نیٹ فلکس ٹریلر: شہزادہ ہیری نے ’کہانیاں لیک اور پلانٹ‘ کرنے کو ’گندا کھیل‘ قرار دے دیا

netflix

،تصویر کا ذریعہNETFLIX

    • مصنف, شان کوگلن
    • عہدہ, شاہی نامہ نگار

شہزادہ ہیری نے نیٹ فلکس کے ہیری اینڈ میگھن سیریز کے نئے ٹریلر میں ’کہانیاں لیک کرنے اور انھیں پلانٹ کرنے‘ کے عمل کو ایک ’گندا کھیل‘ قرار دیا ہے۔

انھوں نے شاہی خاندان کے مردوں سے ’شادی کرنے والی خواتین کے درد اور تکلیف‘ کی بات کرتے ہوئے بظاہر اپنی اہلیہ میگھن اور والدہ شہزادی ڈیانا کا حوالہ دیا ہے۔

ایک تجزیہ کار سے جب اس ٹریلر کے دوران نسل سے متعلق مسائل کے بارے میں سوال ہوا تو انھوں نے جوڑے کے تجربے کے بارے میں کہا کہ ’یہ نفرت کی، نسلی امتیاز کی بات ہے۔‘ 

یہ سیریز جمعرات کو ریلیز ہو گی۔

اس سیریز کی مزید تین قسطیں، جن میں ڈیوک اور ڈچز کی شاہی زندگی کے بارے میں تفصیلات بتائی جائیں گی، 15 دسمبر کو ریلیز کی جائیں گی۔

نیٹ فلکس کی جانب سے اس شو کی ایج ریٹنگ 15 سال ہے اور نیٹ فلکس نے اس کے بارے میں یہ درج کیا ہے کہ یہ ’امتیازی سلوک‘ سے متعلق ہے۔

نیٹ فلکس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ٹریلر میں خاصے سخت بیانات دیے گئے ہیں جن سے شاہی خاندان کے حوالے سے کچھ اچھے بیانات کی توقع نہیں۔

اس میں ایسی کمنٹری بھی کی گئی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’دوسرے لوگوں کے ایجنڈا کے مطابق میگھن کے خلاف جنگ چھیڑ دی گئی۔‘

شہزادہ ہیری نے بکنگھم پیلس کی بالکونی میں شاہی خاندان کے سینیئر اراکین کی ایک تصویر کے بارے میں کہا کہ ’ہمارے خاندان میں درجہ بندی ہے۔ آپ کو معلوم ہوتا ہے خبریں لیک ہوتی ہیں لیکن کہانیاں پلانٹ بھی ہوتی ہیں۔‘

netflix

،تصویر کا ذریعہNetflix

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

شہزادہ ہیری اور میگھن، جو اب ’ورکنگ رائلز ‘ نہیں ہیں، کو آنجہانی ملکہ کی پلاٹینم جوبلی پر تاریخی بالکونی پر جگہ نہیں ملی تھی۔

گذشتہ ٹریلر میں پرنسز آف ویلز کیتھرین کا چہرہ دکھایا گیا تھا اور وہ اس دوران بہت ہی ساکت چہرے کے ساتھ بیٹھی ہیں۔ تازہ ترین ٹیزر میں بھی ان کی ایک تصویر ہے اور اس مرتبہ ان کے ساتھ کوئین کونسارٹ کیمیلا اور کاؤنٹس آف ویسکس سوفی بھی ہیں۔

اس چھ حصوں کی سیریز کے ٹریلر میں اس جوڑے کے شاہی خاندان، میڈیا اور عوام سے مشکل تعلق کی بات ہوئی ہے جو اس وقت ختم ہو گیا تھا جب ہیری اور میگھن امریکہ منتقل ہو گئے تھے۔

اس کہانی کا آغاز میگھن کو عوام کی جانب سے گرم جوشی سے استقبال کرنے سے ہوتا ہے اور انھیں شاہی ’راک سٹار‘ کا رتبہ دیا جاتا ہے۔

تاہم پھر بظاہر ’سب کچھ تبدیل ہو جاتا ہے‘، شہزادہ ہیری لیکس اور پلانٹڈ کہانیوں کی بات کرتے ہیں اور ایک تجزیہ کار ’نفرت‘ اور ’نسل‘ کا ذکر کرتے ہیں۔

ٹریلر میں میگھن کے تجربے کو شہزادی ڈیانا پر دباؤ سے منسلک کیا جاتا ہے اور میڈیا کی طرف سے ان کو دی گئی بے پناہ اور غیر ضروری توجہ کو تصویروں کے ذریعے دکھایا جاتا ہے۔ اس دوران میگھن کہتی ہیں کہ ’مجھے سمجھ آ گئی تھی کہ یہ میری حفاظت کبھی بھی نہیں کریں گے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

شہزادہ آخر میں کہتے ہیں کہ ’ہمیں مکمل سچ کے بارے میں علم ہے۔‘

یہ ڈاکیومینٹری دراصل جوڑے کی جانب سے شاہی ڈیوٹی سے پیچھے ہٹنے کے حوالے سے ’اندر کی کہانی‘ بتانے کی ایک کوشش ہے۔

شہزادہ ہیری اور میگھن نے بطور سینیئر شاہی اراکین اپنے عہدے سے پیچھے اترنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ایک سال بعد امریکی ٹاک شو کی میزبان اوپرا ونفری کو انٹرویو میں میگھن نے کہا تھا کہ شاہی خاندان میں زندگی اتنی مشکل ہو گئی تھی کہ کئی مرتبہ ’ان کا مزید زندہ رہنے کو دل نہیں کرتا تھا۔‘

یہ ٹریلر ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب شاہی خاندان سے متعلق نسل پرستی کا تنازع چل رہا ہے جس میں ایک سیاہ فام شاہی مہمان سے متعلق بیان زیرِ بحث ہیں۔

لیڈی سوزن ہسی، جو لیڈی سوزن ہسی کی گاڈ مدر ہیں، نے گذشتہ ہفتے اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا جب سستا سپیس فلاحی ادارے کی بانی نگوزی فلانی نے بتایا کہ ان سے ایک تقریب میں بار بار یہ پوچھا گیا کہ وہ ’اصل‘ میں کہاں سے آئی ہیں۔

شہزادہ ولیم کے ترجمان نے اس حوالے سے ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ ’نسل پرستی کی معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔‘