آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پنجاب میں پالتو شیروں پر پابندی: سینکڑوں شیر عام گھروں میں کیسے پہنچے اور اب ان کا مستقبل کیا ہو گا؟
- مصنف, عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
پاکستان کے شہر لاہور میں پالتو شیروں کے حملوں میں دو بچوں کے زخمی ہونے کے حالیہ واقعات کے بعد صوبہ پنجاب کی حکومت نے افزائش نسل کی غرض سے شیر پالنے کے اجازت نامے منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پنجاب کے شہر لاہور میں حال ہی میں شیروں کے حملوں کے دو واقعات پیش آئے ہیں۔ ایک واقعے میں ایک کمسن بچے کا بازو ایک پالتو شیر نے چبا ڈالا تھا اور زندگی بچانے کے لیے اس کا بازو کاٹنا پڑا تھا۔
دوسرے واقعے میں گلی میں موجود ایک بچی اس وقت زخمی ہوئی جب رکشے کے ذریعے کہیں منتقل کیا جانے والا ایک پالتو شیر باہر نکل آیا اور بچی پر حملہ آور ہو گیا۔ یہ اپنی نوعیت کے پہلے واقعات نہیں ہیں۔
لاہور میں اس سے قبل اس نوعیت کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں، جہاں رہائشی علاقوں کے اندر گھروں میں پالے ہوئے شیروں کے حملوں میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔
ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) پاکستان کی ڈائریکٹر بائیو ڈائیورسٹی عظمیٰ خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’شیر، چیتے اور تیندوے کی نوع کی بڑی بلیاں بنیادی طور پر جنگلی جانور ہیں جن کو سکھانا ممکن نہیں ہوتا۔‘
’چاہے وہ قید میں رکھے گئے پالتو ماں باپ ہی سے کیوں نہ پیدا ہوئے ہوں وہ جنگلی ہی رہتے ہیں، یہ ان کی جبلت میں ہے۔ اس لیے ان کو پالتو جانور کے طور پر گھروں میں رکھنا ناصرف اس جانور کے ساتھ ظلم ہے بلکہ انتہائی خطرناک بھی ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ جانور اتنے طاقتور اور خونخوار ہوتے ہیں کہ ان کے لیے انسان کو قابو میں کرنا یا ان پر غالب آنا کوئی مشکل نہیں ہے۔‘
عظمیٰ خان نے بتایا کہ صرف پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں بہت سے ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں ’جہاں پالتو شیر وغیرہ نے اپنے مالک ہی پر حملہ کر دیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈبلیو ڈبلیو ایف کی ڈائریکٹر بائیو ڈائیورسٹی پاکستان نے مزید بتایا کہ صوبہ پنجاب میں لگ بھگ 584 بڑی بلیوں کی نوع کے جانور موجود ہیں، ’جو لوگوں نے گھروں یا فارمز میں پالتو جانوروں کے طور پر پالے ہوئے ہیں۔ ان میں 358 شیر، 194 چیتے اور 10 جیگوار یا تیندوے شامل ہیں۔‘
تو سوال یہ ہے کہ اگر یہ جانور اتنے خطرناک ہیں اور ان کو سدھا کر پالتو جانور نہیں بنایا جا سکتا تو حکومت نجی طور پر ان کو پالنے یا ان کی افزائش نسلی کی اجازت ہی کیوں دیتی ہے؟ یہ کہاں سے لائے جاتے ہیں اور ان کو کن حالات میں رکھا جاتا ہے کہ یہ آزاد ہو کر لوگوں پر حملہ آور ہو جاتے ہیں؟
اب دیکھنا یہ بھی ہو گا کہ اگر حکومت ان کو پالنے یا افزائش نسل کرنے کے فارمز کے اجازت نامے منسوخ کرتی ہے تو اتنی بڑی تعداد میں شیروں اور چیتوں کو کیسے اور کہاں سنبھالا جائے گا؟
پاکستان میں لوگوں کے پاس اتنے شیر کہاں سے آئے؟
پاکستان کے شہر لاہور میں میاں ضیا نے رائل وائلڈ لائف فارم کے نام سے اپنا فارم بنا رکھا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ان کے فارم پر اس وقت 20 شیر موجود ہیں، جن میں افریکی شیر، سفید شیر اور چیتے وغیرہ شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ ان لوگوں میں شامل ہیں، جنھوں نے پہلی مرتبہ باہر سے شیر پاکستان درآمد کیے تھے، جو انھوں نے کینیڈا اور افریکہ سے منگوائے تھے۔
