اسلام آباد میں گھریلو تشدد کے نئے قانون میں ’طلاق اور دوسری شادی کی دھمکی‘ قابل سزا جرم کیوں ہے؟

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

ایک نیا قانون منظور ہونے کے بعد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی حدود میں گھریلو رشتوں میں جڑے افراد کی ’مرضی کے خلاف ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے‘ یا ’بے بنیاد الزامات پر طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینے‘ جیسے اعمال قانوناً جرائم تصور کیے جائیں گے۔

ان کی سزا کم سے کم چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ تین سال تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی صورت میں ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی پارلیمان کے حالیہ مشترکہ اجلاس میں گھریلو تشدد کا بل یعنی ڈومیسٹک وائلینس ایکٹ 2026 پاس کیا گیا ہے جس کا اطلاق اسلام آباد کی حدود میں ہو گا۔

اسلام آباد کے لیے اس نئے قانون کے تحت چند ایسے ’اعمال‘ کو قابل سزا گھریلو تشدد کے زمرے میں لایا گیا ہے جنھیں روایتی طور پر پاکستان میں قانوناً قابل سزا جرائم تصور نہیں کیا جاتا تھا۔

ان ہی شقوں کو لے کر پاکستان میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بحث ہو رہی ہے جس میں بہت سے صارفین کا ماننا ہے کہ یہ قانون گھریلو رشتوں کے توازن میں خواتین کو ’غیر ضروری‘ یا ’بے بنیاد‘ اختیارات منتقل کرتا ہے۔

تاہم اس قانون کے حق میں بات کرنے والے بہت سے صارفین اس تاثر کی نفی کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ قانون درست انداز میں نئے دور کے ان اعمال کو جرائم کے زمرے میں لاتا ہے جو نفسیاتی اذیت کا سبب بنتے ہیں یا جن کا نتیجہ جسمانی یا جنسی تشدد کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

یہ قانون اور اس کی زیر بحث شقیں کوئی نئی پیش رفت نہیں ہے۔ چند برس قبل پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں اُس وقت کی انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری گھریلو تشدد کا ایسا ہی قانون اور ایسی ہی شقیں پارلیمان میں لا چکی تھیں۔

تاہم سنہ 2026 میں منظور ہونے والے قانون میں مزید چند تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ اس قانون کے تحت جو لوگ ریلیف حاصل کر سکتے ہیں ان میں ’خاتون، مرد اور بچے‘ کے علاوہ ’خواجہ سرا، معذور شخص یا عمر رسیدہ شخص‘ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

گھریلو تشدد کے اس قانون میں جسمانی اور جنسی تشدد کے ساتھ ساتھ بہت سے نفسیاتی اعمال اور زبانی اذیت کے پہلووں کو بھی قابل سزا گھریلو تشدد قرار دیا گیا ہے۔

جیسا کہ ’مرضی کے خلاف تعاقب، ہراساں کرنا، خاتون کی کردار کشی یا بیوی کو شوہر کے علاوہ کسی دوسرے کے ساتھ گھر میں رہنے پر مجبور کرنے‘ جیسی شقیں اس قانون میں گھریلو تشدد تصور کی گئی ہیں۔

گھریلو تشدد کے اس قانون میں کیا ہے؟

گھریلو تشدد کے سنہ 2026 کے قانون میں بہت سی شقیں پرانی ہی ہیں جیسا کہ جسمانی اور جنسی تشدد کی قانونی تعریف وغیرہ۔

تاہم قانون میں نفسیاتی تشدد اور زبانی اذیت کے بہت سے ایسے ’جدید دور کے پہلو‘ شامل ہیں جو ملک میں لاگو روایتی قوانین کی پکڑ میں نہیں آتے۔

اس قانون میں جن اعمال کو نفسیاتی تشدد اور زبانی اذیت کہا گیا ہے ان میں ’جنونیت کی حد تک بار بار حسد کا اظہار جس سے متاثرہ شخص کی پرائیویسی، راست بازی، آزادی یا سکیورٹی میں مداخلت ہو‘ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ’کسی کی بے عزتی یا تضحیک‘ کرنا اور ’شریک حیات یا گھر میں ساتھ رہنے والے کسی بھی فرد کو جسمانی تکلیف پہنچانے کی دھمکی دینا‘ بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔ گھر کی کسی خاتون یا کسی دوسرے شخص کی کردار کشی کرنا بھی نفسیاتی یا زبانی تشدد تصور ہو گا۔

اس کے علاوہ جان بوجھ کر یا اپنی ذمہ داری پوری نہ کرتے ہوئے کسی کو چھوڑ کر چلے جانا بھی اسی زمرے میں آئے گا۔ ’نفسیاتی اور زبانی تشدد‘ بھی چند ایسے پہلو ہیں جن پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بحث ہو رہی ہے۔

’طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی، تعاقب اور ہراساں کرنا‘

جن اعمال کو نفسیاتی اور زبانی تشدد کے زمرے میں لایا گیا ہے ان میں چند وہ بھی ہیں جو خاص طور پر سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں ’طلاق کی دھمکی دینا‘ ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر بہت سے صارفین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ’طلاق کی دھمکی دینا‘ کس طرح گھریلو تشدد کے زمرے میں آتا ہے؟

تاہم قانون میں صرف طلاق کی دھمکی نہیں کہا گیا۔ قانون میں کہا گیا ہے ’پاگل پن یا بانجھ پن کے بے بنیاد الزامات لگا کر طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی‘ دینا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ’سٹاکنگ‘ کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بہت سے صارفین ’سٹاکنگ‘ کو 'گھورنے' کے معنوں میں لے رہے ہیں، تاہم، گھورنا سٹیئرنگ کہلاتا ہے۔ سٹاکنگ کسی کا تعاقب کرنے یا اس قانون کے تناظر میں کسی کی مرضی کے خلاف اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے یا اس کا تعاقب کرنے کے زمرے میں آئے گا۔

