن اسمبلی کو ان کا یہ فیصلہ ایک آنکھ نہ بھایا۔
بی جے پی لیڈر پنّا لال شاکیہ نے 'سکل انڈیا' کے ایک پروگرام میں کہا: 'شادی کی رسم کے لیے انڈیا میں جگہ نہیں ملی۔ غضب ہو گيا۔ ارے، کیا ہندوستان میں جگہ نہیں ملی۔ کیا ہندوستان اس قدر اچھوت ہے؟'
'اس ملک میں رام، کرشن، وکرمادتیہ اور یودھشٹر کی شادی ہوئی۔ آپ سب کی بھی شادی ہوئی ہے یا ہونے والی ہو گی۔ لیکن ہم میں سے کوئی بھی بیرون ملک نہیں جائے گا۔ پیسے اور شہرت یہاں کمائی جا رہی ہے اور شادی کے لیے اربوں روپے یہاں سے لے جائے گئے۔ ہندوستان کی سرزمین ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اس سے یہ واضح ہے کہ وہ محب وطن نہیں، وہ محب وطن نہیں ہیں۔
شادی اور وطن پرستی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Virushka__folyf
اٹلی میں انوشکا اور وراٹ کی شادی صرف بی جے پی کے ایم ایل اے کو ہی نہیں بلکہ بہت سے دوسرے لوگوں کو پسند نہیں آئی اور وہ اسے وطن پرستی سے جوڑ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
فیس بک پر 'آزاد بھارت' کے نام سے انوشکا اور وراٹ کوہلی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے یہ لکھا گیا: 'آپ اپنے ملک کے لوگوں فائدہ پہنچانے کے بارے میں تو خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے۔ آپ جیسے امیروں کے دل میں جس دن ایسے خیالات پیدا ہوں گے اس دن انڈیا دنیا کا امیر ترین ملک بن جائے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس پوسٹ کو 35 ہزار سے زائد افراد نے شیئر کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہFacebook
ایک صارف رام موہن جھا لکھتے ہیں: 'ہم نے ایسے لوگوں کو سر پر بٹھا رکھا ہے۔ یہ لوگ ملک کے لیے نہیں اپنے لیے کھیلتے ہیں اور سارے پیسے بیرون ممالک میں خرچ کرتے ہیں۔ انڈیا میں کیا نہیں ہے کہ انھیں بیرون ملک میں شادی کرنی پڑی؟
یہ بھی پڑھیں
بھیم ببلی بھانو نامی صارف نے لکھا: 'یہ لوگ یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے ملک کے لیے کتنے غیر ذمہ دار ہیں۔ ایسے لوگ وطن پرستی کی باتیں کیا کریں گے۔ انھیں صرف پیسے چاہیے۔'
سونو گپتا لکھتے ہیں کہ'اگر یہ لوگ انڈیا میں شادی کرتے ہیں تو لوگوں کو کام ملتا۔ انڈیا سے کمایا ہوا پیسہ انڈیا میں رہتا۔‘

،تصویر کا ذریعہAnushkar sharma/Twitter
سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ ان تصورات کے مخالف بھی نظر آئے۔
امت جان نامی صارف نے طنز کرتے ہوئے لکھا: 'کوہلی (آپ) انڈیا واپس آتے ہی بی جے پی کے رکن اسمبلی پنّا لال سے وطن پرستی کی سند لے لیں۔ تم اور انوشکا وطن پرست نہیں ہو!'
انوراگ اگروال نامی صارف نے لکھا کہ'جو لوگ وراٹ اور انوشکا کی ذاتی زندگی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ اگر ان لوگوں کو یورپ کی سیر کا انتظام کر دیا جائے تو یہ خود وہاں جائیں گے۔ کچھ لوگ ذاتی پسند کی بنیاد پر وطن پرستی اور قوم پرستی کی سند تقسیم کر رہے ہیں۔'