اس کے بعد انھوں نے اپنے فارم پر مقامی طور پر ان کی بریڈنگ یا افزائش نسل کروائی ہے۔
’یہ کوئی جنگلی شیر نہیں ہیں۔ یہ تمام کیپٹو بریڈ ہیں یعنی یہ قید کے اندر پیدا ہوئے اور بڑے ہوئے ہیں۔ ہمارا فارم پاکستان میں سب سے پرانا ہے۔ ہمیں تقریباً 22 سال ہو گئے ہیں۔ ہمارے پاس ان شیروں کی نسل پھر آگے بڑھی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اب پاکستان سے بہت کم لوگ شیر درآمد کر رہے ہیں۔ ’ایک شیر کو درآمد کرنے پر لگ بھگ 25 سے 30 ہزار پاکستانی روپے خرچ آتا ہے۔‘
میاں ضیا کے مطابق انھوں نے اپنے ’ایجوکیشنل مقاصد کے لیے اور اپنے شوق کے لیے شیر پال رکھے ہیں اور وہ انھیں مقامی طور پر فروخت نہیں کرتے۔‘
تاہم انھوں نے بتایا کہ ’پاکستان میں کچھ فارمز ایسے ہیں جنھوں نے کچھ برس قبل شیروں کے بچے مقامی طور پر فروخت کیے تھے۔‘
’کچھ وہاں سے اور کچھ دیگر ذرائع سے مقامی طور پر لوگوں کے پاس شیروں کے بچے آ گئے، جو انھوں نے غیر قانونی طور پر گھروں پر پال لیے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ گھروں کی چھتوں پر لوگوں نے شیر پالے ہوئے ہیں اور ان کو زنجیریں ڈال کر رکھا ہوا ہے۔‘
میاں ضیا کہتے ہیں ’یہ عمل بالکل غلط ہے۔‘
’یہ شیر ہے کوئی کتا یا بلی تو نہیں ہے کہ آپ اس طرح اس کو رکھیں۔ اس ہی قسم کے لوگوں کی وجہ سے وہ لوگ بھی مشکل میں آ جاتے ہیں جو تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے شیر پال رہے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے تمام تر قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے وائلڈ لائف محکمے کے مقرر کردہ سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز کے مطابق شیر پال رکھے ہیں۔
شیر کیسے اور کہاں رکھے جاتے ہیں؟
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی بیشمار ویڈیوز میں اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ شیروں کو اپنے ڈرائنگ رومز میں اپنے ساتھ رکھ کر بیٹھے ہیں یا انھوں نے گھروں کے اندر ہی ان کو زنجیروں سے باندھ رکھا ہے۔
بعض ویڈیوز میں بہت سے لوگ ان شیروں کے ساتھ تصاویر بنواتے یا ٹک ٹاک کی ویڈیوز بناتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
شیروں کے بریڈر اور رائل وائلڈ لائف فارم کے مالک میاں ضیا کہتے ہیں کہ ’یہ تمام عمل غیر قانونی ہیں کیونکہ قانون کے مطابق شیروں کو رہائشی علاقوں میں نہیں رکھا جا سکتا۔‘
’شیر پالنے سے پہلے وائلڈ لائف محکمے کے لوگ آتے ہیں، وہ باقاعدہ انسپیکشن کرتے ہیں اور پھر آپ کو لائسنس لینا ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہی آپ شیر پال سکتے ہیں اور وہ صرف فارم کے اندر جو کہ رہائشی علاقے سے باہر ہوتا ہے۔‘
ایس او پیز کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ محکمہ وائلڈ لائف کی طرف سے دی گئی ایس او پیز کے مطابق شیروں کے لیے بریڈنگ فارم کا رقبہ کم از کم دس ایکڑ ہونا چاہیے۔ ’ان کے لیے بنائے گئے انکلوژر یا پنجرے کی اونچائی کم از کم 12 فٹ ہونا ضروری ہے۔‘
میاں ضیا کے مطابق اس کے ساتھ ساتھ فارم کے اندر ’سکیورٹی کے انتظامات مکمل ہونا ضروری ہیں تا کہ اگر کوئی جانور غلطی سے بھی باہر نکل جاتا ہے تو وہ کوئی نقصان نہ کر پائے۔‘
ان کے مطابق دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ ’فارم پر ڈارٹ گن یا ٹرینکیولائزر گن موجود ہونی چاہیے تا کہ اگر کوئی شیر غلطی سے باہر نکل آئے تو اس کو ڈارٹ سے بیہوش کیا جا سکے اور واپس اس کے انکلوژر میں ڈال دیا جائے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’شیر پالنا ایک مہنگا شوق ہے کیونکہ ایک شیر ایک دن میں لگ بھگ دس سے بارہ کلو گوشت کھاتا ہے۔‘
’اس کے علاوہ اس کی دیکھ بھال کے لیے کم از کم دو ٹرینرز رکھنا لازمی ہوتا ہے۔ ان کی ضرورت اس لیے بھی ہوتی ہے کہ جب شیروں کو کھانا ڈالنے کا وقت ہوتا ہے تو اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ غلطی سے بھی ان کا انکلوژر کھلا نہ رہ جائے اور وہ باہر نہ آ سکیں۔‘
میاں ضیا سمجھتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے ان لوگوں کے خلاف ’کریک ڈاؤن بالکل درست ہے جو غیر قانونی طور اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شیروں کو رہائشی علاقوں میں یا پھر گھروں کے اندر پال رہے ہیں۔‘
اتنے خطرناک جانور کو پالنے کی اجازت کیوں دی جاتی ہے؟
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی ڈائریکٹر بائیو ڈائیورسٹی عظمیٰ خان کے مطابق صوبہ پنجاب میں جو 584 شیر اور چیتے وغیرہ پالتو جانوروں کے طور پر پالے جا رہے ہیں وہ صوبہ بھر کے 18 اضلاع میں موجود لگ بھگ 179 بریڈنگ فارمز سے آئے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’شیر، چیتے اور ان کی انواع کے دیگر جانور پاکستان کے مقامی جانور نہیں ہیں۔ یہ ایگزاٹک جانور ہیں یعنی یہ بیرون ممالک کی انواع ہیں، اس لیے ان کو درآمد کیا جاتا ہے۔‘
عظمی خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جنگلی حیات کے قوانین صرف مقامی انواع کے جانوروں کو حفاظت فراہم کرتے تھے، ’ایگزاٹک جانوروں کے لیے قوانین موجود نہیں تھے۔‘
ڈائیریکٹر بائیو ڈائیورسٹی ڈبلیو ڈبلیو ایف عظمی خان کے مطابق ’وائلڈ لائف محکمے والے لوگ کہتے تھے کہ یہ ان کا مینڈیٹ نہیں ہے اس لیے وہ ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لے سکتے۔‘
یوں آہستہ آہستہ لوگوں نے یہ شیر اور چیتے وغیرہ منگوا کر مقامی طور پر ان کی افزائش نسل شروع کر دی۔
عظمی خان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد وائلڈ لائف کے قوانین میں نظرثانی کی گئی اور اس میں انتظام کیا گیا کہ ’جو لوگ ان کو منگوا کر ان کی افزائش نسل کرنا چاہتے ہیں انھیں فارمز بنا کر وہاں ان کو پالنے کی اجازت دی جائے۔‘
عظمی خان کہتی ہیں کہ ان کا ادارہ ڈبلیو ڈبلیو ایف ان جانوروں کی اس قسم کی خرید و فروخت اور ان کو رہائشی علاقوں میں پالنے کے حق میں نہیں ہے اور اس کی مخالفت کرتا رہا ہے۔
’یہ خطرناک جانور ہیں جو حملہ آور ہو سکتے ہیں اور یہ جانوروں کی اپنی فلاح و بہبود کے لیے بھی درست نہیں ہے۔‘
کیا اجازت ناموں کی منسوخی سے گھروں پر شیر پالنے سے روکا جا سکتا ہے؟
حالیہ واقعات کے بعد پولیس اور وائلڈ لائف محکمے نے نجی طور پر شیر پالنے والوں اور شیروں کے بریڈنگ فارمز چلانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے، جس میں بہت سے شیر برآمد کر کے انھیں سفاری پارک بھجوایا گیا۔
ان کارروائیوں کے دوران بہت سی گرفتاریاں بھی ہوئیں جبکہ کچھ شیروں کو نجی بریڈنگ فارمز پر منتقل کیا گیا جو ایس او پیز کے تحت قانونی طور پر بنے ہوئے تھے۔
تاہم ان ہی میں سے ایک فارم پر یہ واقعہ پیش آیا جس میں شیر نے ایک بچے کا بازو چبا ڈالا۔
لاہور میں شیروں کے بریڈر میاں ضیا کہتے ہیں کہ یہ ایک افسوسناک حادثہ تھا اور ان کے خیال میں اس سے بچا جا سکتا تھا ’اگر محکمہ وائلڈ لائف کا کوئی نمائندہ وہاں اس فارم پر موجود ہوتا جہاں ان شیروں کو منتقل کیا گیا تھا۔‘
اس واقعے کے بعد صوبہ پنجاب کی وزیراعلی مریم نواز نے نوٹس لیتے ہوئے شیروں کے فارمز کے اجازت نامے ختم کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔
تاہم میاں ضیا سمجھتے ہیں کہ اجازت نامے منسوخ کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔
’جو فارمز بنے ہوئے ہیں وہ تو قانون کے مطابق تمام تر ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے شیر پال رہے ہیں۔ مسئلہ ان لوگوں کی طرف سے ہوتا ہے جو غیر قانونی طور پرگھروں میں شیر پالتے ہیں۔‘
ان کے خیال میں ایسے لوگوں کے خلاف ’حکومت کا کریک ڈاؤن بالکل جائز ہے۔‘ وہ کہتے ہیں ایسے لوگوں کے خلاف قوانین کو مزید سخت کیا جانا چاہیے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی ڈائریکٹر بائیو ڈائیورسٹی عظمی خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ برس پنجاب حکومت نے ایک پالیسی بنائی تھی، جس کے تحت ایک پبلک نوٹس کے ذریعے لوگوں سے یہ کہا گیا کہ جس کے پاس شیر ہیں وہ ڈکلیئر یا سامنے لائیں۔
’جو لوگ سامنے لے آئے ان کے لیے قانون کے اندر ایس او پیز موجود تھیں کہ وہ کس طرح شیر پال سکتے ہیں۔ اس میں انکلوژر وغیرہ کا سائز اور دیگر تمام چیزیں بتائی گئی تھیں۔ وہ اس کے مطابق شیر پال سکتے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ اس کے بعد جن لوگوں نے شیر ڈکلیئر نہیں کیے اور چھپائے ان کے خلاف کریک ڈاون کیا گیا اور بہت سے شیر اور ان کے بچے قبضے میں لے کر سفاری پارکوں اور چڑیا گھروں میں بھجوا دیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب بنیادی طور پر درست سمت میں چل رہی ہے اور ’اب اس پالیسی پر کام ہو رہا ہے کہ گھروں میں یا نجی طور پر شیر پالنے کے کام کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ اس کے لیے پالیسی پر کام ہو رہا ہے۔‘
عظمی خان نے بتایا کہ حکومت نے اس کے لیے کیپٹو وائلڈ لائف مینیجمنٹ کمیٹی کے نام سے ایک کمیٹی بنائی ہے اور ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان بھی اس کا رکن ہے۔ ’یہ کمیٹی اس پر کام کرے گی کہ گھروں اور رہائشی علاقوں میں فارمز سے شیروں کو مکمل طور پر کیسے ختم کیا جائے۔‘
اتنی بڑی تعداد میں شیر کہاں جائیں گے؟
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی ڈائریکٹر بائیو ڈائیورسٹی عظمی خان کے مطابق حالیہ کریک ڈاؤن کے اندر حکومت نے جو شیر قبضے میں لیے ان میں سے کچھ کو سفاری پارک وغیرہ میں بھجوایا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کریک ڈاؤن کے دوران شیروں کے فارمز کو سیل کیا گیا تھا جبکہ شیر ان کے اندر ہی رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا نئی پالیسی میں اس پر کام ہو رہا ہے کہ گھروں سے شیروں کو مکمل طور پر منتقل کرنا ہے۔
’اس کے لیے حکومت کے پاس حکومت کی طرف سے چلائے جانے والے لگ بھگ 20 سرکاری چڑیا گھر موجود ہیں، جہاں ان کو منتقل کیا جاتا ہے۔‘
تاہم اگر فارمز سے شیروں منتقل کرنا ہو تو اتنی بڑی تعداد میں شیر چڑیا گھروں میں تو نہیں رکھے جا سکتے۔ تو سوال یہ ہے کہ وہ کہاں جائیں گے؟
ڈائریکٹر بائیوڈائیورسٹی عظمی خان کے مطابق حکومت گذشتہ پالیسی پر نظرثانی کر رہی ہیں کیونکہ حالیہ حادثات سامنے آئے ہیں۔
’اس پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا تاہم ایک ممکنہ طریقہ یہ ہو سکتا کہ وہ فارمز جو قانونی تقاضے پورے کرتے ہیں، رہائشی علاقوں سے باہر ہیں اور مکمل ایس او پیز پر پورا اترتے ہیں ان کو پرائیویٹ سفاری میں تبدیل کر دیا جائے۔‘
’یہ پرائیویٹ سفاری مکمل طور پر ایجوکیشنل مقاصد کے لیے ہو اور عوام کے لیے کھلی ہو تا کہ لوگ وہاں آ سکیں، شیروں کے بارے میں جان سکیں اور خود دیکھ سکیں کہ انھیں کیسے رکھا جا رہا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ انسانوں کی حفاظت اور جانوروں کی فلاح و بہبود دونوں پر سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