بہت سے صارفین کا یہ بھی خیال ہے کہ ’بیوی کو شوہر کے علاوہ کسی دوسرے کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا‘ گھریلو تشدد شمار نہیں کیا جانا چاہیے۔

اس قانون میں گھریلو تشدد میں جنسی تشدد کو بھی شامل کیا گیا ہے اور قانون کے مطابق اس میں ہر وہ جنسی نوعیت کا طرز عمل شامل ہے جو کسی کمزور شخص کے خلاف ہو، اس کو نیچا دکھائے یا اس کے وقار میں کمی لائے۔

کیا اس قانون کی شقوں پر اعتراضات درست ہیں؟

فوزیہ وقار انسانی حقوق کی کارکن ہیں اور پنجاب کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومن کی چیئرپرسن بھی رہ چکی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اس قانون پر یہ تمام اعتراضات اور سوالات درست نہیں۔

فوزیہ وقار کہتی ہیں کہ یہ قانون صرف خواتین کے لیے نہیں ہے۔ اس کا اطلاق بچوں، بوڑھوں، خواجہ سراؤں، معذور افراد، بزرگوں اور گھر میں رہنے والے دیگر کمزور افراد کے تحفظ کے لیے ہو گا۔

وہ کہتی ہیں کہ اس قانون نے نفسیاتی تشدد کی اِن تمام صورتوں کو تفصیل سے پیش کیا ہے جن کا روزمرہ زندگی میں بہت سی عورتوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق ’طلاق اور دوسری شادی جیسی دھمکی ایک ایسی تلوار ہے جو ہمیشہ عورت کے سر پر لٹکائی جاتی رہی ہے۔ اب اگر وہ سمجھتی ہے کہ اس دھمکی سے اس کی صحت متاثر ہو رہی ہے یا وہ اس کو مزید برداشت نہیں کر سکتی تو وہ شکایت کر سکتی ہے۔‘

سٹاکنگ کے بارے میں انسانی حقوق کی کارکن فوزیہ وقار کہتی ہیں کہ بہت سی خواتین کو اس کی کئی شکلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ محض بیوی کا فون چیک کرنے یا اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے تک محدود نہیں۔

فوزیہ وقار کا کہنا تھا: ’ہمارے پاس ایسے کیس بھی آئے ہیں جن میں خاتون کو اُن کے شوہر چھوڑ چکے ہیں لیکن پھر بھی اُن کا پیچھا کرتے ہیں، تعاقب کرتے ہیں اور انھیں دھمکیاں دیتے ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ یہ واقعتاً نفسیاتی تشدد میں شمار ہوتا ہے اور عورت کی جان کو خطرے میں ڈالتا ہے۔

’بیوی ساس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو قانون حالات کا جائزہ لے گا‘

پنجاب کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومن کی سابق چیئرپرسن فوزیہ وقار قانون میں موجود یہ شق بھی درست سمجھتی ہیں جس کے تحت ’بیوی کو شوہر کے علاوہ کسی دوسرے کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا‘ گھریلو تشدد قرار دیا گیا ہے۔

ان کے مطابق: ’ایسا نہیں ہے کہ اگر کوئی خاتون اپنی ساس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتیں اور اُن کے شوہر کے پاس انھیں علیحدہ رکھنے کے وسائل نہیں ہیں، تو وہ تشدد کا الزام عائد کر دیں۔ قانون اُن کے حالات کا جائزہ لے کر تعین کرے گا کہ یہ گھریلو تشدد کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔‘

یعنی، فوزیہ وقار کے مطابق، دیکھا جائے گا کہ کیا خاتون پر کوئی تشدد کر رہا ہے، کیا وہ اُن کی ساس ہیں اور کیا شوہر کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ اس تشدد سے بچانے کے لیے اپنی بیوی کو علیحدہ گھر میں رکھ پائیں۔

’جان بوجھ کر یا ذمہ داری پوری نہ کرتے ہوئے چھوڑ کر چلے جانے‘ کو بھی اس قانون کے تحت نفسیاتی گھریلو تشدد قرار دیا گیا ہے۔ فوزیہ وقار کہتی ہیں تشدد کی یہ دونوں قانونی تعریفیں بنیادی طور پر عورتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے پاس اس طرح کے کیسز آ چکے ہیں جن میں شوہر بیوی کو چھوڑ کر چلے گئے اور ان کی کفالت چھوڑ دی۔

’ایک خاتون میرے پاس آئیں، شوہر اُن کو چھوڑ کر چلے گئے اور آٹھ سال تک واپس نہیں آئے۔ جب خاتون نے اخراجات پورے کرنے کے لیے حق مہر میں لکھا دو تین تولے سونا بیچا تو اُن کو دھمکی دی گئی کہ اگر وہ خلع لیں گی تو سونا واپس مانگ لیا جائے گا۔ انھیں جیٹھ اور ساس کے ساتھ جا کر رہنے پر بھی مجبور کیا گیا۔‘

فوزیہ وقار کے خیال میں دیگر صوبوں کے برعکس یہ قانون زیادہ مکمل ہے اور اس میں تمام پہلوؤں کی قانونی تعریف کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ قانون اس لیے بھی بہتر ہے کہ اِن تمام جرائم کو قابل سزا بناتا ہے۔