ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد قُم کی جمکران مسجد پر سرخ پرچم کیوں لہرایا گیا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کی جانب سے ایران پر جمعے کی صبح حملے کیے گئے جس میں ایران کی 'جوہری تنصیبات اور فوجی اہداف' کو نشانے بنانے کا دعویٰ کیا گیا جس میں ملک کی فوج کی اعلیٰ قیادت سمیت معروف جوہری سائنسدان بھی ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی حملے کے بعد شعیہ مسلمانوں کے نزدیک خصوصی مذہبی اہمیت کے حامل شہر قم کی جمکران مسجد کے گنبد پر 'سرخ پرچم' لہرایا گیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا پر مسجد کے گنبد پر یہ پرچم لہرانے کے بعد درجنوں ایرانی شہریوں کے مسجد کے صحن میں جمع ہونے کی فوٹیج نشر کی گئی۔
اسرائیل کی جانب سے جمعے کو کیے گئے حملوں میں ایران کی فوج کے سربراہ اور پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ سمیت دیگر اہم شخصیات ہلاک ہوئی تھیں جس کے بعد ایران کی جانب سے جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں سے جوابی حملہ کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات جاری تھے۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو ایٹمی ہتھیاروں میں بدلنے کے قریب ہے اور یہ اس کی بقا کے لیے خطرہ ہے جبکہ ایران اس دعوے کی تردید کرتا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف سویلین مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
ایران میں اسرائیلی حملوں کے بعد خاصا غم و غصہ پایا جاتا ہے اور جمعے کی شب ایران میں مختلف مقامات پر ہونے والے احتجاج میں لوگوں کی جانب سے ان حملوں کی مذمت کی گئی تھی۔
اب جبکہ ایران نے اسرائیلی حملوں کے بعد جوابی کارروائی کی ہے تو آئیے جانتے ہیں کہ ایرانی شہر قُم کی ایک مسجد پر لہرائے گئے اس سرخ جھنڈے کی اہمیت کیا ہے، اور یہ کس چیز کی علامت ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لال جھنڈا کیوں لہرایا گیا؟
یہ پرچم اس سے قبل گذشتہ سال تہران میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کے بعد بھی بلند کیا گیا تھا۔
جنوری 2020 میں بغداد میں امریکی حملے میں پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر، جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد بھی یہ جھنڈا لہرایا گیا تھا۔
سرخ رنگ شیعہ مسلک میں شہدا کے خون کی علامت ہے اور سرخ جھنڈے کو عموماً مساجد پر یا مذہبی جلوسوں کے دوران خاص طور پر محرم کے مہینے میں لہرایا جاتا ہے۔
جمکران مسجد کے ثقافتی امور کے منتظم حجت الاسلام یاسین حسین عبادی کے مطابق مسجد میں اس جھنڈے کا استعمال نسبتاً نیا ہے۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے ساتھ سنہ 2020 کے ایک انٹرویو میں یاسین حسین عبادی نے کہا تھا کہ اس پرچم کو محرم میں سوگ کے پہلے دس دنوں کے دوران بلند کیا جاتا رہا ہے جب شیعہ مسلمان پیغمبر اسلام کے نواسے امام حسین ابن علی کے قتل کا سوگ مناتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس پرچم پر’یا الثالارات الحسین‘ کا جملہ درج ہے جس کا مطلب ہے ’حسین کے خون کا بدلہ لینے کے لیے اٹھو‘۔
امام حسین کو شیعہ مسلمانوں کے لیے مقدس ترین شخصیات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، وہ شیعہ نظریے میں انصاف کے اصول کی علامت ہیں۔ 680 عیسوی میں کربلا کی جنگ میں اموی خلیفہ یزید ابن معاویہ کی فوج نے انھیں قتل کر دیا تھا۔
حسین عبادی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو اس وقت یہ بھی بتایا تھا کہ ’جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی طرف سے شدید انتقام کا مطالبہ سننے کے بعد، ہم نے یہ پرچم بلند کیا ہے تاکہ دنیا کے تمام شیعہ مومنین اور دیگر افراد قاسم سلیمانی کے خون کا بدلہ لینے کے لیے اس کے گرد جمع ہو جائیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جمکران مسجد کی کیا اہمیت ہے؟
جمکران مسجد کی بنیاد ایک داستان سے وابستہ ہے۔
ایران میں اثنا عشری شیعہ اسلام کے ماننے والوں کے بارہویں امام، امام مہدی جمکران کے ایک متقی شخص حسن بن مثلہ کے خواب میں 393 ہجری (1002 عیسوی) میں ظاہر ہوئے اور انھیں حکم دیا کہ اس جگہ پر ایک مسجد تعمیر کی جائے اور اسے ایک ایسی جگہ قرار دیا جائے جہاں لوگ ان کے ظہور کے وقت نماز کے لیے جمع ہو سکیں۔
یہ مسجد قم کے ایک مضافاتی علاقے میں واقع ہے، جو شیعہ مسلمانوں کے لیے ایک مقدس شہر اور ایران میں اسلامی فقہ کا مرکز ہے۔
سنہ 1989 میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد مسجد کی سرکاری اہمیت میں اضافہ ہوا۔
اے ایف پی نے مسجد کی ویب سائٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا ک جنرل قاسم سلیمانی نماز پڑھنے کے لیے اکثر اس مسجد میں آتے تھے۔
گذشتہ تین دہائیوں کے دوران مسجد میں ایک بڑی توسیع ہوئی ہے، اب یہ پانچ گنبدوں والی مسجد ہے جو کہ شیعہ فن تعمیر میں ایک نادر نظیر ہے، کیونکہ زیادہ تر مساجد میں عام طور پر صرف ایک گنبد ہوتا ہے۔













